ووٹرلسٹ کی طرح ایس آئی آر میں بھی یہ صورتحال انتہائی پریشان کن۔ کئی شہریوں نے اس کی شکایت کی۔ بی ایل او نے بھی اعتراف کیا۔
EPAPER
Updated: July 12, 2026, 12:58 PM IST | Saeed Ahmed Khan | Mumbai
ووٹرلسٹ کی طرح ایس آئی آر میں بھی یہ صورتحال انتہائی پریشان کن۔ کئی شہریوں نے اس کی شکایت کی۔ بی ایل او نے بھی اعتراف کیا۔
اسپیشل انٹینسیو رویژن (ایس آئی آر ) کے جاری عمل میں ووٹر لسٹ کی طرح افرادِخانہ کا نام اور الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری کردہ ان کا فارم الگ الگ بوتھ لیول آفیسر (بی ایل او) کے پاس ہونا بڑا مسئلہ ہے۔ صورتحال یہ ہے کہ ماں باپ کا فارم ایک بی ایل او کے پاس ہے تو بیٹے کا ایک اور بیٹی کا دوسرے بی ایل او کے پاس۔ اس سے فارم بھرنے میں مزید دشواری ہورہی ہےاوروقت بھی ضائع ہورہا ہے۔
بی ایل او نے بھی اس کی تصدیق کی مگر کہا کہ ہم کچھ نہیں کرسکتے۔ یہ شکایت عام ہے۔ ہمیں جو ہدایت دی گئی ہےاس کے مطابق کام کررہے ہیں۔ نمائندۂ انقلاب نے شہر اورمضافات کے الگ الگ علاقوں میں بات چیت کی توپتہ چلا کہ تقریباً ہر جگہ یہ مسئلہ ہے اورشہریوں کوچکر لگانا پڑرہا ہے۔
پریشانی شہریوں کی زبانی
مدن پورہ میں مقیم عبداللہ انصاری نے بتایا کہ’’ بالکل صحیح ہے، یہ شکایت کئی لوگوں نے کی کہ ان کے گھر کے فارم دو بی ایل او کےپاس ہیں۔ مثلاً میاں بیوی کا بی ایل اوایک ہے توبیٹا اوربیٹی کا دوسرا ہے۔ اس سےیہ دشواری ہورہی ہے کہ اگر ایک بی ایل او مل گیا تودوسرا دستیاب نہیں رہتا۔ اس سے ایس آئی آر کا فارم بھرنےاورجمع کرانے میں ہی وقت نہیں لگ رہا ہے بلکہ تلاش کرنا بھی کم بڑامسئلہ نہیں ہے۔ ‘‘
سانتاکروز میں مقیم عبدالرحیم خان نے بتایا کہ ’’ ان کے ساتھ بھی یہی معاملہ پیش آیا۔ پہلے توایسا لگا کہ بچوں کا فارم ہے میاں بیوی کا نہیں آیامگر بعد میں معلوم ہوا کہ ان کا اوران کی اہلیہ کا فارم دوسرے بی ایل او کے پاس ہے۔ بالکل اسی طرح ووٹرلسٹ میں بھی ہوتا ہے۔ اس سےبہت سے رائے دہندگان تنگ آکرووٹ ہی نہیں دیتے۔ ‘‘مالونی گیٹ نمبرایک میں مقیم ذاکرشیخ نےبتایاکہ’’ ان کے ساتھ توعجب معاملہ ہے، وہ یہ سمجھ رہے تھے کہ ان کا فارم ہی نہیں آیا مگراب پتہ چلا کہ میاں بیوی اور تین بچوں کافارم ۴؍بی ایل او کے پاس ہے۔ ‘‘
ان کا کہنا ہے کہ ’’اتنااہم کام الیکشن کمیشن کروارہا ہے توکیااس کا مقصد صرف شہریو ں کو حیران کرنا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جب ایک ہی باپ کی ولدیت تینوں بچو ں کے نام کے ساتھ ہے تو اسے کس طرح ۴؍ بی ایل او کو بانٹ دیا گیا اورپارٹ الگ کردیئے گئے۔ ‘‘
اسی طرح کی شکایت مولانانوشاد احمد صدیقی نےکی۔ ان کا کہناتھاکہ ’’ تین بچو ں کافارم ایک بی ایل او کےپاس ہے اورہم میاں بیوی کے فارم کا ہی نہیں بی ایل او کا بھی اب تک پتہ نہیں چل سکا ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیااسی طرح سے الیکشن کمیشن ایس آئی آر کروارہا ہے۔ اگراس طرح کی بدنظمی ہوگی توبڑی تعداد میں رائے دہندگان کے نام فہرست سے خارج ہوجائیں گے۔ اس لئے ترتیب اورنظم ضروری ہے۔ ‘‘
آدتیہ نام کے نوجوان کی والدہ نے بتایاکہ’’ان کا فارم مل گیا، شوہر کاغائب ہے۔ ایک سےزائد بوتھ لیول آفیسرسے رابطہ قائم کرنےپر بھی کچھ پتہ نہیں چلا۔ اب کہا جارہا ہے کہ آپ الیکشن کمیشن کےدفتر کاندیولی میں رابطہ قائم کیجئے۔ ‘‘ اس خاتون کایہ بھی کہنا تھا کہ ’’ صرف کاغذ تلاش کریں یا روزی روٹی دیکھیں۔ دیکھتے ہیں جو ہونا ہوگا ہوگا ، کیا کریں۔ ‘‘
بی ایل او نے شکایت کااعتراف کیا
نمائندہ ٔانقلاب کے ذریعہ ایک سے زائدبی ایل او سے اس بابت استفسار کرنے پر ان کا کہنا تھاکہ ’’بہت سے لوگ یہ شکایت کررہے ہیں۔ یہ بنیادی کام الیکشن کمیشن کا ہے، ہمیں تو جس علاقے میں بھیجا گیا ہے اور ۱۲۰۰؍تا ۱۴۰۰؍ افراد کی جو لسٹ دی گئی ہے، اس کے مطابق فارم بھروا رہے ہیں اورمیپنگ کررہے ہیں لیکن یہ درست ہے کہ لوگوں کے لئے بڑی پریشانی کا باعث ہے۔ اگر اس کی ترتیب صحیح رہتی تو ایک ہی گھر کے لوگوں کو الگ الگ بی ایل اوکوتلاش کرنے کی زحمت نہ اٹھانی پڑتی۔ ‘‘