Updated: September 22, 2026, 6:02 PM IST
| New Delhi
سپریم کورٹ نے منگل کو ’وندے ماترم‘ کے تمام ۶؍ بند نہ گانے والے ایسے شخص کے خلاف مجرمانہ کارروائی نہ ہونے کی توقع ظاہر کی ہے جس کا انکار مذہبی یا ضمیر کی آزادی کی بنیاد پر ہو۔ چیف جسٹس سوریا کانت، جسٹس جوئے مالیہ باگچی اور جسٹس وی موہنا پر مشتمل بنچ نے کرناٹک موسیقی کے معروف گلوکار ٹی ایم کرشنا کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے مرکز سے ۲؍ ہفتوں میں جواب طلب کیا۔
سپرریم کورٹ آف انڈیا۔ تصویر: آئی این این
سپریم کورٹ نے منگل کو واضح کیا کہ ’وندے ماترم‘ کے تمام ۶؍ بند گانے سے مذہبی یا ضمیر کی بنیاد پر انکار کرنے والے شخص کو مجرمانہ نتائج کا سامنا نہیں کرنا چاہئے۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ وہ اس معاملے میں اس بات کا جائزہ لے گی کہ ۱۹۸۶ء کے تاریخی بیجو ایمانوئل بنام ریاست کیرالہ فیصلے میں تسلیم کیے گئے ضمیر کی آزادی کے اصول کا موجودہ قانون پر اطلاق ہوتا ہے یا نہیں۔ یہ مشاہدہ چیف جسٹس سوریا کانت، جسٹس جوئے مالیہ باگچی اور جسٹس وی موہنا پر مشتمل ۳؍ رکنی بنچ نے معروف کرناٹک گلوکار ٹی ایم کرشنا کی درخواست پر سماعت کے دوران کیا۔ عدالت نے مرکزی حکومت سے درخواست پر ۲؍ ہفتوں کے اندر جواب داخل کرنے کو کہا ہے۔
۲۰۲۶ء کی ترمیم کو چیلنج
ٹی ایم کرشنا نے قومی وقار کی توہین کی روک تھام ایکٹ، ۱۹۷۱ء میں ۲۰۲۶ء میں کی گئی ترمیم کی آئینی حیثیت کو چیلنج کیا ہے۔ ترمیم کے ذریعے قومی ترانے کے ساتھ قومی گیت ’وندے ماترم‘ کو بھی قانونی تحفظ فراہم کیا گیا ہے۔ ترمیم شدہ قانون میں قومی ترانے یا قومی گیت کی گائیکی کو جان بوجھ کر روکنے یا ایسی تقریب میں خلل ڈالنے پر ۳؍ سال تک قید، جرمانہ یا دونوں کی سزا کی گنجائش رکھی گئی ہے۔ کرشنا نے اس ترمیم کے ساتھ وزارت داخلہ کی ان ہدایات کو بھی چیلنج کیا ہے جن میں ’وندے ماترم‘ کے مکمل ۶؍ بندوں کو سرکاری، رسمی اور مخصوص ثقافتی تقریبات میں گانے کی ہدایت دی گئی ہے۔ درخواست میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ان ہدایات اور فوجداری سزا کی شق کو ایک ساتھ پڑھنے سے شہریوں پر مکمل گیت گانے کا عملی دباؤ پیدا ہوتا ہے۔
آخری ۴؍ بند پر اعتراض
