Inquilab Logo Happiest Places to Work

اکولہ میں اردو ہائی اسکول کے صدر مدرس کی خود کشی سے سنسنی

Updated: June 27, 2026, 8:40 AM IST | Akola

ثانیہ ہائی اسکول کے انچارج پرنسپل نےاپنے سوسائڈ نوٹ میں خود کشی کیلئے اسکول انتظامیہ کی مسلسل ہراسانی کو ذمہ دار قرار دیا

Teacher committed suicide due to various types of pressure
کئی طرح کے دبائو کےسبب ٹیچر نے اپنی جان دیدی

 اکولہ شہر کے کھدان علاقے میں واقع ثانیہ  اُردو ہائی اسکول کے انچارج پرنسپل کی اسکول  کےاحاطے میں پھانسی لگاکر خودکشی کرنے سے سنسنی پھیل گئی ہے ساتھ ہی اسکولوں میں چل رہی بدعنوانیاں بھی اجاگر ہو گئی ہیں۔ مہلوک نے ایک تفصیلی سوسائڈ نوٹ چھوڑا ہے جس میں اپنی موت کیلئے انتظامیہ کی جانب سے کی جا رہی زیادتیوں کو ذمہ دار قرار دیا ہے۔
     اطلاع کے مطابق  اکولہ کے کھدان علاقے کی کرسچین کالونی میں وا قع ثانیہ اردو اسکول کے مدرس عبدالضمیر عبدالبشیر (۴۰) کی لاش گزشتہ دنوں صبح سویرے اسکول کے ہی ایک کمرے کی چھت میں پھندے سے لٹکی ہوئی پائی گئی۔ موقع پر موجود عملہ نے فوری طور پر اس واقعہ کی اطلاع پولیس اور اسکول انتظامیہ کو دی۔ پولیس نے موقع پر پہنچ کر ضروری کارروائی کی اور جائے وقوع کا پنچنامہ کرکے لاش کو پوسٹ مارٹم کیلئےروانہ کردیا  ۔ ابتدا میں یہ ایک عام خودکشی کا معاملہ سمجھا جارہا تھا تاہم تفتیش کے دوران پولیس کو ایک سوسائڈ نوٹ متوفی کی جیب سےملا جس نے اس معاملے کو ایک نیا موڑ دیا۔
  ذرائع کے مطابق سوسائڈ نوٹ میں متوفی نے اپنی موت کے لئے تین افراد کو ذمہ دار قرار دیا ہے، جن میں اسی اسکول کے ایک معطل صدر مدرس جاوید احمد ضمیر احمد، ثانیہ اردو اسکول کے صدر جاوید احمد خان جبار خان اور ایک سینئر مدرس متین احمد خان سالار خان کے نام شامل ہیں۔ سوسائڈ نوٹ میں متوفی کو جبراً عارضی صدر مدرس بنانے، کورے کاغذوں پر دستخط لینے، دھمکانے اور ہراساں کرنے کا ذکر ہے۔ آخر میں متوفی نے  تحریر کیا ہے کہ’’ مجھ پر بی ایل او کی اضافی ذمہ داری کے علاوہ بہت زیادہ کام لاد دیا گیا تھا، میرا چین سکون برباد ہوگیا، میں کئی راتوں سے سویا نہیں، اسکول میں جعلسازی کاکاروبار چل رہا ہے۔ ‘‘ مہلوک معلم کے مطابق ’’میں غریب گھر سے ہوں، نوکری جانے کا ڈر لگا ہوا تھا۔ نہ چاہتے ہوئے بھی میں یہ انتہائی قدم اٹھا رہا ہوں۔ مجھے  ذہنی طور پر ہراساں کیا گیا۔ میرے چھوٹے بچے، میری بیوی، ماں، میرے بھائی کی یتیم بچی اور بڑے بھائی اور ان کی فیملی کا میں ہی سہارا تھا، لیکن مجھے معاف کردینا۔‘‘
  اہم بات یہ ہے کہ متوفی کا سوسائڈ نوٹ عام ہوگیا اور پولیس تھانے میں مقدمہ درج ہونے کی کارروائی سے قبل ہی تینوں ملزمین فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔ کھدان پولیس تھانے افسران و اہلکار اس معاملے کی مختلف زاویوں سے تحقیقات کررہے ہیں۔ اس واقعہ سے جہاں نجی تعلیمی اداروں کی بدعنوانیاں، اور جبر اجاگر ہوا ہے وہیں اس سانحہ کے بعد متوفی اہل خانہ، اسکول کے ساتھی اساتذہ، دوست احباب اور مقامی لوگوں میں غم و غصہ پایا جارہا ہے۔ یاد رہے کہ یہ وہی ثانیہ ہائی اسکول ہے جس پر اقلیتی کمیشن کے چیئر مین پیارے خان کی ایما پر کارروائی کی گئی تھی۔ انتظامیہ پر الزام تھا کہ انہوں نے طلبہ کے جعلی نام درج کرکے اسکول میں طلبہ کی تعداد بڑھائی ہے۔ اس کی تحقیقات جاری ہے۔

akola Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK