پی ایف آئی کیخلاف ۱۵؍ ریاستوں میں سنسنی خیز چھاپے،۱۰۶؍گرفتار

Updated: September 23, 2022, 10:09 AM IST | new Delhi

دہشت گردوں کی مالی اعانت اور کیمپ چلانے کے الزام میںپاپولر فرنٹ آف انڈیا کیخلاف این آئی اے ، ای ڈی ، اے ٹی ایس اور مقامی پولیس کی مشترکہ کارروائی ، کئی مقامات پر پارٹی کارکنوں کا احتجاج،وزیر داخلہ امیت شاہ نے کارروائی کا جائزہ لیا

PFI workers protest against NIA action in Hubli, Karnataka. (Photo: PTI)
این آئی اے کی کارروائی کے خلاف کرناٹک کے شہر ہبلی میں پی ایف آئی کارکنان احتجاج کرتے ہوئے۔(تصویر: پی ٹی آئی )

: قومی تفتیشی ایجنسی این آئی اے نے ای ڈی، اے ٹی ایس  اور مقامی پولیس کے ساتھ مل کر پاپولر فرنٹ آف انڈیا (پی ایف آئی) اور اس سے وابستہ دیگر تنظیموں کے خلاف ملک بھر میں چھاپے مارے۔ رپورٹس کے مطابق تفتیشی ایجنسی نے مبینہ طور پر دہشت گردی کی مالی اعانت کرنے اور  دہشت گردی کےکیمپ چلانے کے معاملے میں یہ کارروائی کرتے ہوئے ملک کی۱۵؍ریاستوں سے ۱۰۶؍افراد  کوگرفتار کیا ہے۔ ان گرفتاریوں کے خلاف پورے ملک میں پی ایف آئی کے کارکن سڑکوں پر آگئے اور انہوں نے زبردست احتجاج کیا۔  دریں اثناء پی ایف آئی کے قومی صدر او ایم اے  عبد السلام اور دہلی  یونٹ کے صدر پرویز احمد کو بھی گرفتار کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ان میں سے کچھ گرفتار شدگان کو این آئی اے کے دہلی دفتر لایا جاسکتا ہے۔ ایسے  میںاین آئی اے کے دفتر پر سیکوریٹی میں اضافہ کردیا گیا ہے۔ اس کارروائی کی مسلم سماجی تنظیموں کی جانب سے  مذمت کی جارہی ہے۔
ملک گیر سطح پر ایجنسیوں کی کارروائی 
  این آئی اے نے مہاراشٹر،کیرالا، آندھرا پردیش، تلنگانہ، کرناٹک، تمل ناڈو،اتر پردیش، راجستھان ،دہلی ،آسام، ایم پی ،گوا ، بنگال، بہار اور منی پور  میںچھاپے مارے۔ جن افراد کو گرفتار کیا گیا ہے ان پر مشکوک دہشت گردانہ سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا الزام ہے۔ واضح رہے کہ یہ پی ایف آئی کے خلاف اب تک کا سب سے بڑا کریک ڈاؤن ہے جس میں پی ایف آئی کے چیف عبد السلام کو کیرالا کے ملاپورم سے حراست میں لیا گیا ہے جبکہ ان کے ساتھ ریاستی صدر سی پی محمد بشیر بھی زیر حراست ہیں۔ تفتیشی ایجنسی نے کیرالا سے سب سے زیادہ ۲۲؍افراد کو گرفتار کیا ہے۔ اس کے بعد، مہاراشٹر اور کرناٹک سے ۲۰؍ ،۲۰؍  آندھراسے ۵؍، آسام سے ۹؍، دہلی اور پڈوچیری سے ۳؍،۳؍  مدھیہ پردیش سے ۴؍، تمل ناڈو سے ۱۰؍، یوپی سے۸؍ اور راجستھان سے ۲؍ افراد کو گرفتار کیا ہے۔پی ایف آئی سے وابستہ افراد کو دہلی کے شاہین باغ اور غازی پور سے بھی گرفتار کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ لکھنؤ میں اندرا نگر سے ۲؍افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔آسام پولیس نے بھی ریاست سے پی ایف آئی سے وابستہ ۹؍افراد کو حراست میں لیا ہے۔ تمل ناڈو کے مدورائی سمیت متعدد اضلاع میں چھاپے مارے گئے ہیں۔ ای ڈی، این آئی اے اور ریاستوں کی پولیس کے ذریعے چلائے جا رہے اس مشترکہ آپریشن کی نگرانی وزارت داخلہ کی جانب سے کی جارہی ہے۔ بتایا جارہا ہے کہ اس ملک گیر پیمانے کے آپریشن کی تیاری کئی دنوں سے کی جارہی تھی لیکن مقامی پولیس کو کارروائی والی شب میں ہی  احکامات جاری کئے گئے۔
وزیر داخلہ امیت شاہ اور اجیت ڈوبھال کی میٹنگ 
   این آئی اے کی جانب  سے مارے گئے ان چھاپوں کے فوراً بعد وزیر داخلہ امیت شاہ کی صدارت میں میٹنگ کا انعقاد کیا گیا جس میں قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوبھال بھی شریک ہوئے ۔ امیت شاہ نے  ایجنسی کے چھاپوں کی مکمل تفصیلات حاصل کیں اور ان سے آگے کی کارروائی کے بارے میں بھی پوچھا ۔ ساتھ ہی اجیت ڈوبھال کو ہدایت دی کہ وہ این آئی اے کے افسران کے رابطے میں رہیں اور ان سے رپورٹ لیتے رہیں تاکہ آگے کی کارروائی کے بارے میں معلومات ملتی رہے۔
کن کن شہروں میں کریک ڈائون کیا گیا ؟
 این آئی اے نے مہاراشٹر میںممبئی اور نوی ممبئی کے علاوہ  تھانے ، بھیونڈی ، پونے ، اورنگ آباد، کولہاپور، بیڑ ،پربھنی ، ناندیڑ، جلگائوں، جالنہ اور مالیگائوں میں کارروائی کی جبکہ  پڑوسی ریاست کرناٹک میں بنگلور،  گلبرگہ، منگلور، کوپالا، داونگیرے ، میسور اور شیموگا میں چھاپے مارے  گئے۔ کیرالا میں بھی مسلم اکثریتی شہروں جیسے ملاپورم ، کوچی اور دیگر شہروں میں کارروائی کرتے ہوئے گرفتاریاں انجام دی گئیں۔

