اکولہ ۔ کھنڈوا ریلوے لائن کی تعمیر کا خمیازہ مقامی کسانوں کو اٹھانا پڑا، ۳۰۰؍ ایکڑ زمین پانی میں ڈوب گئی۔
EPAPER
Updated: July 17, 2026, 9:45 AM IST | Ali Imran | Akola
اکولہ ۔ کھنڈوا ریلوے لائن کی تعمیر کا خمیازہ مقامی کسانوں کو اٹھانا پڑا، ۳۰۰؍ ایکڑ زمین پانی میں ڈوب گئی۔
اکولہ۔کھنڈوا براڈ گیج لائن کی تعمیر میں مسلسل لاپروائی برتنے کے الزامات لگ رہے ہیں۔ اس لاپروائی کا خمیازہ اب مقامی کسانوں کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔ الزام ہے کہ پانی کی مناسب نکاسی نہ ہونے کی وجہ سے ہیوارکھیڑ علاقے میں ۳۰۰؍ایکڑ سے زیادہ کھیتی پانی میں ڈوب گئی ہے۔ کئی کھیتوں میں ۳؍ سے ۴؍ فٹ تک پانی جمع ہونے سے فصلیں مکمل طور پر تباہ ہوگئیں اور زرخیز زمینوں کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ انتظامیہ سے بار بار اپیل کرنے کے باوجود جب کوئی ٹھوس قدم نہیں اٹھایا گیا تو ناراض کسانوں نے آج پانی میں ’جل سمادھی آندولن‘ شروع کیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: کانگریس کا پارلیمنٹ میں حد بندی بل کی مخالفت کا اعلان
موصولہ اطلاع کے مطابق اکولہ۔کھنڈوا ریلوے لائن کی تعمیر کے دوران کئی علاقوں میں قدرتی نکاسی آب کے راستے بند ہو گئے تھے۔ جس کے نتیجے میں کھیتوں میں بارش کا پانی جمع ہو گیا جس سے سیکڑوں ایکڑ فصلیں زیر آب آ گئیں۔ صورتحال اس قدر مخدوش ہے کہ کئی کھیت اب بھی ۳؍ سے ۴؍ فٹ زیر آب ہیں جس سے کاشتکاری مکمل طور پر ناممکن ہے۔ کسان نہ صرف فصل کے نقصان سے پریشان ہیں بلکہ زرخیزی کے نقصان کا بھی اندیشہ ہے۔ انتظامیہ اور متعلقہ محکمہ کو متعدد تحریری شکایات کے باوجود جب کوئی کارروائی نہیں کی گئی تو کسانوں کو پانی بھرے کھیتوں میں گھس کر جل سمادھی تحریک کا راستہ اختیار کرنا پڑا۔
یہ بھی پڑھئے: ’’این سی پی (اجیت) کے اندر کوئی انتشار نہیں ہے‘‘
احتجاج کرنے والے کسانوں کا مطالبہ ہے کہ ان کے کھیتوں سے پانی نکالنے کے فوری انتظامات کئے جائیں، نقصانات کا تخمینہ لگایا جائے اور مناسب معاوضہ دیا جائے اور اس غفلت کے ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔ احتجاج میں علاقہ کے کسانوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ کسانوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر انتظامیہ نے جلد مثبت فیصلہ نہ لیا تو احتجاج میں شدت آئے گی۔