غیر تدریسی خدمات، بی ایل او کی ڈیوٹی اور ٹی ای ٹی پاس کرنے کی لازمی شرط کے خلاف گزشتہ جمعرات کو ممبئی سمیت ریاست کے دیگر اضلاع میں تعلیمی تنظیموں کے فیڈریشن نے ’اسکول بند ‘ آندولن کیا تھا۔
EPAPER
Updated: July 12, 2026, 1:01 PM IST | Saadat Khan | Mumbai
غیر تدریسی خدمات، بی ایل او کی ڈیوٹی اور ٹی ای ٹی پاس کرنے کی لازمی شرط کے خلاف گزشتہ جمعرات کو ممبئی سمیت ریاست کے دیگر اضلاع میں تعلیمی تنظیموں کے فیڈریشن نے ’اسکول بند ‘ آندولن کیا تھا۔
غیر تدریسی خدمات، بی ایل او کی ڈیوٹی اور ٹی ای ٹی پاس کرنے کی لازمی شرط کے خلاف گزشتہ جمعرات کو ممبئی سمیت ریاست کے دیگر اضلاع میں تعلیمی تنظیموں کے فیڈریشن نے ’اسکول بند ‘ آندولن کیا تھا۔ اس تعلق سے ایجوکیشن ڈائریکٹوریٹ نے آندولن سے قبل اساتذہ کی تنخواہوں میں کٹوتی کا اشارہ دیا تھا۔ جن اساتذہ نے احتجاج میں حصہ لیا ہے، اب ان کی تنخواہ کاٹنے کی تیاری کی جا رہی ہے، ایسی اطلاع موصول ہوئی ہے جس پر تعلیمی تنظیموں نے سخت ردِعمل کااظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایک دن نہیں ایک مہینے کی بھی تنخواہ کاٹ لی جائے تو ہم اپنے موقف سے نہیں ہٹیں گے۔ اگر ۱۵؍دنوں میں حکومت نے ہمارے مطالبات مرحلہ وار پورے نہیں کئے تو ۳۰؍اگست سے دوبارہ احتجاج کیا جائے گا۔
تعلیمی یونینوں نے دعویٰ کیا ہے کہ آزاد میدان میں ہونے والے احتجاج میں ۵؍ ہزار سے زائد اساتذہ موجود تھے جبکہ محکمہ اسکول ایجوکیشن کی جانب سے دی گئی معلومات کے مطابق جمعرات کے آندولن میں ریاستی سطح پر مجموعی طور پر ۸؍ہزار ۶۰۰؍ اساتذہ نے شرکت کی تھی، ان اساتذہ کی ایک دن کی تنخواہ میں کٹوتی کیلئے کارروائی کا امکان ہے۔ دوسری جانب اساتذہ کاکہنا ہے کہ تنخواہوں میں کٹوتی کی جائے تو بھی ہم پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ محکمہ تعلیم نے احتجاج میں شریک اساتذہ کی معلومات اکٹھی کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس کے مطابق، ڈویژنل ڈپٹی ڈائریکٹر آف ایجوکیشن، ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر اور ممبئی میں ایجوکیشن انسپکٹر کو معلومات اکٹھی کرنے کا حکم دیا گیا۔
ذرائع نے بتایا کہ غیر حاضر ملازمین کی موجودگی اور چھٹیوں کی تصدیق کے بعد متعلقہ افراد کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
اکھل بھارتیہ اُردو شکشک سنگھ کے جنرل سیکریٹری ساجد نثار نے انقلاب کو بتایا کہ ’’ مذکورہ آندولن سے متعلق ۲۹؍جون کو محکمہ تعلیم کے اعلیٰ افسران سے ہونے والی میٹنگ میں تعلیمی یونینوں کے نمائندوں نے افسران سے واضح طور پریہ بات کہی تھی کہ اساتذہ کی ایک دن کی نہیں ایک مہینے کی بھی تنخواہ کاٹی جاتی ہے تو اساتذہ اپنے موقف پر ڈٹے رہیں گے۔ ‘‘