ذمہ دار افرادکے مطابق ایران کے حالات کے سبب گھروں میں شیرینی اور سوئیاں بنانے نیز بچوں نے نئے کپڑے پہننےسے گریز کیا ۔ خصوصی دعا کا اہتمام ۔
EPAPER
Updated: March 23, 2026, 11:51 AM IST | Saeed Ahmed Khan | Mumbai
ذمہ دار افرادکے مطابق ایران کے حالات کے سبب گھروں میں شیرینی اور سوئیاں بنانے نیز بچوں نے نئے کپڑے پہننےسے گریز کیا ۔ خصوصی دعا کا اہتمام ۔
ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے ظالمانہ حملے اور ایران کی جانب سے مسلسل منہ توڑ جوابی حملہ جاری ہے۔ تاہم امریکہ اور اسرائیل کے وحشیانہ حملوں سے ایران میں کافی جانی و مالی نقصان ہورہا ہے۔ ان حالات کے سبب اہل تشیع حضرات نے ممبئی شہر اور مضافات میں عیدالفطر سادگی سے منائی اور دائیں بازو پر سیاہ فیتہ باندھ کر اپنے غم کا اظہار کیا۔ نئے کپڑے پہننے اور سوئیاں بنانے سے بھی گریز کیا گیا۔ نمائندہ انقلاب نے کچھ ذمہ دار اشخاص اور ائمہ سے بات چیت کی جو درج ذیل ہے۔
مغل مسجد (بھنڈی بازار ) کے سیکریٹری علی نمازی سے رابطہ قائم کرنے پر انہوں نے بتایا کہ ایران کے حالات کے سبب نماز عید سادگی اور غم کے ساتھ ادا کی گئی۔ لوگوں نے اپنے دائیں بازو پر سیاہ فیتہ باندھا اور گھروں میں سوئیاں بنانے اور دیگر انداز میں عید کی خوشی کے اظہار سے گریز کیا گیا۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ جو مومنین گھر سے سیاہ فیتہ باندھ کر نہیں آئے تھے، انہیں مسجد میں مہیا کرایا گیا۔ اس کے علاوہ عظیم رہنماؤں کی تصاویر مغل مسجد کے صحن میں رکھی گئیں۔
یہ بھی پڑھئے: بھیونڈی :صاف صفائی اور کچرا منتقلی کے بڑے منصوبوں کو منظوری دی گئی
کرلا ہلاؤ پل کی شیعہ مسجد کے امام مولانا غلام عسکری نے بتایا کہ انہوں نے مصلیان کو نماز عید کے موقع پر یہ پیغام دیا کہ بے شک یہ مبارک موقع ہے مگر ان معنوں میں کہ خدا نے ہمارے گناہ بخش دئیے مگر ایران کے جو حالات ہیں ، ظالم امریکی اور اسرائیلی حکومتوں کے ذریعے بموں کی بارش کی جارہی ہے، بچوں کو اور عظیم رہنما کو شہید کردیا گیا، آبادی کو تباہ کردیا گیا، بچوں کو یتیم اور بیویوں کو بیوہ کردیا گیا، ان سنگین حالات سے ہمارے قلوب چھلنی ہیں، ہم عید میں آخر کس طرح خوشی کا اظہار کرسکتے ہیں۔ رضوان خان (جری مری) نے کہا کہ خوشی کا آخر کس طرح اظہار کیا جاسکتا ہے۔ ان کے مطابق جب ہم نے بچوں کو عید کیلئے نئے کپڑے دلانے کی بات کی تو انہوں نے خود انکار کردیا۔ اس طرح سبھی نے پرانے کپڑوں میں عید منائی اور گھروں میں شیرینی اور سوئیاں بنانے سے گریز کیا گیا۔ البتہ مسجد میں مجاہدین کے لئے خصوصی دعا اہتمام سے کی گئی۔
مولانا ظہیر عباس رضوی نے بھی اسی طرح کا اظہار خیال کیا۔ مولانا کے مطابق پورے ملک یہی کیفیت تھی اور سبھی نے سیاہ فیتہ باندھ کر نماز عید ادا کی اور ایران کے حالات کے سبب خوشیاں منانے سے گریز کیا۔ مولانا نے یہ بھی بتایا کہ محض اہل تشیع ہی نہیں ، اہل سنت پر بھی یہ کیفیت رہی اور مختلف مقامات سے اس کی تفصیلات موصول ہونے پر اس کی توثیق ہوئی۔ اس لئے بھی کہ یہ عالم اسلام کا معاملہ ہے۔