Inquilab Logo Happiest Places to Work

سان ڈیاگو کی سب سے بڑی مسجد میں فائرنگ، ۵؍افراد ہلاک

Updated: May 19, 2026, 2:31 PM IST | San Diego

پولیس کے مطابق پیر کے روز امریکی ریاست کیلیفورنیا کے شہر سان ڈیاگو میں واقع اسلامک سینٹر آف سان ڈیاگو میں دو نوعمر حملہ آوروں نے فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں مسجد کے باہر ایک سیکوریٹی گارڈ اور دو دیگر افراد ہلاک ہوگئے۔

San Diego Incident.Photo:PTI
سان ڈیاگو کا واقعہ۔ تصویر:پی ٹی آئی

پولیس کے مطابق پیر کے روز امریکی ریاست کیلیفورنیا کے شہر سان ڈیاگو میں واقع اسلامک سینٹر آف سان ڈیاگو میں دو نوعمر حملہ آوروں نے فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں مسجد کے باہر ایک سیکوریٹی گارڈ اور دو دیگر افراد ہلاک ہوگئے۔ بعد میں دونوں مشتبہ افراد بھی مردہ پائے گئے، جن کے بارے میں خیال ہے کہ انہوں نے خود کو گولی مار کر خودکشی کی۔
سان ڈیاگو پولیس چیف اسکاٹ وال نے کہا کہ مقامی پولیس اور ایف بی آئی اس حملے کی تحقیقات نفرت انگیز جرم کے طور پر کر رہی ہیں، جو سان ڈیاگو کاؤنٹی کی سب سے بڑی مسجد کو نشانہ بنایا گیا۔تاہم حکام نے ابھی تک اس حملے کا کوئی واضح مقصد یا وجہ ظاہر نہیں کی ہے۔مسجد کے احاطے میں قائم ڈے اسکول میں موجود تمام بچے حملے کے بعد محفوظ پائے گئے۔ 
شام کی ایک پریس کانفرنس میں چیف وال نے بتایا کہ ایک مشتبہ شخص کی والدہ نے واقعہ سے تقریباً دو گھنٹے پہلے پولیس کو اطلاع دی تھی کہ اس کا بیٹا گھر سے بھاگ گیا ہے اور وہ خودکشی کے خیالات رکھتا ہے۔ وہ گھر سے اپنی تین بندوقیں اور گاڑی بھی لے گیا تھا۔چیف کے مطابق والدہ نے بتایا کہ اس کا بیٹا ایک ساتھی کے ساتھ تھا اور دونوں نے کیموفلاج کپڑے پہن رکھے تھے۔ پولیس نے فوری طور پر ان کی تلاش شروع کی اور احتیاطاً قریبی شاپنگ مال اور ہائی اسکول میں بھی نفری بھیجی، مگر اسی دوران مسجد پر فائرنگ کی اطلاع موصول ہوگئی۔ چیف نے اس خط کے مندرجات ظاہر کرنے سے انکار کیا جو مبینہ طور پر نوجوان کی والدہ کو ملا تھا۔
پولیس کے مطابق حملے سے قبل مسجد یا کسی مذہبی مرکز، اسکول یا دیگر مقام کے خلاف کسی مخصوص خطرے کی اطلاع نہیں تھی۔پولیس کے مطابق یہ معاملہ عمومی نفرت انگیز بیانات اور نفرت پر مبنی گفتگو سے جڑا ہوا تھا، جس نے ایک بڑے سیکوریٹی خطرے کی صورت اختیار کر لی۔ یہ حملہ عیدالاضحی اور حج کے موقع سے ایک ہفتہ قبل ہوا۔
اسلامک سینٹر کے امام اور ڈائریکٹر طہ حسّان نے کہاکہ ’’ہم نے اس سے پہلے کبھی ایسی تباہی کا سامنا نہیں کیا۔ عبادت گاہ کو نشانہ بنانا انتہائی افسوسناک اور قابلِ مذمت ہے۔‘‘موقع پر پہنچنے والے درجنوں پولیس اہلکاروں کو تین   لاشیں ملیں۔ حکام کے مطابق ہلاک ہونے والا سیکوریٹی گارڈ ممکنہ طور پر مزید خونریزی کو روکنے میں مددگار ثابت ہوا۔ کچھ دیر بعد پولیس کو ایک گاڑی میں دو نوعمر لڑکوں کی لاشیں بھی ملیں اور وہ بظاہر خودکشی سے ہلاک ہوئے تھے۔  
