شہر میں ایف ڈی اے کی جانب سے اب تک کی سب سے بڑی کارروائی، ۲؍ کمپنیوں کے لائسنس معطل کئے گئے۔
EPAPER
Updated: July 15, 2026, 10:31 AM IST | Z. A. Khan | Aurangabad
شہر میں ایف ڈی اے کی جانب سے اب تک کی سب سے بڑی کارروائی، ۲؍ کمپنیوں کے لائسنس معطل کئے گئے۔
تہواروں کے موسم میں عام شہریوں کے گھروں میں استعمال ہونے والے خوردنی تیل سے متعلق اورنگ آبادمیں ایک نہایت چونکا دینے والا معاملہ سامنے آیا ہے۔ محکمہ خوراک و ادویات انتظامیہ (ایف ڈی اے) نے شہرو ضلع میں واقع دو معروف آئل ری پیکنگ فیکٹریوں پر خفیہ اطلاع کی بنیاد پر اچانک چھاپہ مار کر۲؍ کروڑ ۹۳؍ لاکھ۳۵؍ ہزار۶۰۳؍روپے مالیت کا مشتبہ اور غیر معیاری خوردنی تیل ضبط کر لیا۔ ایف ڈی اے کی تاریخ میں اسے اب تک کی سب سے بڑی کارروائی قرار دیا جا رہا ہے۔ عوام کی صحت سے کھلواڑ کرنے کے الزام میں دونوں کمپنیوں کے فوڈ لائسنس فوری طور پر معطل کر دیے گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: منموہن نے کیوں کہا تھا کہ ’’میں خود کشی کرلوں گا‘‘
خفیہ اطلاع کی بنیاد پر محکمہ خوراک و ادویات کی ضلعی ٹیم نے۱۱؍جولائی کو ضلع کے تعلقہ پَیٹھن کے گیورائی تانڈہ میں واقع ’میسرز باگاریا ایگرو پروڈکٹس ‘ اور شہر میں ابھینے ٹاکیز کے عقب، لکشمن چاوڑی علاقے میں قائم ’میسرز باگاریا ویجیٹیبل پروڈکٹس پرائیویٹ لمیٹڈ‘ پر بیک وقت چھاپہ مار کارروائی کی۔ کارروائی کے دوران فیکٹریوں کے اندر صفائی کی انتہائی خراب صورتحال اور مبینہ بے ضابطگیوں کو دیکھ کر تفتیشی افسران بھی حیران رہ گئے۔چھاپے کے دوران فوڈ سیفٹی قوانین کی سنگین خلاف ورزیاں سامنے آئیں۔ بتایا گیا کہ صارفین کے گھروں تک پہنچنے والے خوردنی تیل کی پیکنگ کے لیے پہلے سے استعمال شدہ، پرانے اور انتہائی گندے ڈبوں کا بے دریغ استعمال کیا جا رہا تھا۔جانچ میں یہ بھی سامنے آیا کہ ریفائنری سیکشن کی مشینری، فیکٹری کی فرش، دیواریں اور اطراف کا ماحول انتہائی خستہ اور غیر صاف تھا۔ تیل کی مشینوں پر گرد و غبار، مکڑی کے جالے، میل کچیل اور زنگ کی موٹی تہہ جمی ہوئی تھی اور انہی مشینوں کے ذریعے تیل کی پیکنگ کی جا رہی تھی۔ فیکٹری کے اندر بدبو دار اور انتہائی گندا تیل کھلے ٹبوں میں رکھا گیا تھا۔ مزید یہ کہ بند پڑے غیر صاف ریفائنری سیکشن اور فعال ری پیکنگ سیکشن ایک ہی احاطے میں موجود ہونے کی وجہ سے خوردنی تیل کے آلودہ ہونے کا شدید خطرہ پیدا ہو رہا تھا۔
یہ بھی پڑھئے: کرناٹک میں ملک کی پہلی ’اے آئی‘ یونیورسٹی کے قیام کا اعلان
تفتیش کے دوران یہ بھی انکشاف ہوا کہ دونوں بڑی کمپنیوں میں خوردنی تیل کے معیار کی جانچ کے لیے ضروری اندرونی تجربہ گاہ (لیباریٹری) سرے سے فعال نہیں تھی، جبکہ کمپنیوں کے پاس تیل کے تجزیے سے متعلق کوئی رپورٹ بھی موجود نہیں تھی۔ حیرت انگیز طور پر اتنی بڑی مقدار میں خوردنی تیل کی تیاری کے باوجود معیار کی نگرانی کیلئے کسی تکنیکی ماہر یا اہل ذمہ دار کی تقرری بھی نہیں کی گئی تھی۔ ابتدائی جانچ کے مطابق صرف منافع کمانے کی خاطر صارفین کی صحت اور غذائی تحفظ کو مسلسل نظر انداز کیا جا رہا تھا۔