مرکزی وزارت داخلہ کے مطابق مغربی بنگال میں ۲۰؍ جون تک مرکزی فورسیز کی ۵۰۰؍ کمپنیاں تعینات رہیں گی، مرکزی مسلحپولیس فورس کی ایک کمپنی میں تقریباً۱۰۰؍ سے۱۵۰؍ اہلکار ہوتے ہیں۔
EPAPER
Updated: May 22, 2026, 8:04 PM IST | Kolkata
مرکزی وزارت داخلہ کے مطابق مغربی بنگال میں ۲۰؍ جون تک مرکزی فورسیز کی ۵۰۰؍ کمپنیاں تعینات رہیں گی، مرکزی مسلحپولیس فورس کی ایک کمپنی میں تقریباً۱۰۰؍ سے۱۵۰؍ اہلکار ہوتے ہیں۔
مرکزی وزارت داخلہ نے کہا کہ مغربی بنگال حکومت نے درخواست کی کہ مرکزی مسلح پولیس فورسیز کی تعیناتی اکتوبر کے آخر تک جاری رکھی جائے۔ پی ٹی آئی کے مطابق، یونین ہوم منسٹری نے ریاستی حکومت کی درخواست پر مغربی بنگال میں مرکزی مسلح پولیس فورس کی ۵۰۰؍ کمپنیوں کی تعیناتی۲۰؍ جون تک جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔واضح رہے کہ مرکزی مسلح پولیس فورس کی ایک کمپنی میں تقریباً ۱۰۰؍سے ۱۵۰؍اہلکار ہوتے ہیں۔
وزارت داخلہ کے ایک خط کے مطابق، مغربی بنگال حکومت نے انتخابات کے بعد کے حالات کے لیے مرکزی فورس کی تعیناتی اکتوبر کے آخر تک جاری رکھنے کی درخواست کی تھی۔پی ٹی آئی کے مطابق، مغربی بنگال کے چیف سکریٹری، ہوم سکریٹری اور ڈی جی پی سے خطاب کرتے ہوئے ایک مراسلے میں کہا گیا کہ۲۰۰؍ کمپنیاں سنٹرل ریزرو پولیس فورس،۱۵۰؍ بارڈر سیکیورٹی فورس اور ۵۰؍ -۵۰؍کمپنیاں سنٹرل انڈسٹریل سیکیورٹی فورس، انڈو تبتی بارڈر پولیس اور سشستر سیما بل کی۲۰؍ جون تک ریاست میں تعیناتی جاری رہے گی۔
یہ بھی پڑھئے: مغربی بنگال: بی جے پی حکومت نے مدرسوں میں’’ وندے ماترم ‘‘گانا لازمی قرار دیا
خبر رساں ایجنسی نے ریاستی حکومت کے ایک نامعلوم اہلکار کے حوالے سے بتایا کہ فورسیزکو بنیادی طور پر اسمبلی انتخابات کے بعد حساس علاقوں میں قانون اور نظم برقرار رکھنے میں پولیس کی مدد کے لیے رکھا جا رہا ہے۔پی ٹی آئی کے مطابق، اہلکار نے کہا، ’’تعیناتی کا مقصد حساس علاقوں میں امن کو یقینی بنانا اور کسی بھی ناخوشگوار واقعے کو روکنا ہے۔ ریاستی پولیس اور سی اے پی ایف کے درمیان ہم آہنگی جاری ہے۔یاد رہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی نے۴؍ مئی کو مغربی بنگال کے انتخابات جیت لیے، جس سے ریاست میں ترنمول کانگریس کی۱۵؍ سالہ حکومت ختم ہوگئی۔اس انتخاب میں بی جے پی نے ۲۰۷؍ نشستیں حاصل کیں، جبکہ ٹی ایم سی نے۸۰؍ حلقوں میں کامیابی حاصل کی۔
انتخابات سے پہلے، الیکشن کمیشن نے ریاست میں۲؍ لاکھ چالیس ہزارمرکزی مسلح پولیس فور س کے اہلکار تعینات کیے تھے۔ تاہم تعیناتی کے باوجود،انتخابی نتائج کے بعد ریاست میں بڑے پیمانے پر سیاسی تشدد کے واقعات رونما ہوئے، جس میں مغربی بنگال کے وزیر اعلیٰ سوویندو ادھیکاری کے معاون چندر ناتھ رتھ کا قتل بھی شامل ہے۔اس کے علاوہ پوری ریاست میں مبینہ فرقہ وارانہ دھمکیوں اور توڑ پھوڑ کے متعدد واقعات بھی درجہوئے۔تشدد کے دوران، ٹی ایم سی نے بارہا الزام لگایا کہ ریاست میں تعینات مرکزی فورسیزکو ’’خاموش رہنے ’’اورتشدد ہونے دینے‘‘کی ہدایت دی گئی تھی۔ریاست میں انتخابات کے بعد ہونے والے تشدد کا الزام لگاتے ہوئے کلکتہ ہائی کورٹ میں بھی پٹیشن دائر کی گئیں۔