• Thu, 15 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

۱۱؍ دنوں کی تیزی کے بعد شیئر بازار میں گراوٹ

Updated: September 19, 2023, 10:28 AM IST | Mumbai

تہوار کے موسم میں گراوٹ کے سبب سرمایہ کاروں میںتشویش، عالمی سطح پر بھی ملا جلا اثر،چین اور جاپان کے شیئر بازاروں میں تیزی جبکہ برطانیہ اور جرمنی میں گراوٹ

The share market hit its all-time high last week (file photo).
شیئر بازار پچھلے ہفتے اپنی سب سے اونچی سطح پر پہنچ گیا تھا ( فائل فوٹو)

شیئر بازار میں مسلسل ۱۱؍ دنوں کی تیزی بعد پیر کو اچانک گراوٹ آگئی۔  حیران کن طور پر تہوار کا موسم شروع ہونے سے پہلے یہ گراوٹ آئی ہو جو تشویش کی بات ہے۔ یاد رہے کہ اگلے ہی ہفتے  امریکہ، برطانیہ، ناروے، سویڈن ، سوئٹزرلینڈ اور جاپان میں مرکزی بینکوں کے اجلاس ہونے والے ہیں اسلئے بھی شیئر باازار میں گراوٹ معنی خیز معلوم ہوتی ہے۔
  یاد رہےکہ عالمی سطح پرشرح نمو  میں اضافے کے تعلق سے بعض خدشات ہیں جس کی وجہ سے عالمی مارکیٹ میں بھی سرمایہ کاروںکا ملا جلا رجحان دیکھنے کو مل رہا ہے۔  جہاں جرمنی ، ہانگ کانگ اور  برطانیہ کے شیئر بازاروں میں گرواٹ  دیکھی گئی جبکہ چین اور جاپان کے شیئر بازار اونچائی کی طرف گئے۔ کہا جا رہا ہے کہ عالمی سطح پر اسی ملے جلے  رجحان کی   وجہ سے ہندوستان میں پیر کو ٹیلی کوم، آئی ٹی، ریالٹی اور ٹیک سیکٹر سمیت ۱۲؍ گروپوں میں فروخت کے باعث اسٹاک مارکیٹ گزشتہ مسلسل گیارہ دن کی تیزی گنوا کر گرگیا۔
بی ایس ای اور نفٹی دونوں میں گراوٹ
  اعداد وشمار کے مطابق  بامبے اسٹاک ایکسچینج   کا حساس انڈیکس سینسیکس ۲۴۱ء۷۹؍ پوائنٹ گر کر ۶۷۵۹۶ء۸۴؍  پوائنٹ پر بند ہوا اور نیشنل اسٹاک ایکسچینج (این ایس ای) کا نفٹی ۵۹ء۰۵؍   پوائنٹ گر کر۲۰۱۳۳ء۳۰؍  پوائنٹ پر آگیا۔ اسی طرح بی ایس ای کا مڈ کیپ ۰ء۲۷؍ فیصد گرکر ۳۲۴۱۸ء۸۱؍ پوائنٹ پر اور اسمال کیپ ۰ء۶۰؍  فیصد گر کر۳۷۶۰۱ء۱۴؍ پوائنٹ پر بند ہوا۔
 اس عرصے کے دوران بامبے اسٹاک ایکسچینج میں کل ملا کر ۳۹۴۷؍کمپنیوں کے حصص میں کاروبار ہوا، جن میں سے ۲۰۸۲؍ میں فروخت، ۱۶۹۵؍میں خریداری  ہوئی ۔ جبکہ ۱۷۰؍ میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔ اسی طرح نفٹی کی ۲۶؍ کمپنیوں میں گراوٹ ہوئی جبکہ باقی ۲۴؍ میں تیزی نظر آئی۔ بی ایس ای کے ۱۲؍ گروپوں میں فروخت کا دباؤ رہا۔ اس دوران کموڈٹیز ۰ء۹۶؍، انرجی ۰ء۰۳؍ فنانشیل سروسیز ۰ء۴۵؍، ہیلتھ کیئر ۰ء۶۱؍ ، انڈسٹریلس ۰ء۱۹؍، آئی ٹی ۰ء۷۸؍، ٹیلی کام ۱ء۸۶؍، بینکنگ ۰ء۴۵؍، میٹل ۰ء۸۹؍، ر یالٹی  ۱ء۲۷؍، ٹیک ۰ء۹۲؍ فیصد اور سروسیز گروپ کے حصص میں ۰ء۷۴؍ فیصد کمی ہوئی۔
 چین اور جاپان میں تیزی 
 عالمی بازار میں ملا جلا رجحان رہا۔ اس عرصے کے دوران برطانیہ کے ایف ٹی ایس ای میں ۰ء۳۱؍، جرمنی کے ڈی اے ایکس میں ۰ء۵۹؍ اور ہانگ کانگ کے ہینگ سینگ میں ۱ء۳۹؍ فیصد گراوٹ ریکارڈ کی گئی، جب کہ جاپان کے نکئی میں ۱ء۱۰؍ اور چین کے شنگھائی کمپوزٹ میں ۰ء۲۶؍ فیصد تیزی رہی۔
 اگلے ہفتے دوبارہ تیزی کا امکان؟
 یاد رہے کہ شیئر بازار نے گزشتہ ہفتے اب تک کی سب سے اونچی سطح کو چھوا تھا۔ بامبے اسٹاک ایکسچینج  گزشتہ ۱۵؍ ستمبر (جمعہ) کو ۶۷۹۲۷؍ کے عدد تک پہنچ گیا تھا جبکہ نفٹی بھی ۲۰۲۲۲؍ کو چھونے میں کامیاب رہا تھا۔ لیکن اس ہفتے کی شروعات ہی میں سرمایہ کاروں کو مایوسی ہاتھ لگی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ شیئر بازار اگلے ہفتے دوبارہ تیزی دکھائے گا۔ وجہ یہ ہے اس ہفتے عالمی سطح پر کئی ایسے پروگرام اور  میٹنگیں ہو رہی ہیں جن کے نتائج اور فیصلے شیئر بازار پر اثر ڈالیں گے۔   منگل اور بدھ کو  ایف او ایم سی کی میٹنگ ہے جس کے بعد ۲۰؍ ستمبر کو  کوئی اعلان ہو سکتا ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ فیڈرل ریزرو  شرح سود میں اضافے کو روکنے کی کوششوں کا اعلان کر سکتا ہے جس کی وجہ سے چھوٹے سرمایہ کاری تیزی سے شیئر بازار  میں پیسہ لگانے پر آمادہ ہوں گے۔ اس کی وجہ سے دوبارہ مارکیٹ میں دوبارہ اچھال پیدا ہو سکتی ہے۔ ۲؍ دنوں کے بعد مطلع صاف ہو جائے گا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK