مشرق وسطیٰ میں حالات دھماکہ خیز ،ٹرمپ کے جارحانہ اقدام پر تہران نے بھی واشنگٹن کو منہ توڑ جواب کی دھمکی دی، ترکی نے ایران میں بیرونی مداخلت کی پرزور مخالفت کی
EPAPER
Updated: January 23, 2026, 11:46 PM IST | Washington
مشرق وسطیٰ میں حالات دھماکہ خیز ،ٹرمپ کے جارحانہ اقدام پر تہران نے بھی واشنگٹن کو منہ توڑ جواب کی دھمکی دی، ترکی نے ایران میں بیرونی مداخلت کی پرزور مخالفت کی
ایران کے تعلق سے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی تازہ وارننگ کے بعد ایک بار پھر مشرق وسطیٰ میں حالات دھماکہ خیز ہوگئے ہیں۔ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ امریکی فوج کا بڑا بیڑہ ایران کی طرف بڑھ رہا ہے جس کے بعد خطے میں پھر کشیدگی میں اضافہ ہو گیا ہے اور ایران پر حملے کا اندیشہ بڑھ گیا ہے۔
ٹرمپ کا دھمکی آمیز بیان
ٹرمپ نے اپنے تازہ بیان میں کہا ہے کہ بڑا بحری بیڑا ایران کی جانب بھیجا رہا ہے لیکن امید ہے کہ اس کا استعمال نہیں کرنا پڑےگا۔ دی گارجین کے مطابق امریکی بحری جہاز ’’ارماڈا‘‘ ایران کی طرف بڑھ رہا ہے۔ دوسری رپورٹوں کے مطابق طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن اور متعدد ’ڈسٹرائر جہاز‘ ایشیا پیسیفک کے علاقے سے روانہ ہو کر مشرق وسطیٰ کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ جلد ہی خطے میں پہنچ جائیں گے۔ امریکی صدر کا کہنا ہے کہ ہمارے بہت سے جہاز اُس طرف بڑھ رہے ہیں اور ہم صورتحال پر نگاہ رکھے ہوئے ہیں۔ ٹرمپ کے مطابق’’مجھے نہیں لگتا کہ کچھ ہوگا مگر ہم انہیں (ایران کو) بہت قریب سے دیکھ رہے ہیں۔ ہمارا ارماڈا ان کی طرف بڑھ رہا ہے ہوسکتاہے کہ ہمیں اس کا استعمال نہ کرنا پڑے۔‘‘
فوج کی تعیناتی کو احتیاطی اقدام قراردیا
امریکی صدر ٹرمپ نے ڈاؤس سے واپسی پر طیارے میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ کی ایک بڑی فورس ایران کی جانب رواں دواں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کے قریب احتیاطی طور پر فورس تعینات کی جا رہی ہے، تاہم دیکھتے ہیں کہ آگے کیا ہوتا ہے۔صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ کے پاس دنیا کے بہترین ہتھیار موجود ہیں، ان کا کہنا تھا کہ نہیں چاہتا کہ کچھ ہو، تاہم ایران پر گہری نظر ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کو خبردار کیا گیا تھا کہ اگر پھانسیاں دی گئیں تو امریکہ کارروائی کرے گا اور ایران نے ہماری دھمکی پر پھانسیاں روک دیں۔
۸۰۰؍ پھانسیاں رکوانے کا دعویٰ
صدر ٹرمپ نے کہا کہ میں نے ایران میں ۸۲۷؍پھانسیاں رکوائیں، اگر ایران پھانسیاں دیتا تو امریکہ حملہ کر دیتا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کے ساتھ تجارت کرنے والے ممالک پر ۲۵؍ فیصد ٹیرف جلد لگا دیں گے۔ٹرمپ نے واضح کیا کہ ایران کی جانب اس فوجی نقل و حرکت کا مطلب یہ نہیں کہ امریکہ لازمی طور پر کارروائی کرے گا، تاہم صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے اور بڑی بحری اور فضائی قوت ایران کی طرف بھیج رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکی فوجی اثاثے مشرق وسطیٰ منتقل کریں گے۔
ایران کی جوابی کارروائی کی دھمکی
دوسری جانب ایران کے چیف کمانڈر پاسداران انقلاب جنرل محمد پاکپور نے امریکہ اور اسرائیل کو کسی بھی مہم جوئی سے باز رہنے کی وارننگ دی ہے۔چیف کمانڈر پاسداران انقلاب جنرل محمد پاکپور نے اپنے حالیہ بیان میں کہا ہے کہ ہماری مسلح افواج کی انگلیاں ٹریگر پر ہیں، سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ کے حکم کا انتظار اور فوری عمل کرنے کیلئے تیار ہیں۔جنرل محمد پاکپور نے امریکہ اور اسرائیل پر واضح کیا کہ دشمنوں کو گزشتہ ۱۲؍ روزہ جنگ سے سبق سیکھنا چاہیے، سبق سیکھیں تاکہ مستقبل میں زیادہ دردناک انجام کا سامنا نہ کرنا پڑے۔انہوں نے مزید کہا کہ دفاعی نظام اور قومی سلامتی کو پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط بنا لیا ہے، حملے کی صورت میں تباہ کن جواب دیا جائے گا۔ ۱۹؍ جنوری ۲۰۲۶ء کو ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے خبردار کیا تھا کہ سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کو نشانہ بنانے والا کوئی بھی حملہ ایرانی قوم کے خلاف اعلانِ جنگ کے مترادف ہوگا۔
ترکی نے بھی بیرونی مداخلت کی مخالفت کی
ا س بیچ ترکی کے صدر رجب طیب اردگان نے کہا ہے کہ’’ترکی ایران میں کسی بھی بیرونی مداخلت کے خلاف ہے۔‘‘ترک صدارتی محکمہ اطلاعات کے جاری کردہ بیان کے مطابق صدر رجب طیب اردگان نے اپنے ایرانی ہم منصب مسعود یزشکیان کے ساتھ ٹیلی فون پر بات کی ۔ انہوں نے کہا ہے کہ ترکی، ایران میں کسی بھی بیرونی مداخلت کے خلاف ہے اور اپنے پڑوسیوں کے امن و استحکام کو اہمیت دیتا ہے۔ بیان میں صدارتی دفتر نے کہا ہے کہ مذاکرات میں دونوں رہنما وں نے ایران کی تازہ ترین صورتحال پر بات چیت کی اور صدر اردگان نے کہا ہے کہ بغیر کسی نئی کشیدگی کے مسائل کا حل ترکیہ کے بھی مفاد میں ہے۔ یاد رہے کہ ایران میں حکومت مخالف مظاہروں کے بعد حالات بگڑ گئے ہیں۔