فرانس میں ہائی اسکولوں کی ناکہ بندی جاری ہے کہ جبکہ احتجاج یونیورسٹیوں تک پھیل گیا، پیرس میں کم از کم۲۷؍ ہائی اسکولوں کو خلل کا سامنا کرنا پڑا،ساتھ ہی سین-سینٹ-ڈینس ڈیپارٹمنٹ میں ایک ہائی اسکول کے گیٹ کے قریب کچرے میں بڑی آگ لگائی گئی۔
EPAPER
Updated: October 01, 2026, 6:05 PM IST | Paris
فرانس میں ہائی اسکولوں کی ناکہ بندی جاری ہے کہ جبکہ احتجاج یونیورسٹیوں تک پھیل گیا، پیرس میں کم از کم۲۷؍ ہائی اسکولوں کو خلل کا سامنا کرنا پڑا،ساتھ ہی سین-سینٹ-ڈینس ڈیپارٹمنٹ میں ایک ہائی اسکول کے گیٹ کے قریب کچرے میں بڑی آگ لگائی گئی۔
فرانس میں ہائی اسکولوں کی ناکہ بندی جاری ہے کہ جبکہ احتجاج یونیورسٹیوں تک پھیل گیا، پیرس میں کم از کم۲۷؍ ہائی اسکولوں کو خلل کا سامنا کرنا پڑا،ساتھ ہی سین-سینٹ-ڈینس ڈیپارٹمنٹ میں ایک ہائی اسکول کے گیٹ کے قریب کچرے میں بڑی آگ لگائی گئی۔مزید برآںنیس میں، تین ہائی اسکولوں کے طلبہ کو بھی اسی اسکول کے باہر جمع ہونے کے لیے بلایا گیا۔اس کے علاوہ لیون میں ہائی اسکول کے کئی سو طلبہ اکٹھے ہوئے جہاں نقل و حرکت کو بے مثال بتایا گیا، جس میں سابق طلبہ بھی شامل تھے۔ اگرچہ کارروائیاں پرامن رہیں،تاہم پولیس افسران قریب ہی تعینات تھے۔
رہون ڈیپارٹمنٹ میں بھی۲۷؍ اسکول اس خلل سے متاثر ہوئے۔ لیون میں کئی ہائی اسکولوں کے قریب مارٹر آتش بازی کی اطلاع ملی جبکہ پریفیکچر نے ایک اور اسکول کے اگلے حصے میں آگ لگنے کی بھی اطلاع دی۔لیل میں بھی رکاوٹیں کھڑی کی گئیں اور آگ لگائی گئی۔بعد ازاں ہائی اسکولوں کے ساتھ ملک بھر میں۱۵؍ سے زیادہ یونیورسٹیاں بھی بلاک کر دی گئیں۔ یہ تحریک مبینہ طور پر یونیورسٹی آف اسٹراسبرگ، ایکس-مارسیل یونیورسٹی، یونیورسٹی آف پوئٹیئرز اور پال-ویلری یونیورسٹی کے مرکزی کیمپس تک پھیل گئی۔
یہ بھی پڑھئے: امریکہ: تارکین وطن کو تیسرے ملک بھیجنے کی اجازت
دریں اثناء حکام نے تشدد میں اضافے اور درجنوں زخمیوں کی اطلاع دی، ناکہ بندی جاری رہنے کے باعث بدھ کو کم از کم۶۲۵؍ افراد کو گرفتار کیا گیا۔وزیر داخلہ لارینٹ نونیز نے کہا کہ گرفتاریاں ہائی اسکولوں کی ناکہ بندی کی کارروائیوں کے دوران ہوئیں، انہوں نے تحریک کی توسیع اور کچھ اداروں کے ارد گرد تشدد میں اضافے کی بھی اطلاع دی۔اس تحریک میں کم از کم۳۲؍ طلبہ یا تعلیمی عملے کے اراکین زخمی ہوئے، جبکہ داخلی سلامتی فورسیز کے ۸۳؍ اراکین بھی زخمی ہوئے۔
واضح رہے کہ طلبہ بھری ہوئی کلاسوں اور شیڈول کے ساتھ اساتذہ کی کمی کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