کانگریس، ایم آئی ایم اور این سی پی ( شرد) سے تعلق رکھنے والے ان کارپوریٹرس پر جعلی سرٹیفکیٹ پیش کرکے الیکشن لڑنے کا الزام ہے۔
EPAPER
Updated: July 18, 2026, 10:26 AM IST | Ali Imran | Akola
کانگریس، ایم آئی ایم اور این سی پی ( شرد) سے تعلق رکھنے والے ان کارپوریٹرس پر جعلی سرٹیفکیٹ پیش کرکے الیکشن لڑنے کا الزام ہے۔
اکولہ میونسپل کارپوریشن کے تین کارپوریٹرس کو بڑا جھٹکا لگا ہے۔ ۲۰۲۶ء کے اکولہ میونسپل کارپوریشن انتخابات میں منتخب ہونے والے تینوں کارپوریٹرس کو غلط ذات کے سرٹیفکیٹ کی وجہ سے معطل کر دیا گیا ہے۔ اس فیصلے سے سیاسی حلقوں میں ایک بڑی ہلچل مچی گئی ہے۔ معطل کارپوریٹرس میں امرین صدف سید ناظم، سیما انجم شیخ انیس، شیخ عبداللہ سلیم شامل ہیں۔
امرین صدف نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (شرد) کے ٹکٹ پر وارڈ نمبر ۱۶ بی سے منتخب ہوئی تھیں۔ جبکہ سیما انجم شیخ انیس ایم آئی ایم کے ٹکٹ پر وارڈ نمبر ۲ ؍اے سے منتخب ہوئیںاور شیخ عبداللہ سلیم نے وارڈ نمبر ۱ ؍ اے سے کانگریس کے ٹکٹ پر کامیابی حاصل کی تھی لیکن ان تینوں کارپوریٹرس کے عہدے غلط ذات سرٹیفکیٹ کی وجہ سے نااہل قرار دے دیا گیا ہے، جو ان تینوں کارپوریٹرس کیلئے بڑا دھچکا مانا جارہا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: راجستھان میں مساجد ، درگاہوں و مدارس کے انہدام پر روک
تینوں کارپوریٹرس پر غلط ذات سرٹیفکیٹ دینے کا الزام لگایا گیا ہے۔ اس کارروائی کے بعد بتایا جا رہا ہے کہ تینوں کارپوریٹر ہائی کورٹ میں اپیل کریں گے۔ موصولہ اطلاع کے مطابق کمشنر ڈاکٹر سنیل لہانے نے یہ حکم دیا ہے۔ انہوں نے فیصلہ دیا ہے کہ تینوں کارپوریٹرس کے ذات کی تصدیق کے سرٹیفکیٹ غلط ہیں۔ یاد رہے کہ تینوں کارپوریٹر ذات کے لئے مخصوص کی گئی نشستوں پر منتخب ہوئے تھے۔
میونسپل کمشنر نے کیا کہا؟
میونسپل کمشنر سنیل لہانے کا کہنا ہے کہ ’’۲۰۲۶ کے اکولہ میونسپل کارپوریشن کے انتخابات میں منتخب ہونے والے ان اراکین نے ریزرو وارڈوں میں انتخاب لڑا تھا لیکن ان کے پاس ذات کی توثیق کے سرٹیفکیٹ نہیں تھے، اس کے باوجود ذات کی تصدیق کمیٹی کے پاس غلط ذات سرٹیفکیٹ جمع کروائے تھے۔ میونسپل کمشنرنے کہا’’اس سلسلے میں تفتیش کے بعد فیصلہ موصول ہوا اور ذات کی تصدیق کمیٹی نے تینوں منتخب کارپوریٹرس کے ذات کے سرٹیفکیٹ کو غلط قرار دیا ہے۔ اسی کے مطابق تینوں کارپوریٹرس کے خلاف کارروائی کی گئی ہے۔‘‘ قاعدے کی رو سے کارپوریٹر قانونی کارروائی کر سکتے ہیں۔چونکہ یہ کارروائی تین کارپوریٹرس کے خلاف کی گئی ہے، اس لئے کیا مستقبل میں اس وارڈ میں انتخابات ہوں گے؟ یہ دیکھنا ضروری ہے۔ جبکہ اطلاع کے مطابق تینوں کارپوریٹرس اس معاملے کی عدالت میں اپیل کر سکتے ہیں۔ اس لئے عدالت سے راحت ملنے پر انہیں دوبارہ کارپوریٹر کے عہدہ پر بحال کیا جاسکتا۔ اب مستقبل میں اس معاملے میں کیا فیصلہ آئے گا یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا۔
یہ بھی پڑھئے: ’’۲۰؍ جولائی تک زندہ رہنا چاہتا ہوں، یقین ہے کہ رہوں گا‘‘
خبر لکھے جانے تک موصول اطلاع کے مطابق شیخ عبداللہ اور امرین صدف نے عدالت سے رجوع کیا اور عدالت نے انہیں اس فیصلے پر اسٹے آرڈر دیدیا ہے۔