Inquilab Logo Happiest Places to Work

اسرائیل: جنگ کے دوران سائرن کا غلط استعمال، یہودی مفت اشیاء لے کر فرار

Updated: March 28, 2026, 3:09 PM IST | Tel Aviv

اسرائیل میں جاری جنگ کے دوران ایک حیران کن رجحان سامنے آیا ہے جہاں کچھ افراد مبینہ طور پر ہنگامی سائرن کو ذاتی فائدے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ چینل ۱۳؍ کی رپورٹ کے مطابق، بعض لوگ شاپنگ سینٹرز اور ریستورانوں میں سائرن بجنے کا انتظار کرتے ہیں، اور جیسے ہی خوف و ہراس پھیلتا ہے، وہ بل ادا کیے بغیر فرار ہو جاتے ہیں۔

Photo: X
تصویر: ایکس

جنگ کے ماحول میں جہاں ہر سائرن جان بچانے کا اشارہ ہوتا ہے، وہیں اسرائیل میں ایک تشویشناک رجحان سامنے آیا ہے جس نے معاشرتی رویوں پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ چینل ۱۳؍ کی رپورٹ کے مطابق، کچھ افراد مبینہ طور پر ہنگامی سائرن کے لمحوں کو ذاتی فائدے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ شاپنگ سینٹرز اور ریستورانوں میں موجود چند لوگ جان بوجھ کر اس وقت کا انتظار کرتے ہیں جب سائرن بجتا ہے، جس کے بعد ہر طرف خوف و ہراس پھیل جاتا ہے اور لوگ فوری طور پر محفوظ مقامات کی طرف بھاگتے ہیں۔ اسی افراتفری کے دوران، یہ افراد موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بغیر بل ادا کیے وہاں سے نکل جاتے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: ایران کا دو ٹوک مؤقف، امریکہ پر جنگی جرائم کا الزام، ہرمز پر اختیار کا اعلان

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ واقعات الگ تھلگ نہیں بلکہ ایک بڑھتے ہوئے پیٹرن کا حصہ بن رہے ہیں، جو جنگی حالات میں سماجی ذمہ داری کے فقدان کی نشاندہی کرتا ہے۔ ماہرین کے مطابق، ایسے رویے نہ صرف کاروباری اداروں کے لیے مالی نقصان کا باعث بنتے ہیں بلکہ یہ اجتماعی اعتماد کو بھی کمزور کرتے ہیں، خاص طور پر ایسے وقت میں جب معاشرہ پہلے ہی شدید دباؤ اور خوف کا شکار ہوتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: امریکی کانگریس میں بغاوت، ایران جنگ پر واک آؤٹ

جنگی صورتحال میں سائرن کا مقصد شہریوں کو فوری خطرے سے آگاہ کرنا اور ان کی جان بچانا ہوتا ہے، لیکن اس کا غلط استعمال ایک خطرناک رجحان بن سکتا ہے جو ہنگامی نظام کی سنجیدگی کو متاثر کرتا ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر ایسے واقعات میں اضافہ ہوتا رہا تو یہ نہ صرف قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے ایک نیا چیلنج بن سکتا ہے بلکہ اس سے جنگ کے دوران شہری نظم و ضبط پر بھی منفی اثر پڑ سکتا ہے۔ یہ صورتحال اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ بحران کے لمحات میں جہاں انسانی ہمدردی اور یکجہتی کی ضرورت ہوتی ہے، وہیں بعض عناصر ذاتی مفاد کو ترجیح دیتے ہوئے پورے نظام کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK