Updated: November 29, 2025, 11:15 AM IST
| New Delhi
حکومت ہند نے کہا ہے کہ وہ شیخ حسینہ کو اس وقت تک بنگلہ دیش کے حوالے نہیں کرے گی جب تک وہاں جمہوری طریقہ سے منتخب حکومت نہیں آجاتی لیکن الیکشن بعد کیا ہوگا؟
شیخ حسینہ۔ تصویر:آئی این این
بنگلہ دیش کی خصوصی عدالت نے ملک کی سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ کو سزائے موت سنائی ہے۔ اس پر ویاں خوشی منائی گئی ساتھ ہی بعض علاقوں میں احتجاج بھی کیا گیا ۔ لہٰذا سیکوریٹی سخت کر دی گئی ہے شیخ حسینہ کے خلاف یہ فیصلہ ان کی غیر موجودگی میں سنایا گیا کیونکہ اس وقت ہندوستان میں مقیم ہیں۔ حکومت ہند نے انہیں پناہ دے رکھی ہے ۔
ماہرین کے مطابق شیخ حسینہ کو سنائی جانے والی سزا ہندوستان اور بنگلہ دیش کے تعلقات کا نیا امتحان ہو گا۔دونوں ممالک کے درمیان قیدیوں کے تبادلے کا معاہدہ موجود ہے، لیکن شیخ حسینہ کا کیس دونوں ممالک کے درمیان بہت ہی پیچیدہ سفارتی حقیقتوں کی عکاسی کرتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہ کہ شیخ حسینہ نے اس فیصلے کو سیاسی بنیادوں پر سنایا گیافیصلہ قرار دیا ہے۔ لہٰذا نئی دہلی کو اس معاملے میں متوازن حکمت عملی طے کرنی ہو گی۔ وزارتِ خارجہ نے شیخ حسینہ کو سزائے موت سنائے جانے پر ردِِعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت ہند نے یہ فیصلہ دیکھا ہے اور قریبی ہمسایہ ہونے کے ناطے ہندوستان، جمہوریت، امن، استحکام اور شمولیت سے متعلق بنگلہ دیشی عوام کے مفادات کیلئے پرعزم ہے۔بیان میں کہا گیا ہے کہ ہندوستان بنگلہ دیش کے تمام شراکت داروں کے ساتھ جامع رابطوں کا سلسلہ برقرار رکھے گا۔
بنگلہ دیش کی عبوری حکومت کے سربراہ محمد یونس نے ایک حالیہ انٹرویو میں کہا تھا کہ ہندوستان شیخ حسینہ کی حمایت کر رہا ہے۔جبکہ حکومت ہند کا کہنا ہے کہ ہم بنگلہ دیش میں شفاف انتخابات کےحمایتی ہیں اور اس کے نتیجے میں جو بھی حکومت آئے گی اس کے ساتھ کام کریں گے۔بنگلہ دیش کی عبوری حکومت نے آئندہ برس فروری میں عام انتخابات کا بھی اعلان کر رکھا ہے۔ حکومت ہند کا بھی یہی موقف ہے کہ وہ شیخ حسینہ کو جمہوری طور پر منتخب ہونے والی نئی حکومت کے حوالے کرے گی۔ سوال یہ ہے کہ بنگلہ دیش میں نئی حکومت کس کی ہوگی؟ کیونکہ موجودہ حکومت نے شیخ حسینہ کی پارٹی عوامی لیگ پر پابندی عائد کر درکھی ہے۔شیخ حسینہ کو سنائے جانے والے فیصلے سے ایک روز قبل اُن کے صاحب زادے سجیب واجد نے ایک نیوز ایجنسی سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر عوامی لیگ پر سے پابندی نہ اُٹھائی گئی یا اُن کے خلاف کوئی سخت فیصلہ آیا تو اُن کی جماعت ان انتخابات کا راستہ روکے گی۔
عالمی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اس فیصلے نے ہندوستان کوایک مشکل صورتحال میں ڈال دیا ہے۔ بنگلہ دیش کی وزارت داخلہ ایک مرتبہ بار ہندوستان کو شیخ حسینہ کی حوالگی کیلئے خط لکھے گی۔ یاد رہے کہ بنگلہ دیش نے حکومت ہند کو پہلے بھی ایک خط لکھا تھا لیکن حکومت ہند نے اس کا کوئی جواب نہیں دیا تھا۔قانونی ماہرین کہتے ہیں کہ ہندوستان اب اُسی صورت میں شیخ حسینہ کی بنگلہ دیش حوالگی کو التوا میں ڈال سکتا ہے، اگر یہ ثابت ہو جائے کہ شیخ حسینہ کے خلاف یہ فیصلہ سیاسی بنیادوں پر آیا ہے۔
مبصرین کہتے ہیں کہ عبوری حکومت نے کسی حد تک معیشت کو بھی سنبھالا دیا ہے اور ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر میں بھی اضافہ ہوا ہےلیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ بنگلہ دیش کی معیشت کا انحصار گارمنٹ کی صنعت پر ہے اور اس کی ڈولتی معیشت کو سہارا دینے کیلئے مزید غیر ملکی سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اُس وقت تک ممکن نہیں ہے جب تک ملک میں تشدد کا مکمل خاتمہ اور سیاسی عدم استحکام ختم نہیں ہو جاتا۔شیخ حسینہ کو سنائی گئی سزائے موت کے بعد اُن کی پارٹی عوامی لیگ کے مستقبل پر بھی سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔ یہ بھی دیکھنا ہو گا کہ اس فیصلے کے بنگلہ دیش کی سیاست پر کیا اثرات مرتب ہوں گے۔ بنگلہ دیش کی حکومت کئی مرتبہ ہندوستان سے کہہ چکی ہے کہ شیخ حسینہ کو اس کے حوالے کیا جائے۔فی الحال بنگلہ دیش کی عبوری حکومت شیخ حسینہ کی حوالگی کے تعلق سے کوئی خاص اقدام کر نہیں پا رہی ہے لیکن بنگلہ دیش میں اگلے سال انتخابات کے بعد اگر کوئی منتخب حکومت اقتدار میں آتی ہے تو پھر ہندوستان کیلئے شیخ حسینہ کی واپسی کی درخواست کو نظرانداز کرنا مزید مشکل ہو سکتا ہے۔