شاہین باغ ،جامعہ اور دیگرمظاہرہ گاہوں پر احتجاجی نعروں اورآرٹ ورک کوخراب کرنے کا پولیس پر الزام

Updated: March 25, 2020, 9:15 AM IST | Agency | New Delhi

شہریت ترمیمی قانون ، این آر سی اور این پی آر کے خلاف پوری دنیا میں شہرت حاصل کرنے والے شاہین باغ احتجاج اور جامعہ ملیہ اسلامیہ کی مظاہرہ گاہ کو پولیس نے منگل کو ہٹادیا۔ اس دوران مظاہرہ گاہ میں نصب فنکاری کے نمونوں (آرٹ ورک) کوہٹادیا گیا اور احتجاجی پینٹنگ کوسفیدرنگ سے چھپادیا گیا۔دریں اثناء انہیں خراب کرنے کا مظاہرین نے پولیس پر الزام لگایاہے۔

Delhi Police - Pic : PTI
شاہین باغ مظاہرہ گاہ میں لگے احتجاجی پوسٹرس کو پولیس اہلکار ہٹاتے ہوئے۔ تصویر:پی ٹی آئی

شہریت ترمیمی قانون ، این آر سی اور این پی آر کے خلاف پوری دنیا میں شہرت حاصل کرنے والے شاہین باغ احتجاج اور جامعہ ملیہ اسلامیہ کی مظاہرہ گاہ کو پولیس نے منگل کو ہٹادیا۔ اس دوران مظاہرہ گاہ میں نصب فنکاری کے نمونوں (آرٹ ورک) کوہٹادیا گیا اور احتجاجی پینٹنگ کوسفیدرنگ سے چھپادیا گیا۔دریں اثناء انہیں خراب کرنے کا مظاہرین نے پولیس پر الزام لگایاہے۔
 ’دی پرنٹ‘ کی خبر کے مطابق جنوب مشرق کے ڈپٹی پولیس کمشنر آر پی مینا نے بتایا کہ ’’راستے میں رکاوٹ بننے والے تمام سامان کو ہم نے ہٹادیا  ہے۔ اب جبکہ یہ احتجاج ختم ہوگیا ہے تو ہم نے  سامان بھی ہٹادیا  ہے۔‘‘ تاہم انہوں نے دونوں مظاہرہ گاہوں پر لگائے گئے آرٹ ورک پر پینٹ کرنے کی تردید کی  اور دعویٰ کیا کہ اس کیلئے شہری انتظامیہ ذمہ دار ہے۔ان کا کہنا ہے کہ ’’مقامی انتظامیہ اور حکام دیواروں پر رنگ لگانے کیلئے ذمہ دار ہیں تاکہ اسے اصل حالت میں لایا جاسکے۔‘‘
 اس بارے میں جامعہ ملیہ اسلامیہ میں بی آر امبیڈکر ہوسٹل میں مقیم فیصل دلشاد نے بتایا کہ ’’ وہ (انتظامیہ کے اہلکار) بالٹیوں میں سفید رنگ لے کر آئے اور انہوں نے یونیورسٹی کی دیواروں پر لکھے گئے تمام نعروں اور فنکاری کے نمونوں پر اسے لگادیا۔‘‘
 جامعہ نگر میں رہنے والے سلمان سیّد جو اس وقت  وہاں موجود تھے ، نے  بتایا کہ ’’ یہ صبح کے ساڑھے ۷؍ بجے کیا گیا۔  یونیورسٹی کے اطراف اچانک ہی  بھاری تعداد میں پولیس فورس تعینات کردی گئی اورپھر  یونیورسٹی کی دیواروں پر لکھے گئے تمام نعروں اور پینٹنگ کو مٹانا شروع کردیا۔‘‘
 مظاہرہ گاہوں کو خالی کروانے کے بعد دہلی پولیس نے ڈرون سے یونیورسٹی کے اطراف کے حالات کی نگرانی بھی کی۔
 اس بارے میں دہلی پولیس کمشنر ایس این شریواستو نے بتایا کہ ’’ آج جامعہ ، شاہین باغ اور دیگر مظاہرہ گاہوں کو ہم جب ہٹارہے تھے تو چند افراد کو گرفتار کیا اور تحویل میں لے لیا کیونکہ ہمیں کچھ مشکلات پیش آرہی تھی۔ تاہم میں یہ بتاتے ہوئے خوش ہو کہ لوگوں کی جانب سے کوئی مزاحمت نظر نہیں آئی۔ ‘‘
 تاہم متعدد افراد نے پولیس پر الزام لگایا کہ انہوں نے  خاص طور سے جامعہ کی مظاہرہ گاہ کی احتجاجی پینٹنگ ،  آرٹ ورک  اور نعروں کو خصوصی طور پر نشانہ بنایا اور ان پر سفیدرنگ لگادیا۔ یونیورسٹی کی ماس کمیونیکیشن کی طالبہ صائمہ سعید نے اس تعلق سے کہا کہ ’’ یہ ہمارے احتجاج کے باقیات پر حملہ تھا کیونکہ سب کچھ یوں ہی چھوڑنے کے دوران انہوں نے خصوصی طورپر فیض احمد فیض ، پاش اور منٹو کی پینٹنگ والے نعروں کو خراب کیا۔‘‘
 اسی طرح کا نظارہ دیگر مظاہرہ گاہوں کا تھا۔ حوض رانی اور ترکمان گیٹ کا احتجاج پیر کو ہی ختم کردیا گیا تھا لیکن پولیس  اب بھی ان جگہوں کو مکمل طورپر صاف کرتی نظر آئی۔
 حوض رانی احتجاج کے منتظمین میں شامل ایک شخص نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ’’ پولیس مظاہرہ گاہ میں داخل ہوئی اور خیمے کو مکمل طورپر اکھاڑدیا  اور کھمبوں کو توڑ دیایہاں تک کہ تکیے بھی لے گئی۔ آخر ایسا کیوں کیا گیا جبکہ وہاں کوئی احتجاج کرنے والا بھی موجود نہیں تھا؟   لاک ڈاؤن کے پیش نظر یہ پولیس کی ترجیح کوظاہر کرتا ہے۔‘‘
 دریں اثناء شاہین باغ کے اطراف لوگ جمع ہوگئے تھے۔ شاہین باغ کی منتظمین میں شامل خورشید عالم نے کہا کہ ’’وہ خیمے ،  وہاں بنایا گیا انڈیا گیٹ اور فنکاری کے دیگر نمونے بھی لے گئے۔ ‘‘انہوں نے مزید کہا کہ ’’ ہم کم ازکم ۳۱؍ مارچ تک انتظار کریں گے۔ لاک ڈاؤن ختم ہونے کے بعد آئندہ کیا جائے گا ، اس کی ہم منصوبہ بندی  کریں گے۔‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK