• Fri, 09 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

’’سپریم کورٹ کا فیصلہ منظم احتجاج کو جرم بنادیتا ہے‘‘

Updated: January 08, 2026, 9:48 AM IST | Agency | New Delhi

 اپنی اور عمر خالد کی ضمانت مسترد ہونے پر شرجیل امام کا ردعمل، کہا: عدالت کے فیصلے نے احتجاج کے جمہوری حق اور دہشت گردی کے درمیان فرق کو مندمل کردیا۔

Sharjeel Imam. Picture: INN
شرجیل امام۔ تصویر: آئی این این
پی ایچ ڈی اسکالر اور نوجوان مفکر شرجیل امام جنہیں دہلی فسادات سے متعلق ’’وسیع تر سازش‘‘ کیس میں پیر کو سپریم کورٹ نے ضمانت دینے سے انکار کر دیا ہے، نے اپنے  ساتھی  ملزمین کو دی گئی راحت کا خیرمقدم کیا تاہم اپنی علیل والدہ کے تعلق سے تشویش کا اظہار بھی کیا۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے ’’بالآخر سچ کی جیت‘‘ ہونے کی امید ظاہر کرتے ہوئے سپریم کورٹ کے فیصلے کو فکر مندی کا اظہار بھی کیا ہے۔ 
ان کے بھائی مزمل امام  نے ان کے بیان کو ’’ایکس ‘‘پر شیئر کیا ہے۔ اس نے شرجیل نے  سپریم کورٹ کے فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے  تشویش کااظہار کیا ہے کہ یہ فیصلہ ’’منظم احتجاج کو مجرمانہ عمل قرار دیتا ہے اور عوامی سہولتوں میں  رکاوٹ کو  دہشت گردی کا عمل سمجھتا ہے۔‘‘ شرجیل نے کہا ہے کہ’’مجھے بہت خوشی ہے کہ دوسروں کو ضمانت مل گئی، میں ان کے ساتھ اتنے طویل عرصے تک ہونے والی ناانصافی کی مذمت کرتا ہوں۔‘‘ انہوں  نے مزید کہا کہ ’’جہاں تک ہمارا معاملہ  ہے تو مجھے پختہ یقین ہے کہ عمر کو اور مجھے اس بات کی سزا دی جا رہی ہے کہ ہم نے  ہندوستان کی حالیہ تاریخ کے شاید سب سے اہم عوامی احتجاج کا نظم  اوران  کی قیادت کی۔‘‘ واضح رہے کہ شرجیل امام ، عمر خالد اور دیگر نوجوان جنہوں نے شہریت ترمیمی ایکٹ  کے خلاف مظاہروں کی قیادت کی تھی، انہیں   دہلی پولیس نے دہلی فساد کی ’’وسیع تر سازش‘‘کیس میں  یو اے  پی اے کے تحت ماخوذ کردیا ہے۔  
سپریم کورٹ کے فیصلے کا تجزیہ کرتے ہوئے شرجیل  امام نے نشاندہی کی کہ ’’یہ فیصلہ منظم احتجاج کو مجرمانہ عمل بنادیتا ہے اور(بطور احتجاج عوامی سہولیات میں)  رخنہ اندازی کو دہشت گردی کا عمل قرار دیتا ہے۔ اس سے دہشت گردانہ سرگرمی  اور جمہوری احتجاج و اختلاف کے درمیان فرق  دھندلا جاتا ہے۔‘‘  ضمانت کی عرضی خارج ہونے  کے باوجود انہوں نے خود کو پُر امید بتایا اور کہا کہ  بالآخر سچ کی جیت ہوگی۔تاہم انہوں نے اپنی  والدہ کی علالت کے تعلق سے تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ ’’ذاتی طور پر میری واحد تشویش اپنی معمر والدہ کی جسمانی اور ذہنی صحت  ہے۔‘‘ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK