• Fri, 18 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

شندے سینا سے کہا جاتا کہ وہ اپنا نشان خود منتخب کرے اپنے دم پر لڑے نہ کہ بالا صاحب ٹھاکرے کے نام پر

Updated: September 18, 2026, 11:53 AM IST | Agency | New Delhi

شندے سینا سے کہا جاتا کہ وہ اپنا نشان خود منتخب کرے اپنے دم پر لڑے نہ کہ بالا صاحب ٹھاکرے کے نام پر،شیوسینا کیس میں سپریم کورٹ کا اہم تبصرہ

Picture: INN
تصویر: آئی این این

اصل شیوسینا اورتیرکمان کی ملکیت کے معاملے پر سپریم کورٹ میں جاری سماعت کےد وران عدالتی بینچ نے شندےسینا کی طرف سے پیش ہونے والے وکیل اورالیکشن کمیشن سے اہم سوالات کئے ہیں۔چیف جسٹس سوریہ کانت ،جسٹس جوئے مالا باغچی اورجسٹس وی موہانا کی بینچ نےسوال اٹھایا کہ جب واضح معیارات موجود نہیں تھے توالیکشن کمیشن نے تیر کمان کا نشان دونوں گروہوں میں سے کسی کو بھی دینے سے انکار کیوں نہیں کیا۔

یہ بھی پڑھئے: بی جےپی لیڈ ررام آسرے کشواہا کی ۱۳؍ سال بعد سماجوادی پارٹی میں واپسی

شندے سینا کے وکیل نے نیرج کشن کول نے اس معاملے میں الیکشن کمیشن کےفیصلے کو جائز ٹھہرانے کی کوشش کی اورقانون ساز پارٹی اراکین کی اکثریت کے شندے کے ساتھ ہونے کا حوالہ دیا جس پر جسٹس باغچی نے کہا کہ’’ سارے طریقے بے سود ہونے کے باوجودایک متبادل موجود تھا کہ اس (شندے) گروپ کوکوئی فائدہ نہیں دیا جاتا اور اس سے کہاجاتا کہ وہ اپنا نشان خودمنتخب کرے، اپنے دم پر لڑے نہ کہ بالا صاحب ٹھاکرے کے نام پر۔جج نے اس بات پربھی زور دیاکہ دسویں شیڈول کا جو حوالہ ہےاس کا تعلق انفرادی اراکین اسمبلی کے کردار سے ہے جبکہ یہ جو مقدمہ عدالت کے سامنے پیش ہوا ہے اس کا تعلق ایک سیاسی پارٹی کے  نام اور نشان سے ہے۔ ووٹرس پارٹی کا نام ا ور نشان دیکھ کر ووٹ دیتے ہیں،نمائندہ کو نہیں۔ جسٹس باغچی نے کہا کہ ’’ (انتخابی )نشان سیاسی پارٹی کا ہوتا ہےجبکہ نااہلی کا معاملہ انفرادی اراکین اسمبلی کا ہوتا ہے۔قانون ساز پارٹی کے معاملے میںنشان کو موـضوع نہیںبنایاجاسکتا ۔‘‘ واضح رہےکہ اس معاملے پرادھو سینا کے وکیل کپل سبل سپریم کورٹ میں اپنے دلائل دے چکے ہیںجبکہ شندے کے وکیل کشن کول کی جرح جاری ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK