میڈیا سے پہلے خطاب میں شیخ حسینہ نے اپنی معزولی کے بعد کے واقعات کی اقوام متحدہ سے تحقیقات کا مطالبہ کیا، ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ محمد یونس کی عبوری حکومت کی حکمرانی میں آزاد اور منصفانہ انتخابات ممکن نہیں ہوں گے۔
EPAPER
Updated: January 24, 2026, 6:07 PM IST | New Delhi
میڈیا سے پہلے خطاب میں شیخ حسینہ نے اپنی معزولی کے بعد کے واقعات کی اقوام متحدہ سے تحقیقات کا مطالبہ کیا، ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ محمد یونس کی عبوری حکومت کی حکمرانی میں آزاد اور منصفانہ انتخابات ممکن نہیں ہوں گے۔
بنگلہ دیش کی سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ نے جمعہ کو ملک کی عبوری حکومت کے سربراہ محمد یونس پر خونخوار فاشسٹ ہونے کا الزام لگایا اور اپنے بے دخل ہونے کے بعد کی بے امنی اور سیاسی پیش رفت کی اقوام متحدہ کے ذریعے تحقیقات کا مطالبہ کیا۔حسینہ نے کہا کہ اقوام متحدہ کوگزشتہ سال کے واقعات کی ازسر نو اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کرنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ صرف سچائی بنگلہ دیش کو مفاہمت اور ترقی کی طرف لے جا سکتی ہے۔واضح رہے کہ یہ تبصرے دہلی میں جنوبی ایشیا کے فارن کورسپونڈنٹس کلب میں منعقدہ پریس کانفرنس میں سنائے گئے ایک آڈیو خطاب میں کیے گئے۔ اسے اقتدار سے محروم ہونے کے بعد ان کے پہلے بڑے عوامی خطابات میں سے ایک سمجھا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: امریکہ-ایران ٹکراؤ کا خطرہ پھر بڑھ گیا، بحری بیڑہ روانہ
سابق وزیر اعظم نے کہا کہ بنگلہ دیش کے عوام کو یونس انتظامیہ کو ہٹا کر جمہوریت بحال کرنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ جب تک غیر منتخب یونس حکومت اقتدار میں رہے گی، ملک میںآزاد اور منصفانہ انتخابات نہیں ہوسکیں گے۔انہوں نے الزام لگایا کہ بنگلہ دیش دہشت کے دور میں داخل ہو گیا ہے، ان کا دعویٰ ہے کہ صحافت کی آزادی ختم کر دی گئی ہے، مذہبی اقلیتیں مسلسل ظلم و ستم کا شکار ہیں، اور قانون و نظم درہم برہم ہو چکا ہے۔بعد ازاں انہوں نے یونس حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ ملک کو مستحکم کرنے کے لیے روزمرہ کے تشدد اورلاقانونیت کا خاتمہ کرے، اور مذہبی اقلیتوں، خواتین اور لڑکیوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کی ضمانت دیں۔ حسینہ نے بنگلہ دیش سے مطالبہ کیا کہ وہ صحافیوں، اپوزیشن جماعتوں اور ان کی عوامی لیگ کے اراکین کو ڈرانا بند کرے، اور عدالتی نظام میں اعتماد بحال کرے۔ سابق وزیر اعظم کے تبصرے۱۲؍ فروری کےمقررہ عام انتخابات سےقبل ے آئے ہیں، جو ان کی معزولی کے بعد پہلے انتخابات ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: اقوام متحدہ کی خصوصی نمائندہ فرانسیسکا البانیزے کو اعزازی ڈاکٹریٹ کی ڈگری تفویض
یاد رہے کہ حسینہ نے اگست۲۰۲۴ء میں اپنی عوامی لیگ حکومت کے خلاف کئی ہفتوں کے طلبہ کی قیادت میں وسیع پیمانے پر احتجاج کے بعد وزیر اعظم کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا اور ہندوستان فرار ہو گئی تھیں۔ وہ۱۶؍ سال تک اقتدار میں رہی تھیں۔ان کے بے دخل ہونے کے بعد، نوبیل انعام یافتہ معیشت دان یونس نےبنگلہ دیش کی عبوری حکومت کے سربراہ کے طور پر ذمہ داری سنبھال لی۔حسینہ نے جمعہ کودعویٰ کیا کہ۲۰۲۴ء کی بے امنی،یونس اور اس کے ساتھیوںکی منصوبہ بندی تھی تاکہ انہیں بے دخل کیا جائے۔مزید برآں سابق وزیر اعظم نے دعویٰ کیا کہ بنگلہ دیشی علاقے اور وسائل کو غیر ملکی مفادات کے حوالے کرنے کی سازش کی گئی تھی، انہوں نے الزام لگایا کہ خونخوار فاشسٹ یونس نے قوم سے غداری کی ہے۔ساتھ ہی شیخ حسینہ نے بنگلہ دیش کے عوام اور خواتین سے اس حکومت کواکھاڑ پھینکنے کی اپیل کی۔
تاہم بنگلہ دیش کی عبوری حکومت نے جمعہ کے روز حسینہ کے الزامات پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔اس سے قبل انہوں نے یہ بھی خبردار کیا تھا کہ ان کے لاکھوں حامی انتخابات کا بائیکاٹ کریں گے جب تک کہ ان کی جماعت کو انتخابات میںحصہ لینے کی اجازت نہیں دی جاتی۔جبکہ نومبر میں، ملک کے انٹرنیشنل کرائمز ٹریبونل نے۲۰۲۴ء میں مظاہرین پر انسانیت کے خلاف جرائم کے الزام میں حسینہ کو سزائے موت سنائی تھی۔