پیگاسس کےخلاف سینئرصحافی اورششی کمارکورٹ پہنچے جج کےذریعہ آزادانہ جانچ کی اپیل

Updated: July 28, 2021, 7:45 AM IST | New Delhi

بنیادی حقوق اوراداروں کی آزادی پر حملہ قرار دیا ۔حکومت کی بے حسی کے باوجود اپوزیشن بھی ہار ماننے کو تیار نہیں، پارلیمنٹ   میں لگاتار چھٹے دن احتجاج،راجیہ سبھا میں ’’ گجرات ماڈل اب قومی سطح پر‘‘ کےپوسٹر لہرائے گئے

Supreme Court .Picture:INN
سپریم کورٹ۔ تصویر: آئی این این

پیگاسس جاسوسی معاملے کو حکومت جتنا ہی نظر اندا زکررہی ہے، اپوزیشن اسے اتنی ہی شدت سے اٹھا رہاہے۔ منگل کو لگاتار چھٹے دن جاسوسی معاملے کی جانچ کا مطالبہ کرتے ہوئے پارلیمنٹ کی کارروائی نہیں چلنے دی گئی۔ ملک کا دانشور طبقہ بھی جاسوسی کے اس سنگین معاملے  سے فکر مند ہے۔ معروف اور سینئر صحافی این رام اور ششی کمار نے اس سلسلے میں سپریم کورٹ کا درواہ کھٹکھٹایا ہے۔ انہوں نے ’’جنگی اسلحہ ‘‘ کا درجہ رکھنے والے جاسوسی سافٹ  ویئر سے ملک میں  ۱۴۲؍ سے زائد افراد کی جاسوسی پر تشویش کااظہار کرتے ہوئے کورٹ سے اپیل کی ہے کہ وہ سابق یا موجودہ جج کی قیادت میں آزادانہ جانچ کا حکم صادر کرے۔ 
جاسوسی بنیادی حقو ق کی خلاف ورزی
 کورٹ میں داخل کی گئی پٹیشن میں نشاندہی کی گئی ہے کہ پیگاسس سے  جن افراد کی جاسوسی کروائی جارہی ہے ان میں صحافی،  وکیل، وزیر ،اپوزیشن لیڈر، آئینی اداروں کے ذمہ دار اور شہری سماج کے ذمہ داراراکین شامل ہیں۔  پٹیشن میں کہا گیا ہے کہ’’فوجی سطح کے اسپائی ویئر سے جاسوسی کئی بنیادی حقوق کی خلاف ورزی  اور ایسے آزاد  اداروں کونشانہ بنانے اور انہیں غیر مستحکم کرنے کی کوشش ہے جو ہمارے جمہوری نظام  میں کلیدی حیثیت کے حامل ہیں۔‘‘
’کیا حکومت نے جاسوسی کا اختیار دیاہے‘
 پٹیشن میں سپریم کورٹ سے استدعاکی گئی ہے کہ وہ  یہ بھی معلوم کرے کہ کیا حکومت نے اس جاسوسی کو منظوری دی ہے جو آزاد آوازوں کو دبانے اور اختلافِ رائے کا گلا گھونٹنے کے مترادف ہے۔ سپریم کورٹ کو متوجہ کیاگیاہے کہ حکومت نے اب تک صاف صاف یہ نہیں بتایا کہ اس نے اس غیرقانونی جاسوسی کو منظوری دی  ہے یا نہیں۔ 
 پارلیمنٹ میں احتجاج،پوسٹرلہرائے گئے
 منگل کو لگاتار چھٹے دن اپوزیشن نے  پیگاسس جاسوسی معاملہ اور کسانوں کے موضوع پر پارلیمنٹ میں صدائے احتجاج بلند کی اور ایوان کی کارروائی نہیں چلنے دی۔  اپوزیشن کی جانب سے دونوں ایوانوں میں جم کر نعرے بازی کی گئی اور مطالبہ کیا گیا کہ وزیر داخلہ امیت شاہ استعفیٰ دیں اور اس معاملہ کی جانچ سپریم کورٹ کی نگرانی میں کرائی جائے۔ راجیہ سبھا میں اپوزیشن  کے اراکین پوسٹر لے کر پہنچ گئے جس میں ’’اسنوپ گیٹ: گجرات ماڈل اب قومی سطح پر‘‘ کا نعرہ لکھا ہواتھا۔   اپوزیشن  کی نعرہ بازی پر برہمی کااظہار کرتے ہوئےلوک سبھا کے اسپیکر اوم برلا نے  اراکین کو متنبہ کیا کہ یہاں نعرے بازی کا مقابلہ نہیں چل رہا ہے ۔ 

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK