Inquilab Logo Happiest Places to Work

شرد پوار ۳۰؍ سال بعد ودھان بھون پہنچے، کرناٹک سرحد تنازع پر گفتگو

Updated: July 09, 2026, 4:07 PM IST | Agency | Mumbai

۴؍ بار وزیر اعلیٰ رہ چکے معمر لیڈر کو مہاراشٹر کرناٹک تنازع کے مقدمے سے متعلق حکمت عملی تیار کرنے کیلئے مشورے کی خاطر بلایا گیا تھا ۔

Sharad Pawar, Devendra Fadnavis And Eknath Shinde, During The Meeting.Photo;INN
شرد پوار، دیویندر فرنویس اور ایکناتھ شندے ، میٹنگ کے دوران- تصویر:آئی این این
مہاراشٹر اور کرناٹک کے درمیان جاری سرحدی تنازع کے سلسلے میں بدھ کو ودھان بھون میں ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی کا اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں نیشنلسٹ کانگریس پارٹی کے بانی شرد پوار نے بھی شرکت کی۔ وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس کی صدارت میں ہونے والا یہ اجلاس آئندہ سپریم کورٹ میں ہونے والی سماعت کے پیش نظر نہایت اہم تصور کیا جا رہا ہے۔ ۴؍ بار مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ رہ چکے شرد پوار تقریباً ۳۰؍ سال بعد ودھان بھون پہنچے تھے۔ 
 
 
شرد پوار کی جاری مانسون اجلاس کے دوران ودھان بھون میں موجودگی نے سیاسی حلقوں میں نئی قیاس آرائیوں کو جنم دیا ہے، کیونکہ ۱۹۹۶ء کے بعد تقریباً تین دہائیوں میں یہ ان کی  ودھان بھون میںپہلی باضابطہ آمد تھی۔ ودھان بھون پہنچنے پر این سی پی( شرد) کے اراکین جینت پاٹل، جتیندر اوہاڑ اور روہت پاٹل نےان کا پرتپاک استقبال کیا۔ اجلاس میں سرحدی تنازع سے متعلق ریاست کی قانونی تیاری، سپریم کورٹ میں پیش کئے جانے والے دلائل، آئندہ حکمت عملی اور بدلتی ہوئی صورتحال پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا تاکہ ریاست کا مقدمہ مزید مضبوط انداز میں پیش کیا جا سکے۔اجلاس میں وزیر اعلیٰ دیویندر فرنویس، نائب وزرائے اعلیٰ ایکناتھ شندے اور اجیت پوار، مرکزی وزیر نارائن رانے، این سی پی( شرد) کے ریاستی صدر ششی کانت شندے سمیت کمیٹی کے دیگر اراکین نے شرکت کی۔ تاہم شیو سینا (ادھو) کا کوئی نمائندہ اجلاس میں موجود نہیں تھا، جس پر سیاسی حلقوں میں مختلف تبصرے کئے جا رہے ہیں۔
مہاراشٹر کرناٹک سرحدی تنازع کی تاریخ ۱۹۵۶ء میں ریاستوں کی تنظیم نو سے وابستہ ہے، جب مراٹھی زبان بولنے والے ۸۶۵؍ دیہات، جن میں بیلگاوی، کاروار اور نپانی جیسے علاقے شامل تھے کرناٹک میں شامل کر دیئے گئے۔ اس سے قبل کرناٹک کا نام میسور ریاست تھا۔ مہاراشٹر نے ابتدا ہی سے اس فیصلے کی مخالفت کی، جس کے بعد ۱۹۶۶ء میں مہاجن کمیشن تشکیل دیا گیا۔ مہاجن کمیشن نے اپنی رپورٹ میں بیلگاوی سمیت اہم سرحدی علاقوں کو کرناٹک میں برقرار رکھنے کی سفارش کی تھی، لیکن مہاراشٹر حکومت نے اس رپورٹ کو غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا۔ کئی دہائیوں تک احتجاج، سیاسی کشمکش اور مذاکرات کے بعد مہاراشٹر حکومت نے ۲۰۰۴ء میں آئین ہند کے آرٹیکل ۱۳۱؍ کے تحت سپریم کورٹ میں اصل مقدمہ دائر کیا۔
 
 
اب جبکہ یہ قانونی لڑائی فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو رہی ہے، مہاراشٹر حکومت لسانی اکثریت اور جغرافیائی تسلسل کی بنیاد پر اپنے دلائل کو مزید مضبوط بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ شرد پوار کا طویل سیاسی تجربہ اور سرحدی تحریک سے ان کی گہری وابستگی ریاست کی قانونی ٹیم کیلئے اہم ثابت ہو سکتی ہے۔ سپریم کورٹ میں جلد ہونے والی سماعت پر مہاراشٹر اور کرناٹک کے سرحدی علاقوں میں آباد ہزاروں مراٹھی باشندوں کی نظریں ٹکی لگی ہوئی ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK