Inquilab Logo Happiest Places to Work

بیوی کو قتل کرکے اکولہ سے فرار شخص ۳۵؍ سال بعد اورنگ آباد میں گرفتار

Updated: July 09, 2026, 1:06 PM IST | Agency | Akola

ایکناتھ گائیکواڑ نے ۱۹۹۱ء میں اپنی بیوی پر کلہاڑی سے حملہ کر دیا تھا، ۷۳؍ سال کی عمر میں پولیس کے ہاتھ لگا ۔

Eknath Gaikwad (Seated) In Police Custody.Photo;iNN
ایکناتھ گائیکواڑ ( بیٹھا ہوا) پولیس کی تحویل میں-تصویر:آئی این این
’’ قانون کے ہاتھ بہت لمبے ہوتے ہیں‘‘ یہ مکالمہ آپ نے کئیفلموں میں سنا ہوگا۔ اکولہ پولیس نے اس مقولے کو عملی جامہ پہنایا ہے۔ پولیس  نے ایک ایسے مجرم کو گرفتار کیا ہے جو ۳۵؍ سال قبل اپنی بیوی کو قتل کرکے فرار ہو گیا تھا۔ ایکناتھ گائیکواڑ نامی اس شخص نے ۱۹۹۱ء میں اس نے اپنی بیوی کا قتل کیا تھا۔ آج جب وہ گرفتار ہوا ہے اس کی عمر ۷۳؍ سال ہے۔ 
 
 
پولیس کے مطابق ۲۱؍ مارچ ۱۹۹۱ءکو اکولہ شہر کے گوتم نگر کمپلیکس میں پرانے آر ٹی او آفس کے قریب رہنے والے ایکناتھ گائیکواڑ نے گھریلو جھگڑے میں اپنی بیوی چترلیکھا گا ئیکواڑ پر کلہاڑی سے حملہ کر دیا تھا جس میں اس کی موت واقع ہو گئی تھی۔  ایکناتھ گا ئیکواڑ جائے واردات سےفرار ہونے میں کامیاب ہو گیا تھا جس کے بعد سول لائنز پولیس اسٹیشن میں اس کے خلاف قتل کا معاملہ درج کیا تھا۔ اس وقت  ایکناتھ کی عمر ۳۸؍ سال تھی۔ 
 
 
پولیس نے اسے ڈھونڈنے کی ہر ممکن کوشش کی  لیکن اس کا کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ عدالت نے بھی اس کی گرفتاری کا مستقل وارنٹ جاری کر رکھا تھا۔ تاہم وہ کئی سال تک سے پولیس کی نظروں سے بچا رہا۔ حال ہی میں پولیس کو اطلاع ملی کہ ایکناتھ گائیکواڑ اورنگ آباد کے سڈکو علاقے میں رہتا ہے۔ اس اطلاع کی تصدیق کرنے کے بعد اورنگ آباد کے کھدان پولیس اسٹیشن  نے عدالتی وارنٹ کے مطابق اسے گرفتار کی تیاریاں کیں۔ موقع ملتے ہی اسے گرفتار کر لیا گیا۔ قانون کے مطابق  ۳۵؍ سال بعد گرفتار کئے گئے اس ملزم کو   عدالت میں پیش کیا گیا۔ اس گرفتاری کی وجہ سےساڑھے ۳؍ دیاہوئیں سے زیر التواء کیس کی تفتیش میں پیش رفت ہوئی ہے۔ البتہ کئی سوال بھی پیدا ہو ئے ہیں جیسے  اتنے سال تک ملزم نے خود کو کیسے چھپائے رکھا؟ کیا اس نے اپنی شناخت تبدیل کر لی تھی؟ اس کی کسی نے مدد کی تھی؟ وہ پولیس کی نظر میں کیوں نہیں آ سکا؟ وغیرہ.، پولیس ان تمام باتوں کی تفتیش کر ہی ہے۔  ایک فلمی کہانی کی طرح سامنے آنے والے اس کیس کی آئندہ تفتیش پر سبھی کی نظریں لگی ہوئی ہیں۔ 

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK