اسمبلی الیکشن سے قبل مغربی بنگال میں ہنگامی اور ڈرامائی صورتحال ، مالدہ میں بدھ کی رات پیش آئے واقعہ کا عدالت عظمیٰ نے نوٹس لیا ،الیکشن کمیشن کو کارروائی کی ہدایت
EPAPER
Updated: April 02, 2026, 11:44 PM IST | Kolkata
اسمبلی الیکشن سے قبل مغربی بنگال میں ہنگامی اور ڈرامائی صورتحال ، مالدہ میں بدھ کی رات پیش آئے واقعہ کا عدالت عظمیٰ نے نوٹس لیا ،الیکشن کمیشن کو کارروائی کی ہدایت
مغربی بنگال میں اسمبلی انتخابات سے قبل اس وقت زبر دست ڈرامائی اور ہنگامی صورتحال دیکھنے کو ملی جب ضلع مالدہ کے ایک گاؤں میں ایس آئی آر کی ڈیوٹی پر مامورعدالتی افسران پرمقامی افراد نےدھاوا بول دیا۔ پرانے مالدہ بلاک کے کالیاچک میں ایس آئی آر سے نام حذف ہونے سے برہم مظاہرین نے بدھ کی رات عدالتی افسروں کو یرغمال بنالیا ۔ علاقے میںجمعرات کو بھی حالات کشیدہ رہے اورمشتعل مظاہرین کا احتجاج جاری رہا البتہ وہاںمرکزی فورس کو طلب کرلیاگیا ہے۔ مظاہرین کا کہنا ہےکہ سبھی دستاویزات ہونے کے باوجود ان کے نام ا یس آئی آر لسٹ سے کاٹ دئیے گئے۔ جمعرات کو دوپہر ایک بجے سینئر ضلعی پولیس افسران کی قیادت میں پولیس کا ایک بڑا دستہ جائے وقوع پر پہنچا اور مظاہرین کو منتشر کیا، عدالتی افسران کو بچایا اور انہیں محفوظ مقام پر پہنچایا۔ افسران تقریباً ۹؍ گھنٹے تک یرغمال رہے ۔اس معاملے کا جمعرات کوسپریم کورٹ نے سخت نوٹس لیا ہے اورمغربی بنگال حکومت پر سخت برہمی کا اظہار کیا ہے ۔ ضلع سے موصولہ رپورٹوں میں بتایا گیا ہے کہ قافلے پر حملہ کرنے کی کوششیں کی گئیں ۔ جب عدالتی افسران کو یرغمال بنایا جا رہا تھا، مظاہرین کے ایک اور گروپ نے مالدہ ضلع کے سوجاپور اسمبلی حلقہ میں کالیاچک بلاک وَن کے قریب قومی شاہراہ کو جام کر دیا۔ انتظامیہ مظاہرین کو یقین دلانے میں کامیاب رہا کہ ووٹر لسٹ سے نکالے گئے ناموں کو جلد از جلد بحال کرنے کی کوشش کی جائے گی جس کے بعد انہوں نے ناکہ بندی اٹھا لی۔ بعد میں پولیس نے بھی پہنچ کر مظاہرین کو منتشر کیا۔
سینئر وکیل کپل سبل نے سپریم کورٹ کے سامنے مغربی بنگال میں ایس آئی آر معاملے پر اپنا موقف پیش کرتے ہوئے کہاکہ انہیں ابھی ٹیلی گراف سے ایک رپورٹ موصول ہوئی ہے۔ اس پر سی جے آئی سوریہ کانت نے کہا کہ میں اس کو سیاسی رنگ نہیں دینا چاہتا لیکن ہمیں رات۲؍ بجے سے ہی رپورٹ مل رہی تھی، یہاں شام۵؍بجے افسران کا گھیراؤ کیا گیا اور۱۱؍ بجے تک وہاں کوئی نہیں تھا۔ کپل سبل نے کہا کہ یہ افسوسناک ہے۔
سپریم کورٹ نے جمعرات کو کہا کہ یہ واقعہ ڈیوٹی پر موجود افسران کے حوصلے پست کرنے کی ایک ’ بے باکانہ کوشش‘ اور سپریم کورٹ کے اختیار کو چیلنج کرنے کے مترادف ہے ۔ سپریم کورٹ نے انتخابی ریاست میں بدھ کی رات پیش آنے والے واقعات کے حوالے سے کلکتہ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کے خط کے بعد مغربی بنگال ایس آئی آر معاملے کو فوری طور پر اٹھایا۔خط کے مطابق،۳؍ خواتین سمیت ۷؍ عدالتی افسران کو ضلع مالدہ کے ایک گاؤں میں دیہاتیوں نے اس وقت گھیر لیا جب وہ ایس آئی آر کی سماعت کے فرائض انجام دے رہے تھے۔ انہیں دوپہر ساڑھے۳؍بجے سے آدھی رات تک یرغمال بنا کر رکھا گیا اور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کی جانب سے ریاستی انتظامیہ سے فوری کارروائی کی اپیل کے بعد ہی انہیں رہا کیا گیا۔عدالت نے مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عدالتی افسران کی تعیناتی کا سب کو خیرمقدم کرنا چاہئے کیونکہ وہ غیر جانبدار ایجنٹ ہوتے ہیں، لیکن انہیں بھی حملوں سے نہیں بخشا جا رہا۔عدالت نے الیکشن کمیشن کو ہدایت دی کہ وہ عدالتی افسران کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے مرکزی فورس طلب کرے۔ چیف جسٹس نے اس سے قبل کہا تھا کہ ایس آئی آر کا عمل مغربی بنگال کے علاوہ دیگر تمام ریاستوں میں خوش اسلوبی سے مکمل ہوا۔ اس واقعے کے بعد سپریم کورٹ نے مغربی بنگال کے بارے میں کہا کہ ہم نے ایسی ’پولرائزڈ‘ ریاست پہلے کبھی نہیں دیکھی۔ چیف جسٹس نے مغربی بنگال کے ایڈوکیٹ جنرل سے کہا کہ بدقسمتی سے اس ریاست میں آپ سبھی سیاسی زبان بولتے ہیں۔ سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن سے کہا ہےکہ وہ اس واقعہ کی تحقیقات سی بی آئی یا این آئی اے جیسی آزاد ایجنسی سے کرائے۔ سپریم کورٹ کے اس حکم کے بعد مغربی بنگال میں الیکشن کمیشن نے واقعے آزادانہ جانچ کو یقینی بنانے کیلئے جمعرات کوایک ہنگامی ورچوئل میٹنگ کی۔ کمیشن نے ریاستی حکومت سے بھی اس پررپورٹ طلب کرلی ہے۔