دورکنی بنچ نے اختلاف رائے کے باوجود معاملے کو بڑی بنچ کے حوالے کرنے کی سفارش کی۔
EPAPER
Updated: September 24, 2026, 12:14 PM IST | Inquilab News Network | New Delhi
دورکنی بنچ نے اختلاف رائے کے باوجود معاملے کو بڑی بنچ کے حوالے کرنے کی سفارش کی۔
سپریم کورٹ نے بدھ کو چیف الیکشن کمشنر اور الیکشن کمشنروں کی تقرری کے عمل سے متعلق ۲۰۲۳ءکے قانون کو چیلنج کرنے والی درخواستوں کوبڑی بنچ کے پاس بھیج دیا۔اگرچہ جسٹس دیپانکر دتہ اور جسٹس ستیش چندر شرما کی بنچ اس بات پر متفق نہیں تھی کہ اس معاملے کو بڑی بنچ کے پاس بھیجا جائے یا نہیں، لیکن مزید تعطل سے بچنے کیلئے انہوں نے حکم دیا کہ اس معاملے کو چیف جسٹس آف انڈیا کے سامنے پیش کیا جائے تاکہ مناسب تعداد پر مشتمل ایک آئینی بنچ تشکیل دی جا سکے۔ بنچ نے مشاہدہ کیا کہ ابتدائی نکتے پر معاملے کو ۳؍رکنی بنچ کے پاس بھیجنا وقت طلب عمل ہوگا۔
واضح رہے کہ آئینی بنچ کے پاس بھیجنے کا مطالبہ مرکزی حکومت نےکیاتھا۔جسٹس دتہ کی رائے تھی کہ بڑی بنچ کو معاملہ بھیجنے کا مرکزی حکومت کا مطالبہ غیر ضروری ہے جبکہ جسٹس شرما کی رائے اس کے برعکس تھی۔جسٹس دتہ نے قانون پر سوال اٹھاتے ہوئے ایکٹ کے تحت چیف الیکشن کمشنر اورالیکشن کمشنروں کی تقرری کے آزادانہ عمل کو یقینی بنانے پر شک کا اظہار کیا۔انہوں نے کہا کہ موجودہ قانون کے تحت تقرری کمیٹی میں اپوزیشن لیڈرکی شمولیت بے معنی ہوکر رہ گئی ہے۔