موہن بھاگوت کے امریکہ جا کر مذہبی رواداری اور کثرت میں وحدت کا پیغام دینے پر اپوزیشن نے حیرت کا اظہار کیا، کہا:جو وہاں کہہ رہے ہیں اُس پر یہاں عمل کیوں نہیں کرتے؟
EPAPER
Updated: August 31, 2026, 10:44 AM IST | Agency | New Delhi/Washington
موہن بھاگوت کے امریکہ جا کر مذہبی رواداری اور کثرت میں وحدت کا پیغام دینے پر اپوزیشن نے حیرت کا اظہار کیا، کہا:جو وہاں کہہ رہے ہیں اُس پر یہاں عمل کیوں نہیں کرتے؟
امریکہ میں آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت کیہندوستان میں مذہبی رواداری اور کثرت میں وحدت کی وکالت کرنے والی تقریر نے جہاں بہت سوں کو حیران کیا ہے تووہیں ایک بار پھر سَنگھ پریوار کا دہرا معیار موضوع بحث بن گیاہے۔ ناقدین نے نشاندہی کی ہے کہ آر ایس ایس دنیا کیلئے کچھ کہتا ہے اوراس کے اپنے کارکنوں کیلئے اس کا پیغام کچھ اور ہوتا ہے۔ کانگریس، ترنمول کانگریس، عام آدمی پارٹی، سی پی آئی (ایم)، ایم آئی ایم اور آر جے ڈی کے لیڈروں نے آر ایس ایس کے ’’دوغلے پن ‘‘کا حوالہ دیتے ہوئے سوال کیا ہے کہ بھاگوت جو کچھ امریکہ میں کہا وہ پیغام ہندوستان میں کیوں نہیں دیتے اور سنگھ پریوار یہاں اس پر عمل کیوں نہیں کرتا؟ دوسری جانب بی جے پی نے بھاگوت کے بیان کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے دنیا کو ہندو مذہب کا حقیقی مفہوم سمجھایا اور مذہبی رواداری کا پیغام دیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: کلیان اسٹیشن کے اطراف فٹ پاتھوں پرغیر قانونی قبضہ!
موہن بھاگوت نے نیویارک میں کیا کہا؟
نیویارک کے میڈیسن اسکوائر میں ہندوستانی نژاد امریکی برادری اور مختلف مذاہب کے لیڈروں سے خطاب میں بھاگوت نے کہا کہ کثرت میں وحدت ہندستان کے ڈی این اے میں شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’ اگر کوئی ہندو یہ سمجھتا ہے کہ ہندوستان میں مسلمانوں کیلئے کوئی جگہ نہیں ہونی چاہیے تووہ ہندو نہیں ہے۔‘‘ہندوستان میں ایک ملک ایک تہذیب کی وکالت کرنےوالے سنگھ پریوار کے سربراہ نے ملک کی الگ الگ تہذہبوں اور مذاہب کا احترام کرتے ہوئے بطور ہندوستانی ایک ہونے کی بات کی اور کہا کہ ’’تنوع باعث فخر ہے، اس کا احترام کیا جانا چاہیے اور اسے قبول کیا جانا چاہیے۔ اوراس کے ساتھ ہی ہمیں اس احساس پیدا کرنا چاہئے کہ ہم سب ایک ہیں۔‘‘
ایسا لگا جیسے راہل گاندھی بول رہے ہیں: کپل سبل
راجیہ سبھا کے رکن کپل سبل نے بھاگوت کی تقریر کا حوالہ دیتے ہوئےکہا کہ کچھ دیر کیلئے وہ یہ سوچنے پر مجبور ہوگئے کہ یہ آر ایس ایس سربراہ بول رہے ہیں یا کانگریس لیڈر راہل گاندھی کی تقریر ہے۔ سبل نے سوال کیا کہ ’’بیرون ملک سمجھداری کی باتیں اور ملک میں خاموشی؟لفظوں سے کچھ نہیں ہوتا، آپ کا عمل بولتا ہے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ ’’ایسا لگتا ہے کہ بھاگوت کو بیرونِ ملک تو کثرت میں وحدت کوقبول ہے لیکن اپنے ملک میں انہیں یہ برداشت نہیں ہے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: امریکہ: ۷۴؍ فیصد انڈرگریجویٹ طلبہ کا کہنا ہے کہ اسرائیل نسل کشی کر رہا ہے: سروے
جھوٹ بولنا بند کریں: کانگریس
کانگریس کی ترجمان شمع محمد نے بھاگوت سے کہا کہ ’’جھوٹ بولنا بند کریں، بھاگوت ۔ ہم جانتے ہیں کہ آر ایس ایس کے ڈی این اے میں کیا ہے، نفرت اور فرقہ واریت ہے۔‘‘ انہوں نے کہاکہ ’’میرا موہن بھاگوت سے سوال ہے کہ وہ یہ بات ہندوستان میں کیوں نہیں کہتے؟ ان کی ذیلی تنظیمیں جیسے وی ایچ پی اور بجرنگ دل آئے دن مسلمانوں پر حملے کرتی ہیں۔ یہاں تک کہ کرسمس کی تقریبات کو بھی نشانہ بنایا جاتا ہے۔ بی جے پی حکومتیں سرکاری مشینری کا استعمال کرتے ہوئے مسلمانوں کو ہراساں کرتی ہیں اور ان کے گھروں پر بلڈوزر چلائے جاتے ہیں۔‘‘
دنیا کیلئے کچھ اپنے کارکنوں کیلئے کچھ: اویسی
ایم آئی ایم سربراہ اسد الدین اویسی نے کہاکہ’’ دنیا کیلئےکچھ اور اپنے کارکنوں کیلئے کچھ ، یہ آر ایس ایس کا پرانا حربہ ہے۔‘‘ انہوں نے سوال کیا کہ آر ایس ایس اپنے ان نظریہ سازوں کی تحریروں سے لاتعلقی کا اظہار کیوں نہیں کرتا جو مسلمانوں اور عیسائیوں کو ’اندرونی خطرہ‘ بتاتے ہیں۔ اویسی نے ساورکر، ہیڈگیوار، گولوالکر کی متنازع تحریروں کے منتخب اقتباسات کا حوالہ دیا اور کہا کہ ان کو پڑھ کر ایس ایس کے بارے میں کیا رائے قائم کی جاسکتی ہے۔
’’اِس سمجھداری کے ساتھ ہی واپس آئیں‘‘
آر جے ڈی لیڈر منوج جھا نے موہن بھاگوت کو پیغام دیا کہ امریکہ کے میڈیسن اسکوائر میں انہیں جو سمجھداری حاصل ہوئی ہے، وہ اس سمجھداری کے ساتھ ہی ہندوستان واپس آئیں۔انہوں نے ایکس پوسٹ کیا ہے کہ ’’اگر میڈیسن اسکوائر میں آر ایس ایس سربراہ کو یہ احساس ہوا کہ ہندوستان سب کا ہے اور جویہ سمجھتا ہے کہ مسلمانوں کا یہاں کوئی حق نہیں، وہ حقیقی ہندو نہیں ہے، تو وہ اس سمجھداری کواپنے ساتھ ہندوستان بھی لائیں۔ یہی سبق مودی کی کابینہ کے ہر وزیر اور ہر وزیر اعلیٰ کیلئے بھی لازمی ہونا چاہیے کہ ہندوستان تمام ہندوستانیوں کا ہے۔