منگل سے روانہ ہونے والے عازمین حج کرنے کے بعد مدینہ طیبہ جائیں گے۔ممبئی ایئرپورٹ پر نُسُک کارڈ کی تقسیم بند۔ ممبئی سے آخری پرواز ۲۰؍مئی کو ۔
حج ہاؤس۔ تصویر:آئی این این
دوسرے مرحلے میں منگل سے ممبئی سے عازمین کی جدہ روانگی شروع ہوگئی۔ ۵؍مئی سے آخری پرواز تک عازمین اب جدہ جائیں گے ۔یہ عازمین حج بیت اللہ کی سعادت سے سرفراز ہونے کے بعد مدینہ طیبہ جائیںگے۔ اس سے قبل ۱۸؍ اپریل سے جب عازمین کی روانگی کا عمل شروع ہوا تھا توتمام پروازیں مدینہ طیبہ کےلئے روانہ ہورہی تھیں۔ پہلے مرحلے میں اب تک مجموعی طور پر۵۰؍ پروازوں سے جانے والے عازمین شیڈو ل کے مطابق مدینہ طیبہ پہنچ کر اپنا وقت گزارچکے ہیں۔ اب حج اور اس کے بعد کے ایام وہ مکہ مکرمہ میں ہی گزاریں گے، ان کی وطن واپسی جدہ سے ہوگی۔ دوسرے مرحلے میں روانہ ہونے والے حجاج ، حج کے بعد مکہ مکرمہ میںطے شدہ شیڈول کے مطابق قیام کریں گے، اس کے بعدمدینہ طیبہ جائیں گے اور مدینہ طیبہ سے ہی ان کی وطن واپسی ہوگی ۔
یہاں اس طرح ترتیب رکھی جاتی ہے کہ حجاج کی کثرت کے باوجود کسی طرح کا مسئلہ نہ ہو اور آسانی سے عبادت اور بارگاہ رسالت میںحاضری ہوسکے ۔
ممبئی سےعازمین ِ حج کی آخر ی پرواز ۲۰؍ مئی کو روانہ ہوگی ، یہی ملکی سطح پر حج کمیٹی آف انڈیا کے ذریعے جانے والے ایک لاکھ ۲۲؍ ہزار ۵۰۰؍عازمین حج کی آخری پرواز ہوگی۔ حج کمیٹی آف انڈیا کے سی ای او شہنواز سی کا کہنا ہے کہ تمام عازمین کو پہلے ہی ان کی روانگی اور واپسی کا شیڈول بتادیا گیا ہے کہ کتنے عازمین پہلے مرحلے میں مدینہ طیبہ جائیں گے اور کتنے جدہ روانہ ہوں گے۔ چونکہ شیڈو ل کے مطابق ہرعازم کومدینہ طیبہ میںکم ازکم ۸؍دن قیام کرنا ہوتا ہے اور۴۰؍ نمازیںادا کرنی ہوتی ہیں، بسا اوقات کچھ حجاج کو ایک دو دن زائد بھی قیام کا موقع مل جاتا ہے۔ ان کا انحصا رشیڈول پر ہوتا ہے۔ اسی طرح حج کے دوران مجموعی طور پر ۴۰؍ دن یا اس سے چند دن زائدقیام کا مجموعی شیڈو ل ہوتا ہے ۔
ممبئی امبارکیشن پوائنٹ پر عازمین کو نُسُک کارڈ تقسیم کیا جارہا تھا لیکن اب اس کی تقسیم بند کردی گئی ہے اورعازمین کو جدہ ایئرپورٹ پردیا جائے گا ۔ اس کی وجہ معلوم کرنے پر بتایا گیا کہ چونکہ پورے ملک میں صرف ممبئی ایئرپورٹ پر نُسُک کارڈ تقسیم کرنے کا عمل تجرباتی بنیادوں پرشروع کیا گیا تھا ۔ اس کیلئے باقاعدہ سعودی حکومت کی جانب سے عملہ آیا تھا ، چند ہزار کارڈ کی تقسیم کےبعد یہ سلسلہ بند کردیا گیا۔ اب عازمین کو سعودی عرب میں ایئرپورٹ پر یہ کارڈ مہیا کرایاجائے گا۔ یہ بھی بتایا گیا کہ اگر تجربہ کامیاب رہتا تو آئندہ سال پورے ملک میںاسے نافذکیا جاتا اوریہیں سے شروع کرکے دیا جاتا تاکہ عازمین حجاز مقدس پہنچنے کے بعد اس کی مدد سے حرمین شریفین میں حاضری اور ریاض ا لجنہ وغیرہ میںنمازوں کی ادائیگی اوردیگر تفصیلات جان لیتے ۔ ابتداء میں نیٹ ورک کا کچھ مسئلہ پیدا ہوا تھا لیکن اسے فوری طور پر حل کرلیا گیا تھا ۔ جتنے کارڈ تقسیم کئے گئے ہیں، ان کاتجربہ کامیاب رہا۔ اس لئے آئندہ سال کیا ترتیب ہوگی، اس کے تعلق سے بعد میں وضاحت کی جائے گی ۔