• Mon, 28 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

سپریم کورٹ میں کئی بدعنوان جج رہے جنہوں نے نظام انصاف کو نقصان پہنچایا: دُشینت دَوے

Updated: September 28, 2026, 10:32 AM IST | Agency | New Delhi

ایس آئی آر اور شہریوں کی حق رائے دہی سے محرومی کیلئے بھی عدلیہ کو ذمہ دار ٹھہرایا۔

Advocate Dushyant Dave. Photo: INN
ایڈوکیٹ دُشینت دوے۔ تصویر: آئی این این

 سپریم کورٹ کے مایہ ناز وکلاء میںشمار ہونے والے سینئر وکیل دُشینت دَوے نے  الزام عائد کیا کہ سپریم کورٹ میں کئی بدعنوان جج رہے ہیں، جن کے طرز عمل سے نظا مِ انصاف کو شدید نقصان پہنچا ۔ انہوں نے مزید کہا کہ عدالتی نظام امیر اور طاقتور لوگوں کے حق میں جھک گیا ہے اور تیزی سے طاقتور ہوتی حکومت کی حمایت کرتا رہا ہے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں  نے ایس آئی آر پر تنقید کرتے ہوئے  اس کے تعلق سے عدلیہ کے رویے پر ناراضگی کااظہار کیا۔ دوے نے الزام لگایاکہ عدلیہ کی وجہ سے شہریوں کی بڑی تعداد حق رائے دہی سے محروم ہورہی ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: چین میں لوگ اپنے چہرے، ۱۵ ہزار ڈالر تک کے عوض اے آئی کو کرائے پر دے رہے ہیں

’’ہم آئین کو ناکام بنا رہے ہیں یا آئین نےہمیں مایوس کیا‘‘ کے عنوان سے  ۱۷؍ویں کے ایم بشیر میموریل لیکچر سے خطاب  میں دوے نے کہا کہ عدلیہ میں ’’کچھ غیر معمولی جج‘‘ ضرور رہے ہیں، لیکن دیگر ججوں کے طرز عمل نے ’’انصاف کو بہت نقصان پہنچایا ہے۔‘‘ انہوں نے کہاکہ ’’ سپریم کورٹ میں اتنے زیادہ بدعنوان جج رہے ہیں کہ اب میں ان کی تعداد بھی بھول چکا ہوں۔‘‘ایس آئی آر پر تنقید کرتے ہوئے انہوں  نے اس کے خلاف داخل ہونےوالی پٹیشنوں پر سپریم کورٹ کے طرز عمل کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK