گوونڈی میں ملزم کی پولیس لاک اپ میں موت کے بعد سنسنی

Updated: April 24, 2022, 2:08 AM IST | Kazim Shaikh | Mumbai

ملزم کو عدالت نے ۲۵؍ اپریل تک کیلئے پولیس تحویل میں دیا تھا ۔اچانک موت پر پولیس کی تفتیش پر سوالیہ نشان

Shivaji Nagar police station under which Mills M was arrested (file photo)
شیواجی نگر پولیس اسٹیشن جس کے تحت ملز م کو گرفتار کیا تھا( فائل فوٹو)

یہاں گوونڈی کے شیواجی نگر پولیس اسٹیشن میں تعزیرات ہند کی دفعہ ۳۷۷؍ کےتحت ایک شخص کو گرفتار کرکے لایا گیا تھا اور عدالت سے ریمانڈ ملنے کے بعد پولیس  شیواجی نگر پولیس اسٹیشن کے  لاک اپ میں رکھ کر اس کی انکوائری کررہی تھی  لیکن جمعہ کو  ملزم کی لاک اپ میں موت ہو گئی جس کے بعد علاقے میں بے چینی پائی جارہی ہے  اور انکوائری کرنے والے پولیس اہلکاروں پر سوالیہ نشان لگ گیا ہے ۔ 
  گوونڈی کے شیواجی نگر پولیس اسٹیشن کے ایک تفتیشی انسپکٹر نے انقلاب کو بتایا کہ’’ گوونڈی کے بیگن واڑی علاقے میں رہنے والے۳۴؍ سالہ ارجن واڈائونے کو ۱۹؍ اپریل کو علاقے میں ایک ذہنی معذور نوجوان کے ساتھ بدفعلی کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا ۔ پولیس نے ملزم کےخلاف  دفعہ ۳۷۷؍  ،۳۲۴، اور ۵۰۶؍  کے تحت معاملہ درج کیا تھا اور معاملے کی  تحقیقات کررہی تھی۔  انہوں نے بتایا کہ جمعہ کی صبح تقریباً ۱۰؍ بجے شیواجی نگر پولیس اسٹیشن کے لاک اپ میں ملزم کے سینے میں درد شروع ہوا اور اطلاع ملنے کے بعد اسے علاج کیلئے مانخورد کے شتابدی اسپتال لے جایا گیا لیکن اسپتال میں داخل ہونے سے پہلے ہی ڈاکٹروں نے اسے مردہ قرار دے دیا ۔ 
  ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ملزم وڈاؤنے کو عدالت نے ۲۵؍ اپریل تک پولیس تحویل میں رکھنے کا حکم دیا تھا۔ اس کی انکوائری کیلئے پولیس نے ملزم کو شیواجی نگر پولیس اسٹیشن کے لاک اپ میں رکھا تھا۔ پولیس کے مطابق ملزم کی موت کی انکوائری کرائم برانچ کے افسران کو سونپ دی گئی ہے اور جلد سے جلد اس کی رپورٹ پیش کرنے  کو کہا گیا ہے ۔ لاک اپ میں ملزم کی موت سے علاقے کے لوگوں میں بے چینی پائی جارہی ہے اور کئی افراد نے تو پولیس کی انکوائری پر ہی سوالیہ نشان لگادیا ہے ۔   حالانکہ  پولیس کا دعویٰ ہے کہ معاملے کی انکوائر ی کے بعد سچ سامنے آجائے گا۔ 

govandi Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK