بینر پر کسی کا نام لیے بغیرلکھا گیا ہے کہ بڑے بڑوں کو خاک میں ملانے کی بات کرنے والے گزشتہ ۱۷ سال میں ایک سرکاری اسپتال کو ضروری سہولیات سے لیس نہ کر سکے۔
EPAPER
Updated: July 12, 2026, 1:05 PM IST | Ejaz Abdul Gani | Dombivli
بینر پر کسی کا نام لیے بغیرلکھا گیا ہے کہ بڑے بڑوں کو خاک میں ملانے کی بات کرنے والے گزشتہ ۱۷ سال میں ایک سرکاری اسپتال کو ضروری سہولیات سے لیس نہ کر سکے۔
کلیان ڈومبیولی میونسپل کارپوریشن (کے ڈی ایم سی) کے زیر انتظام چلنے والے شاستری نگر اسپتال میں ڈاکٹروں اور طبی عملے پر مبینہ حملے کے بعد شہر کا سیاسی پارہ ہائی ہو گیا ہے۔ اس واقعہ نے جہاں ایک طرف مختلف سیاسی پارٹیوں کے مابین تلخ الزام تراشیوں اور تند و تیز جوابی بیانات کے ایک نئے سلسلے کو جنم دیا ہے وہیں دوسری جانب شہر کے سرکاری نظام صحت اور میونسپل انتظامیہ کی کارکردگی پر بھی سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ اس پس منظر میں ڈومبیولی کی سڑکوں پر راتوں رات نصب کیے گئے ایک گمنام بینر نے جلتی پر تیل کا کام کرتے ہوئے مقامی سیاسی قیادت کو کٹہرے میں کھڑا کر دیا ہے۔
کے ڈی ایم سی کے زیر انتظام چلنے والے شاستری نگر اسپتال میں گزشتہ دنوں ڈاکٹروں اور نرسوں پر ہونے والے حملے کے واقعہ کے بعد پورے شہر کا سیاسی ماحول شدید گرما گیا ہے۔ اس تنازع نے اب ایک نیا رخ اختیار کر لیا ہے کیونکہ ڈومبیولی ویسٹ کے مصروف ترین سمراٹ چوک پر اچانک ایک ایسا بینر آویزاں کیا گیا ہے جو پورے شہر میں زبانِ زد عام بن چکا ہے۔ اس بینر کے ذریعہ شہر میں صحت کی سرکاری سہولیات کی انتہائی ابتر صورتحال پر شدید طنزیہ اوربالواسطہ تنقید کی گئی ہے۔ سمراٹ چوک پر لگائے گئے اس بینر پر کسی کا نام لیے بغیر مقامی عوامی نمائندوں اور سیاسی لیڈروں کو نشانہ بناتے ہوئے لکھا گیا ہے کہ بڑے بڑوں کو خاک میں ملانے کی بات کرنے والے گزشتہ ۱۷ سالوں میں ایک سرکاری اسپتال کو تمام ضروری سہولیات سے لیس نہ کر سکے یہ یہاں کے شہریوں کے لیے ایک حقیقی المیہ ہے۔ بینر کے ذریعہ براہِ راست مقامی قیادت سے یہ تیکھا سوال پوچھا گیا ہے کہ اتنے طویل عرصے تک اقتدار میں رہنے کے باوجود میونسپل کارپوریشن کے اسپتالوں کا معیار کیوں نہیں سدھرا۔ بینر پر مزید تحریر موجود ہے جس میں واقعہ کی مذمت اور اسپتال کی حالتِ زار دونوں کو یکجا کیا گیا ہے۔ بینر پر لکھا ہے کہ صاحب !ڈاکٹر پر ہاتھ اٹھانا بالکل غلط اقدام تھا۔ یہ سچ ہے کہ آپ ایک غریب مریض کی مدد کے لیے دوڑے چلے آئے لیکن قانون ہاتھ میں لینا اور ڈاکٹر پر حملہ کرنا کسی طور درست نہیں تھا۔ البتہ آپ کے اس اقدام کی وجہ سے شاستری نگر اسپتال کی بدحالی ایک بار پھر سرِعام آ گئی ہے۔