کرشنا کی درخواست میں خاص طور پر ’وندے ماترم‘ کے آخری ۴؍ بند پر اعتراض کیا گیا ہے۔ درخواست کے مطابق ان بندوں میں ہندو دیویوں درگا، لکشمی اور سرسوتی کے حوالے موجود ہیں۔ درخواست گزار کا موقف ہے کہ ان بندوں کو لازمی طور پر گانے کا تقاضا مذہبی آزادی اور آزادیٔ ضمیر سے متعلق آئینی حقوق کو متاثر کر سکتا ہے۔ درخواست میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ’وندے ماترم‘ کی عوامی ادائیگی میں تاریخی طور پر پہلے ۲؍ بندوں کو ترجیح دی جاتی رہی ہے۔ کرشنا نے دعویٰ کیا ہے کہ ۱۹۳۷ء میں کانگریس کی جانب سے قومی اجتماعات میں گیت کے پہلے ۲؍ بندوں تک محدود رکھنے کا فیصلہ کیا گیا تھا، جس کے پس منظر میں بعد کے بندوں میں موجود مذہبی حوالوں پر اعتراضات بھی شامل تھے۔
بیجو ایمانوئل فیصلے کا حوالہ
سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے ۱۹۸۶ء کے بیجو ایمانوئل معاملے کا حوالہ دیا، جس میں عدالت نے ان اسکولی طلبہ کو تحفظ فراہم کیا تھا جو مذہبی اور ضمیر کی بنیاد پر قومی ترانہ نہیں گاتے تھے، تاہم وہ احترام کے ساتھ کھڑے رہتے تھے۔ عدالت نے قرار دیا تھا کہ محض ترانہ نہ گانے کی وجہ سے، جب طلبہ احترام کا مظاہرہ کر رہے ہوں، انہیں سزا نہیں دی جا سکتی۔ موجودہ سماعت میں بنچ نے اسی قانونی اصول کی روشنی میں کہا کہ کسی شخص کو ضمیر یا مذہبی آزادی کے تحت ’وندے ماترم‘ کے تمام یا بعض بند گانے سے انکار پر فوجداری نتائج کا سامنا نہیں کرنا چاہئے۔ تاہم عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ قومی گیت کیا ہے یا اس کے کتنے بند سرکاری طور پر گائے جائیں، یہ سوال موجودہ سماعت کا بنیادی موضوع نہیں ہے۔
’قومی گیت‘ کی حیثیت پر بھی بحث
سماعت کے دوران کرشنا کے وکیل سینئر ایڈووکیٹ ڈاکٹر ایس مرلی دھر نے یہ نکتہ بھی اٹھایا کہ قانون میں ’قومی گیت‘ کی واضح تعریف موجود نہیں ہے۔ ان کی جانب سے یہ دلیل دی گئی کہ ’جَن گَن مَن‘ کو ۲۴؍ جنوری ۱۹۵۰ء کو دستور ساز اسمبلی نے قومی ترانے کے طور پر اپنایا، جبکہ ’وندے ماترم‘ کو اسی انداز میں دستور ساز اسمبلی کی جانب سے باضابطہ طور پر ’قومی گیت‘ قرار دیے جانے کا حوالہ درخواست میں نہیں ملتا۔ جسٹس باگچی نے سماعت کے دوران کہا کہ ’وندے ماترم‘ کو روایتی طور پر قومی گیت سمجھا جاتا رہا ہے، تاہم وکیل نے اس پر وضاحت کی کہ تاریخی طور پر عوامی سطح پر اس کے پہلے ۲؍ بند ہی گائے جاتے رہے ہیں۔ عدالت نے اس مرحلے پر ’قومی گیت‘ کے تعین یا ۲؍ یا ۶؍ بندوں میں سے کسی ایک کو سرکاری طور پر منتخب کرنے کے سوال پر حتمی رائے دینے سے گریز کیا۔
عدالت نے اس کے بجائے اس سوال کو اہم قرار دیا کہ قومی گیت سے متعلق کسی حکومتی انتظام کو فوجداری سزا سے جوڑا جا سکتا ہے یا نہیں، بالخصوص اس صورت میں جب کوئی شخص مذہبی یا ضمیر کی بنیاد پر گانے سے انکار کرے۔ مرکز کو جواب داخل کرنے کے لیے ۲؍ ہفتوں کی مہلت دی گئی ہے، جس کے بعد معاملے کی مزید سماعت ہوگی۔