پی ایف آئی کے خلاف کریک ڈائون کی مسلم سماجی تنظیموں نے مذمت کی ہے۔جماعت اسلامی ہند کے صدر سید سعادت اللہ حسینی نے  کہا کہ اس طرح کی کارروائی کا کوئی جواز نہیں ہے۔پی ایف آئی کے لیڈروں پر این آئی اے اور ای ڈی کی طرف سے کئے گئے چھاپوں  سےفکر مندی پھیل گئی ہے۔ این آئی اے جیسی ایجنسیاں جن لوگوں کے خلاف ان کے پاس واضح ثبوت موجود ہیں تحقیقات کرسکتی ہیں لیکن اس طرح کے اقدامات غیر جانبدارانہ ہونے چاہئیں۔کیا این آئی اے اور ای ڈی چھاپوں میں معیاری آپریٹنگ طریقہ کار کی پیروی کر رہے ہیں؟ جس طرح سے این آئی اے اور ای ڈی نے پی ایف  آئی کو نشانہ بناتے ہوئے پورے ملک میں بیک وقت چھاپے مارے ہیں اس سے ہمارے معاشرے کو جواب دینے کیلئے بہت سے سوالات پیدا ہوتے ہیں۔ اس تعلق سے دیگر مسلم تنظیموں نے ملے جلے ردعمل کا اظہار کیا ہے اور خاص طور پر مسلم نوجوانوں سے صبرکی اپیل کی ہے۔کل ہند تنظیم علمائے اسلام کے چیئرمین مفتی اشفاق حسین قادری، کل ہند مرکزی امام کونسل کے صدر سید محمد رضوی اور مسلم اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن آف انڈیا کے چیئرمین ڈاکٹر شجاعت علی قادری نے اپنے اپنے بیانات میں کہا کہ اگرچہ یہ کارروائی قابل مذمت ہے لیکن قانون پر عمل کیا جائے اور اگر یہ دہشت گردی کی روک تھام کے  لئےہو رہا ہے تو اس پر سب کو صبر سے کام لینا چا ہئے۔تنظیموں نے کہا کہ گرفتار  کئےگئے افراد پر قتل، تشدد اور اسلحہ رکھنے جیسے سنگین الزامات عائد کئے گئے لیکن  ایجنسیوں کو     عدالت میں اسے ثابت بھی کرنا ہوگا۔  واضح رہے کہ  این آئی اے نے پورے  ملک میں پاپولر فرنٹ آف انڈیا کے تقریباً ۱۰۰؍ ٹھکانوں  پر چھاپے مارے  ۔اس بارے میں معتبر ذرائع نے بتایا کہ ان تمام اراکین کو مزید تفتیش کے لئے جمعہ کو عدالت میں پیش کیا جائے گا۔ذرائع نے بتایا کہ این آئی اے، انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ اور ریاستی پولیس کی مشترکہ ٹیموں نے تقریباً ۱۵؍ ریاستوں میں چھاپے مارے تھے۔  سب سے زیادہ چھاپے کیرالا میں ۳۹؍ ،تمل ناڈو میں ۱۶؍، کرناٹک میں ۱۲؍اور آندھرا پردیش میں ۷؍ مقامات پر مارے گئے۔

PFI Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK