اسکول بس کے مالکان اپنی گاڑیاں فروخت کرنے پرمجبور

Updated: October 25, 2021, 10:20 AM IST | Mumbai

بس مالکان کا کاروبار ٹھپ،اسکول بندہونے سے تقریباً ایک ہزار ڈرائیوروںنے دیگر کمپنیوںمیں ملازمت کرلی

The bus owners are facing difficulties.Picture:INN
بس مالکان کو دشواریوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ تصویر: آئی این این

کورو ناوائر س کی وباء اور لاک ڈائون سے گزشتہ ۲۰؍مہینوں کی معاشی مندی کے سبب ایک ہزار سے زیادہ اسکول بس ڈرائیوروں نے بےروزگاری سے پریشان ہو کر بی ای ایس ٹی اور پرائیویٹ کمپنیوںمیں ملازمت اختیارکرلی ہے۔اسکول بس اوونرس اسوسی ایشن ممبئی کے صدر انل گرگ نے انقلا ب کو بتایاکہ’’ اسکولوں کےبندہونے سے بس  مالکان کا کاروبار بری  طرح متاثرہو اہے۔ اس لئے متعدد بس مالکان نے اس کاروبار کو بندکرنےکا فیصلہ کیا ہے ۔ تقریباً ۵۰۰؍اسکول بس فروخت کرنے کیلئے نکالی گئی ہیں کیونکہ ان بسوںکےمالکان اب کاروبار نہیں کرناچاہتےہیں ۔ان کے علاو ہ دیگر بس مالکان بھی اس کاروبار سےمایوس ہوکر بس فروخت کرنےکا منصوبہ بنارہے ہیں ۔ایک تو ڈیڑھ پونے دو سال سے اسکول بندہونے سے کاروبار خراب ہوگیاتھا۔ اب اسکول شروع  کئے گئےہیں مگر اسکول بس کیلئے جو اسٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجر جاری کیاگیاہے وہ بس مالکان کیلئے موافق نہیں ہیں۔ صرف ۵۰؍فیصد طلبہ کو سفرکرنےکی اجازت دی گئی ہے ۔ اس سے مزید پریشانی بڑھ گئی ہے ۔آمدنی کے بجائے نقصان ہونے کا خطرہ ہے ۔ اس لئے بس مالکان اس کاروبار کو ہی بند کرنےپر مجبورہیں۔  انل گرگ نےمز یدکہاکہ ’’ اسکول بس کا کاروبار دھیرے دھیرے کم ہورہاہے  جس کی وجہ سے بس اور ڈرائیور دونوں کی کمی محسوس ہورہی ہے۔ حالانکہ حکومت سے متعدد مرتبہ مدد کی اپیل کی جاچکی ہے مگر حکومت نے ہماری طرف سے توجہ ہٹا رکھی ہے ۔اسکول بس پر بطور معاون کام کرنےوالے تقریباً ۸؍ہزار افراد کو گزشتہ ۱۸؍ مہینے سےتنخواہ نہیں ملی ہے ۔ اب اسکول کے دوبارہ شروع ہونے پر انہیں کچھ رقم ملنے کی اُمید ہے۔ جن ڈرائیوروںنے بی ای ایس ٹی اور پرائیویٹ کمپنیوں میں ملازمت اختیار کی ہے انہیں کم ازکم ماہانہ ۲۴؍ہزار روپے تنخواہ مل رہی ہے  جس کے ذریعے وہ اپنی فیملی کا خرچ پورا کررہےہیں۔‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK