یکم فروری سے اسکول بس سرو س بحال کئے جانےکا امکان

Updated: January 25, 2022, 8:47 AM IST | saadat khan | Mumbai

بس سروس کیلئے والدین کو ۳۰؍فیصد زیادہ فیس اداکرنی ہوگی، بسوں کی مرمت اور سروس کروانےکے ساتھ ڈرائیوراور معاونین کی تقرری کا عمل جاری ، روڈ ٹیکس کے معاف کئے جانے کےباوجود سرکیولر نہ جاری کئے جانے سے آر ٹی او والے فٹنس سرٹیفکیٹ کیلئے اپائنٹمنٹ نہیں دے رہے ہیں ، بس مالکان پریشان ہیں

The bus service for students is expected to start next month due to resumption of offline classes.
آف لائن پڑھائی دوبارہ شروع کئے جانے کے سبب طلبہ کےلئے بس سروس آئندہ ماہ سے شروع کئے جانے کی امید ہے۔

:کورونا سےگزشتہ ۲؍سال سے بند اسکول بس سروس کے یکم فروری سے بحال ہونےکا امکان ہے  ۔حالانکہ بس سروس کیلئے والدین کو ۳۰؍فیصد زیادہ فیس اداکرنی ہوگی۔ بسوں کی مرمت اور سروس کروانےکے ساتھ ڈرائیوراور معاونین کی تقرری کا عمل تیزی سے جاری ہے۔بس سروس کے بحال ہونے سے ممبئی سمیت ریاست کے لاکھوں افرادکو روزگار ملنےکی اُمید ہے۔حکومت کی طرف سے روڈ ٹیکس کے معاف کئے جانے کے باوجود سرکیولر نہ جاری کئے جانے سے آر ٹی او والے فٹنس سرٹیفکیٹ کیلئے اپائنٹمنٹ نہیں دے رہے ہیں  جس سے بس مالکان پریشان ہیں۔
  واضح رہےکہ اسکول بس سروس کے مالکان پوری قوت کے ساتھ یکم فروری سے اپنی خدمات پیش کرنےکی تیاری میں مصروف ہیں۔ کورونااور لاک ڈائون کے سبب گزشتہ ۲؍سال سے بند اسکول  پیر سے آف لائن کھول دیئے گئےہیں ۔ اس لئے اسکول بس مالکان بھی اپنی خدمات پیش کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔ ۲؍سال سے کھڑی بسو ںکی مرمت اور ان کی سروس کا کام جنگی پیمانے پر جاری ہے۔ علاوہ ازیں ڈرائیوروںاور معاونین کی تقرری کی جارہی ہے تاکہ یکم فروری سے بس سروس بحال کی جا سکے۔کووڈ ۱۹؍ کی وجہ سے جن لاکھو ں ملازمین کی رو زی روٹی چھن گئی تھی ان کیلئے روزگار کا ذریعہ پیداہونےکی اُمید بن گئی ہے لیکن بس سروع کی فیس میں ۳۰؍فیصد کے اضافے سے والدین اور سرپرستوںمیں بے چینی پائی جارہی ہے۔
  اسکول بس اوونرس اسوسی ایشن (مہاراشٹر )کے صدر انل گرگ نے انقلا ب سے بات چیت کرتےہوئےکہاکہ ’’ اس سے قبل بھی آف لائن اسکول شروع کئے گئے تھے مگر بس سروس کے نہ ہونے سے اسکولو ںمیں طلبہ برائے نام آرہے تھے۔ اس لئے ہم نے فیصلہ کیاہے کہ اس مرتبہ جلد ازجلد بس سروس بحال کی جائےتاکہ زیادہ سے زیادہ طلبہ اسکول پہنچ سکیں۔ کورونا کےسبب گزشتہ ۲؍سال سے ہمارا کاروبار بند ہےجس سے ہمارا بڑا نقصان ہواہے ۔ علاوہ ازیں ایندھن بھی کافی مہنگا ہوگیاہے ۔ اس لئے بس سروس کی فیس میںکم ازکم ۳۰؍فیصد کا اضافہ ضروری ہے ۔ یوں بھی عام دنوںمیں ہرسال بس کی فیس میں ۱۰؍فیصد کا اضافہ ہوتا ہی ہے ، یہ کوئی نئی بات نہیں ہے بلکہ ۵۰؍ سال سے یہ سلسلہ جاری ہے ۔ اس مرتبہ ۳۰؍فیصد کا اضافہ اس لئے کیا جا رہا ہے کیونکہ ۲؍سال سے بس سروس بندہے علاوہ ازیں ایندھن کی قیمت بھی کافی بڑھ گئی ہے ، ہم مجبور ہیں۔ بس کی فیس کے فارم کو پُرکرنےکا عمل اسکولوںمیں شروع کردیاگیاہے۔ علاوہ ازیں ڈرائیوروں اور معاونین کی تقرری جاری ہے۔ ۲؍سال سے راستوںپر کھڑی بسوںمیں سے بیشتر کی حالت خراب ہوگئی ہے۔  ان کی مرمت اور سروس کروائی جارہی ہے۔ ‘‘
  انہوںنےیہ بھی بتایاکہ ’’ ہم اپنے طو رپر پوری تیاری کر رہےہیں مگر آرٹی او والے بہت پریشان کررہےہیں ۔کووڈ کی وجہ سے حکومت نےیکم اپریل ۲۰۲۰ءتا ۳۱؍مارچ ۲۰۲۲ء تک موٹر وہیکل ٹیکس معاف کرنےکا اعلان توکردیاہے مگر اس ضمن میں سرکیولر جاری نہیں کیاہے ۔اس لئے آرٹی او والے فٹنس سرٹیفکیٹ کیلئے اپائنٹمنٹ نہیں دے رہےہیں ۔ ایسی صورت میں اگر فٹنس سرٹیفکیٹ نہیں ملتا ہے تو ہم بغیر سرٹیفکیٹ بس سروس فراہم کرنے پر مجبورہوںگے۔اس تعلق سے ٹرانسپورٹ کمشنر کو مکتوب روانہ کرکے سرکیولر جاری کرنےکی اپیل کی گئی ہے ۔‘‘ واضح رہےکہ ممبئی شہر ومضافات میں تقریباً ۵۰؍ ہزار اسکول بس ہیں جن سے ڈیڑھ لاکھ لوگو ں کی روزی روٹی جڑی ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK