• Sat, 24 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

نیتن یاہو نے پوپ کے لبنان دورے پر تنقید کی، عالمی سطح پر سفارتی کشیدگی

Updated: January 24, 2026, 7:02 PM IST | Beirut

اسرائیلی وزیرِاعظم بنجامن نیتن یاہو نے پوپ لیو کے لبنان دورے پر سخت ردِ عمل ظاہر کیا، جسے بعض حلقوں نے ’’اینٹی سیمِٹک‘‘ (یہود مخالف) قرار دیا۔ نیتن یاہو نے اس دوران امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ سے رابطہ کیا، اس دوران خاص طور پر ایران اور دیگر علاقائی معاملات پر تبادلہٴ خیال ہوا۔ خطے کی موجودہ کشیدگی میں مذہبی، سیاسی اور سفارتی عناصر کے ملاپ نے عالمی سطح پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

Pope Leo XIV. Photo: INN
پوپ لیو چہاردہم۔ تصویر: آئی این این

اسرائیل کے وزیرِاعظم بنجامن نیتن یاہو نے پوپ لیو کے لبنان دورے پر سخت ردِ عمل کا اظہار کیا ہے، جسے بعض مبصرین نے مخالف ردِ عمل اور اینٹی سیمِٹک جذبات کے طور پر بیان کیا ہے۔ پوپ کا یہ دورہ ایسے وقت میں سامنے آیا جب مشرقِ وسطیٰ میں سیاسی اور مذہبی کشیدگی عروج پر ہے، خاص طور پر اسرائیل اور فلسطینی کشیدگی کے پسِ منظر میں۔ پوپ کی لبنان آمد نے عالمی میڈیا اور سیاسی قیادتوں کی توجہ اپنی جانب مرکوز کی، خصوصاً ان کے خطاب میں فلسطینی ریاست کے حق کے لیے زور دینے کے بعد۔ ذرائع کے مطابق پوپ نے اپنے خطاب میں امن، ہم آہنگی اور بین المذاہب بھائی چارے کی بات کی، جس پر نیتن یاہو نے مرکزی تشویش کا اظہار کیا، اور دورے کو کچھ حلقوں کے نزدیک یہودی مخالف (anti-Semitic) جذبات سے تعبیر کیا گیا۔ پوپ کے دورے کو ایک سینئر اور پراعتماد عالمی بیان کے طور پر لیا جا رہا تھا، مگر اسرائیلی عہدیداروں نے اس پر تنقیدی ردِ عمل ظاہر کیا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: اسرائیل: مشرقی یروشلم میں نئے فلسطینی اساتذہ کی تقرری پر پابندی کا قانون منظور

اسی تناظر میں، نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ سے رابطہ بھی کیا ہے، جس میں انہوں نے خطے کی سلامتی، ایران اور دیگر اہم علاقائی امور پر تبادلہٴ خیال کیا۔ اگرچہ کچھ رپورٹس میں یہ دعویٰ بھی سامنے آیا کہ نیتن یاہو نے ٹرمپ سے مالی یا سفارتی تعاون کے بارے میں بات چیت کی، موجودہ دستاویزی اور معتبر ذرائع میں اس بارے میں واضح تفصیلات یا ۴۳؍ بلین ڈالر جیسے معاہدے کا کوئی ذکر نہیں ہے البتہ نیتن یاہو کی ٹرمپ کے ساتھ مسلسل مشاورت گزشتہ مہینوں میں متعدد بار سامنے آ چکی ہے، خاص طور پر ایران کے خلاف ممکنہ کارروائیوں، امن عمل اور سلامتی سے متعلق معاملات پر۔

یہ بھی پڑھئے: غزہ میں جنگی جرائم کی تحقیقات جاری رہیں گی، تحقیقاتی کمیشن کا بیان

پوپ کے لبنان دورے کا مقصد مختلف مذہبی اور سیاسی طبقوں کے درمیان تعلقات بہتر بنانا اور وسطِ مشرق میں امن کے لیے عالمی حمایت حاصل کرنا بتایا جاتا ہے، جس پر مختلف عالمی لیڈروں کی رائے میں فرق پایا جاتا ہے۔ لبنان ایک متنوع مذہبی معاشرہ ہے جہاں مسیحی اور مسلمان اور دیگر گروہ ایک ساتھ بستے ہیں، اور پوپ کے دورے کو اس بین المذاہب ہم آہنگی کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔ دوسری جانب، مشرقِ وسطیٰ کے مسئلے کی گہرائی یہ ہے کہ یہاں سفارتی، مذہبی اور عسکری خدشات مسلسل ایک دوسرے کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں، اور عالمی طاقتیں خصوصاً امریکہ، ایران اور اسرائیل کی پالیسیوں کا اثر خطے کی صورتحال پر براہِ راست پڑتا ہے۔ ان مباحثوں نے عالمی سطح پر سفارتی بحث، اقوامِ متحدہ کے اجلاس، اور علاقائی سمجھوتوں کو دوبارہ موضوع بنا دیا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK