ایک ہندو فریق نے دوسرےہندو فریق کی عرضی کو مرکزی قرار دئیے جانے کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا،سماعت ۲؍ستمبر تک ملتوی
EPAPER
Updated: August 13, 2026, 7:49 AM IST | New Delhi
ایک ہندو فریق نے دوسرےہندو فریق کی عرضی کو مرکزی قرار دئیے جانے کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا،سماعت ۲؍ستمبر تک ملتوی
سپریم کورٹ نے بدھ کو اشارہ دیا کہ وہ متھرا میں کرشن جنم بھومی اور شاہی عیدگاہ تنازع معاملہ میں ہندو فریق کے درمیان مرکزی مقدمہ کے تعین میں اختلاف کے معاملہ کوالہ آباد ہائی کورٹ بھیج سکتی ہے۔عدالت عظمیٰ میں جسٹس سنجے کمار اور جسٹس سنجیو سچدیوا کی بنچ نے نوٹ کیا کہ ہائی کورٹ نے ایک ہندو فریق کے مقدمہ کو بھگوان کرشن کے تمام عقیدت مندوں کے نمائندہ کے طور پر پیش کرنے سے پہلے دوسرے مدعیان کو نوٹس جاری نہیں کیا تھا۔بنچ نے کہا کہ درخواست کسی اور چیز کے لیے تھی اور تمام مدعیان کو نوٹس جاری نہیں کیے گئے تھے۔عدالت نے مقدمہ کی مزید سماعت ۲؍ستمبرتک ملتوی کردی۔
بنچ ایک ہندو پارٹی کی طرف سے۲۰۲۵ء کے الٰہ آباد ہائی کورٹ کے حکم کو چیلنج کرنے والی ایک درخواست کی سماعت کر رہی تھی جس میں ایک دیگر ہندو فریق کوبھگوان کرشن کے تمام عقیدت مندوں کے نمائندے کے طور تسلیم کئے جانے پر اعتراض کیاگیا۔بنچ نے نوٹ کیا کہ پچھلی سماعت کے دوران وکلاء نے عدالت کو بتایا تھا کہ ہندو مدعیان کے درمیان آف دی ریکارڈ بات چیت چل رہی ہے کہ کس کے مقدمہ کومرکزی مقدمہ نامزد کیا جائے گا۔سینئر ایڈوکیٹ شیام دیوان چندہندو فریق کی طرف سے پیش ہوئے اور عدالت پر زور دیا کہ اس معاملے پر نئے فیصلے کیلئے معاملے کو ہائی کورٹ کے حوالے کردیاجائے۔
سپریم کورٹ فی الحال مسجد کمیٹی اور ہندو جماعتوں کی طرف سے ہائی کورٹ کے مختلف احکامات کے خلاف دائر کی گئی متعدد درخواستوںپر سماعت کررہی ہےجس میں ہائی کورٹ کے۲۶؍مئی ۲۰۲۳ء کے حکم کو چیلنج کیا گیا ہے جس کے تحت الہ آبادہائی کورٹ نے متھرا کی ایک عدالت میں زیر التوا تنازع سے متعلق تمام معاملات کو اپنے پاس منتقل کرلیاتھا۔
گزشتہ سال۱۸؍ جولائی کو ہائی کورٹ نے ایک اور ہندو فریق کو درخواست کی اجازت دی تھی اور اسکو تمام عقیدت مندوں کا نمائندہ قرار دیاتھا۔ ہائی کورٹ نے۲۰۲۳ء کےدیوانی مقدمہ نمبر ۱۷؍ میں مدعی کی درخواست کی اجازت دی کہ اس مقدمہ کو مرکزی مقدمہ کے طو ر پرقرار دیتے ہوئےکہا تھا کہ اس پرپہلے اس کی سماعت اور فیصلہ کیا جائے گا۔سپریم کورٹ سے رجوع کرنے والی ہندو پارٹی نے کہا کہ تنازع کے تمام دیوانی مقدمہ ہائی کورٹ میں منتقل ہونے کے بعد اسکے مقدمے کو اہم مقدمہ کے طور پر سمجھا گیا، اور دلیل دی کہ ہائی کورٹ نے کسی دوسرے فریق کے مقدمے کو تمام عقیدتمندوں کے نمائندے کے طور پر پیش کرنے میں غلطی کی۔ ۱۶؍ جنوری ۲۰۲۴ءکو سپریم کورٹ نے ہائیکورٹ کے ۱۴؍دسمبر ۲۰۲۳ء کے حکم پر روک لگا دی جس میں شاہی عیدگاہ مسجد کمپلیکس کے عدالتی نگرانی میں سروے کی اجازت دی گئی تھی ۔