Inquilab Logo Happiest Places to Work

شیوسینا بنام شیوسینا کیس حتمی مرحلہ میں داخل، اُدھو خیمہ پُراُمید 

Updated: August 08, 2026, 7:58 AM IST | New Delhi

جسٹس باغچی کے اس تبصرہ نے حوصلہ بڑھا دیا کہ’’اصل پارٹی کو قانون ساز پارٹی پر برتری حاصل ہے۔‘‘مگر چیف جسٹس نے پارٹی کے آئین میں ترمیم پر اُدھو خیمہ سے سوال کئے

Shiv Sena (Udhu) leader Anil Desai on his way to the Supreme Court for a case hearing.
شیوسینا(اُدھو) لیڈر انل دیسائی سپریم کورٹ میں مقدمہ کی شنوائی کیلئے جاتے ہوئے

سپریم کورٹ نے ’شیوسینا بنام شیوسینا‘ مقدمہ پر حتمی سماعت شروع کردی ہے جس میں جسٹس باغچی اور چیف جسٹس  سوریہ کانت کے زبانی تبصروں  سے اُدھو خیمہ کے حوصلے بلند ہوگئے ہیں جبکہ عدالت نے شیوسینا کی تقسیم سے قبل اس کے آئین میں کی گئی ترمیم پر بھی سوال اٹھایا ہے جس کی وجہ سے مبینہ طورپر پارٹی کی اندرونی جمہوریت ختم ہوگئی تھی اور پوری پارٹی فرد واحدپر مرکوز ہوگئی تھی۔ جسٹس باغچی اور جسٹس سوریہ کانت کے تبصرہ کے بعد اُدھو خیمہ کے ترجمان سنجے راؤت نے شندے خیمہ کو نشانہ بناتے ہوئے   اس کا ’’کھیل قانونی طور پرختم‘‘ ہونے کی امید ظاہر کی۔  اس معاملہ میں یومیہ سماعت جاری ہے۔ 
سیاسی جماعت، قانون ساز جماعت پر حاوی: سپریم کورٹ
جسٹس باغچی کے تبصرہ کے کیا معنی ہیں
 چیف جسٹس سوریہ کانت، جسٹس جوی مالیا باگچی اور جسٹس وی موہنا پر مشتمل بنچ   ’شیوسینا بنام شیوسینا‘ مقدمے کی شنوائی کررہی ہے۔ الیکشن کمیشن نے ’’اصل شیوسینا‘‘ کافیصلہ کرتے ہوئے منتخب اراکین یعنی ’’قانون ساز پارٹی‘‘ میں اکثریت کا اعتبار کیا ۔ قانون ساز پارٹی  اسمبلی  میں پارٹی کے اراکین اسمبلی پر  پارلیمنٹ میں اراکین پارلیمان پر مشتمل ہوتی ہے جبکہ اصل پارٹی  وہ ہوتی ہے جو عام اراکین پر مشتمل ہوتی ہے اور جس کے ٹکٹ پر جیت کر کوئی شخص قانون ساز پارٹی کار کن بنتا ہے۔ الیکشن کمیشن نے ’اصل شیوسینا‘ کافیصلہ قانون ساز پارٹی  میں حاصل اکثریت کی بنیاد پر سنایا۔چونکہ باغی اراکین اسمبلی کی تعداد زیادہ تھی اس لئے کمیشن نےاصل پارٹی شندے خیمہ کو تسلیم کرلیا مگر  جسٹس باغچی نےبدھ کی سماعت کے دوران کہا کہ’’قانون ساز پارٹی اصل پارٹی کے ماتحت ہوتی ہے۔‘‘ اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ کسی بھی سیاسی جماعت کوا س کی  قانون ساز پارٹی پر برتری حاصل ہوتی ہے،ا نہوں نے ’’سبھاش دیسائی کیس‘‘ میں آئینی بنچ  کے فیصلے کا حوالہ بھی دیا۔ انہوں نے کہا کہ ’’  سیاسی جماعت کا فیصلہ اگر درست ثابت ہو، توقانون ساز پارٹی کی اکثریتی رائے  کے برخلاف بھی ہوتو  اسے فوقیت حاصل ہوگی ۔‘‘
شیوسینا کے آئین میں ترمیم پر چیف جسٹس کا سوال 
  دوسری طرف شیو سینا کے ترمیم شدہ آئین پر سوال اٹھاتے ہوئےجمعرات کو سپریم کورٹ نے کہا کہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس ترمیم کے بعد پارٹی ’’عملاً  فرد واحد پر مبنی ڈھانچہ‘‘ بن گئی تھی۔  چیف جسٹس سوریہ کانت نے کہاکہ ’’جب ہم جمہوری اصولوں اور جمہوری اقدار کے تحفظ کرنے والے اداروں کی بات کرتے ہیں تو فطری طور پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا کسی سیاسی جماعت سے بھی جمہوری طریقے سے کام کرنے کی توقع نہیں کی جاتی؟‘‘ عدالت نے کہا کہ جمہوری اصول صرف اداروں تک محدود نہیں ہونے چاہئیں اور جب اداروں سے جمہوری اقدار کے تحفظ کی توقع کی جاتی ہے تو سیاسی جماعتوں کا بھی   جائزہ لیا جانا چاہیے کہ وہ جمہوری طریقے سے کام کرتی ہیں یا نہیں۔
کپل سبل نے کیا دلیل دی
  ٹھاکرے خیمہ کی پیروی  سینئر وکیل کپل سبل کررہے ہیں۔ انہوں نے دلیل دی کہ کسی سیاسی جماعت کا آئین جمہوری ہے یا نہیں، یہ طے کرنا الیکشن کمیشن کے دائرۂ اختیار میں نہیں آتا۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ سیاسی جماعتوں کو بھی جمہوری طریقے سے کام کرنا چاہیے لیکن  ’’آئینی ادارے آئینی فرائض انجام دیتے ہیں، جبکہ سیاسی جماعتیں سیاسی سرگرمیاں انجام دیتی ہیں۔جب کوئی آئینی اتھاریٹی اپنے اختیارات کا استعمال کرتی ہے تو اس سے ادارہ جاتی دیانت داری اور معیار کی توقع لازماً زیادہ ہوتی ہے۔ سیاسی فیصلے کو  بعد میں   درست کیا جا سکتا ہے لیکن الیکشن کمیشن کی جانب سے ایسے حالات میں لیا گیا فیصلہ عملی طور پر اکثر واپس نہیں لیا جا سکتا۔‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK