Updated: September 06, 2026, 4:08 PM IST
| Mumbai
بالی ووڈ کے سپر اسٹار ایک ایسے دور میں فلم انڈسٹری میں ابھرے جب ۱۹۹۰ء کی دہائی میں ممبئی انڈرورلڈ کا فلمی دنیا پر مبینہ اثر نمایاں تھا۔ فلم سازوں، اداکاروں اور پروڈیوسرز کو دھمکیوں، دباؤ اور بعض فلمی منصوبوں میں مداخلت کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ حال ہی میں فلم ساز سنجے گپتا نے ایک پوڈکاسٹ میں انکشاف کیا کہ شاہ رخ خان نے ان دھمکیوں کے سامنے جھکنے کے بجائے انتہائی دوٹوک انداز اختیار کیا تھا۔
شاہ رخ خان۔ تصویر:آئی این این
بالی ووڈ کے سپر اسٹار ایک ایسے دور میں فلم انڈسٹری میں ابھرے جب ۱۹۹۰ء کی دہائی میں ممبئی انڈرورلڈ کا فلمی دنیا پر مبینہ اثر نمایاں تھا۔ فلم سازوں، اداکاروں اور پروڈیوسرز کو دھمکیوں، دباؤ اور بعض فلمی منصوبوں میں مداخلت کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ حال ہی میں فلم ساز سنجے گپتا نے ایک پوڈکاسٹ میں انکشاف کیا کہ شاہ رخ خان نے ان دھمکیوں کے سامنے جھکنے کے بجائے انتہائی دوٹوک انداز اختیار کیا تھا۔
یہ بھی پڑھئےٖ:انشومن جھا اور رگھوبیر یادو کی فلم ’’اوم کا ہری‘‘۱۸؍ ستمبر کو ریلیز ہوگی
فلمساز نے ’’حسین زیدی فائلز‘‘ پوڈکاسٹ میں بتایا کہ جب شاہ رخ خان کو انڈرورلڈ کی جانب سے دھمکیاں دی گئیں تو انہوں نے کسی بھی دباؤ میں آنے سے صاف انکار کردیا تھا۔ سنجے گپتا کے مطابق شاہ رخ نے کہا تھا کہ وہ ان کی مرضی کے مطابق کوئی فلم یا شو نہیں کریں گے۔ ان کا دوٹوک جواب تھا: ’’میں پٹھان ہوں، گولی مارنی ہے تو مار دو۔‘‘ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ وہ دھمکیوں سے خوفزدہ نہیں ہوں گے اور انڈرورلڈ کے کہنے پر کام نہیں کریں گے۔ گپتا کا دعویٰ ہے کہ شاہ رخ کے اس رویے نے بالآخر انہیں ان لوگوں کا احترام بھی دلایا۔
یہ پہلی مرتبہ نہیں ہے کہ شاہ رخ خان نے ۱۹۹۰ء کی دہائی کے دوران ملنے والی دھمکیوں کے بارے میں بات کی ہو۔ ایک پرانے انٹرویو میں اداکار نے کامیڈین اور اداکارہ روبی ویکس کے ساتھ گفتگو میں بتایا تھا کہ اس وقت فلمی شخصیات پر مخصوص فلموں میں کام کرنے کے لیے دباؤ ڈالا جاتا تھا اور انکار کی صورت میں سنگین نتائج کی دھمکیاں دی جاتی تھیں۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا واقعی انہیں فون کرکے کسی فلم میں کام کرنے یا جان سے مارنے کی دھمکی دی جاتی تھی، تو شاہ رخ نے اس بات کی تصدیق کرتے ہوئے کہا تھا کہ حقیقت اس سے بھی زیادہ سنگین تھی۔ انہوں نے بتایا کہ انہیں کئی مرتبہ جان سے مارنے کی دھمکیاں ملیں اور تقریباً تین سال تک انہیں سخت سیکوریٹی اور پولیس تحفظ حاصل رہا۔
فلمی صحافی اور مصنفہ نے اپنی کتاب King of Bollywood: Shah Rukh Khan and the Seductive World of Indian Cinema میں بھی شاہ رخ خان کے انڈرورلڈ سے مبینہ سامنا ہونے کے واقعات کا ذکر کیا ہے۔ ان کے مطابق ۱۹۹۷ء میں فلم ’’ڈُپلی کیٹ ‘‘ کی شوٹنگ کے دوران شاہ رخ خان کی سلامتی کو لے کر خدشات پیدا ہوئے تھے۔ مبینہ طور پر مہاراشٹر پولیس کے سینئر افسر راکیش ماریا نے فلم ساز مہیش بھٹ کو اداکار کی جان کو ممکنہ خطرے سے آگاہ کیا، جس کے بعد شاہ رخ کو ذاتی محافظ فراہم کیا گیا۔
یہ بھی پڑھئے:مراد آباد: سرکٹ ہاؤس کے احاطہ میں نماز پڑھنے پر ایس پی کے لیڈر پر ایف آئی آر
انوپما چوپڑا کے مطابق شاہ رخ خان کو مبینہ طور پر انڈرورلڈ ڈان ابو سالم کی جانب سے بھی فون آیا تھا۔ الزام تھا کہ شاہ رخ نے ایک ایسے پروڈیوسر سے وابستہ فلم میں کام کرنے سے انکار کردیا تھا جس کے انڈرورلڈ سے تعلقات بتائے جاتے تھے۔رپورٹس کے مطابق گفتگو کے دوران شاہ رخ پر دباؤ ڈالا گیا کہ وہ مخصوص فلم میں کام کریں، لیکن اداکار نے اپنی مرضی کے خلاف کام کرنے سے انکار کردیا۔ ان سے منسوب ایک جواب تھا: ’’میں آپ کو یہ نہیں بتاتا کہ کس کو گولی مارنی ہے، اس لیے آپ بھی مجھے یہ نہ بتائیں کہ کون سی فلم کرنی ہے۔‘‘
فلمساز نے اپنی سوانح عمری *An Unsuitable Boy میں بھی ان دنوں کو یاد کیا ہے جب انہیں انڈرورلڈ کی جانب سے مبینہ دھمکیوں کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ کرن جوہر کے مطابق شاہ رخ خان نے انہیں خوفزدہ ہونے سے روکنے کے لیے انتہائی مضبوط انداز میں ان کا ساتھ دیا۔ انہوں نے مبینہ طور پر کہا کہ اگر کسی میں انہیں نقصان پہنچانے کی ہمت ہے تو سامنے آئے، کیونکہ وہ خود کرن کے ساتھ کھڑے ہیں۔ کرن جوہر کے بیان کے مطابق شاہ رخ نے ان کی والدہ کو بھی یقین دلایا تھا کہ وہ کرن کو اپنے بھائی کی طرح سمجھتے ہیں اور انہیں کچھ نہیں ہونے دیں گے۔ اسی موقع پر شاہ رخ نے خود کو’’پٹھان‘‘ قرار دیتے ہوئے اپنے مضبوط حوصلے کا اظہار کیا تھا۔