پولیس کے مطابق پیر کے روز امریکی ریاست کیلیفورنیا کے شہر سان ڈیاگو میں واقع اسلامک سینٹر آف سان ڈیاگو میں دو نوعمر حملہ آوروں نے فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں مسجد کے باہر ایک سیکوریٹی گارڈ اور دو دیگر افراد ہلاک ہوگئے۔ بعد میں دونوں مشتبہ افراد بھی مردہ پائے گئے، جن کے بارے میں خیال ہے کہ انہوں نے خود کو گولی مار کر خودکشی کی۔
سان ڈیاگو پولیس چیف اسکاٹ وال نے کہا کہ مقامی پولیس اور ایف بی آئی اس حملے کی تحقیقات نفرت انگیز جرم کے طور پر کر رہی ہیں، جو سان ڈیاگو کاؤنٹی کی سب سے بڑی مسجد کو نشانہ بنایا گیا۔تاہم حکام نے ابھی تک اس حملے کا کوئی واضح مقصد یا وجہ ظاہر نہیں کی ہے۔مسجد کے احاطے میں قائم ڈے اسکول میں موجود تمام بچے حملے کے بعد محفوظ پائے گئے۔ 
شام کی ایک پریس کانفرنس میں چیف وال نے بتایا کہ ایک مشتبہ شخص کی والدہ نے واقعہ سے تقریباً دو گھنٹے پہلے پولیس کو اطلاع دی تھی کہ اس کا بیٹا گھر سے بھاگ گیا ہے اور وہ خودکشی کے خیالات رکھتا ہے۔ وہ گھر سے اپنی تین بندوقیں اور گاڑی بھی لے گیا تھا۔چیف کے مطابق والدہ نے بتایا کہ اس کا بیٹا ایک ساتھی کے ساتھ تھا اور دونوں نے کیموفلاج کپڑے پہن رکھے تھے۔ پولیس نے فوری طور پر ان کی تلاش شروع کی اور احتیاطاً قریبی شاپنگ مال اور ہائی اسکول میں بھی نفری بھیجی، مگر اسی دوران مسجد پر فائرنگ کی اطلاع موصول ہوگئی۔ چیف نے اس خط کے مندرجات ظاہر کرنے سے انکار کیا جو مبینہ طور پر نوجوان کی والدہ کو ملا تھا۔
پولیس کے مطابق حملے سے قبل مسجد یا کسی مذہبی مرکز، اسکول یا دیگر مقام کے خلاف کسی مخصوص خطرے کی اطلاع نہیں تھی۔پولیس کے مطابق یہ معاملہ عمومی نفرت انگیز بیانات اور نفرت پر مبنی گفتگو سے جڑا ہوا تھا، جس نے ایک بڑے سیکوریٹی خطرے کی صورت اختیار کر لی۔ یہ حملہ عیدالاضحی اور حج کے موقع سے ایک ہفتہ قبل ہوا۔
اسلامک سینٹر کے امام اور ڈائریکٹر طہ حسّان نے کہاکہ ’’ہم نے اس سے پہلے کبھی ایسی تباہی کا سامنا نہیں کیا۔ عبادت گاہ کو نشانہ بنانا انتہائی افسوسناک اور قابلِ مذمت ہے۔‘‘موقع پر پہنچنے والے درجنوں پولیس اہلکاروں کو تین   لاشیں ملیں۔ حکام کے مطابق ہلاک ہونے والا سیکوریٹی گارڈ ممکنہ طور پر مزید خونریزی کو روکنے میں مددگار ثابت ہوا۔ کچھ دیر بعد پولیس کو ایک گاڑی میں دو نوعمر لڑکوں کی لاشیں بھی ملیں اور وہ بظاہر خودکشی سے ہلاک ہوئے تھے۔  
تفصیلات ابھی غیر واضح ہیں
چیف وال نے بتایا کہ پولیس اہلکار فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچے اور چار منٹ کے اندر مسجد کے علاقے میں پہنچ گئے۔مقامی ٹی وی فوٹیج میں پولیس کی بڑی تعداد، مسلح اہلکار اور ہیلی کاپٹرز کو علاقے میں دکھایا گیا۔پولیس کے مطابق اس دوران قانون نافذ کرنے والے اداروں نے کوئی فائرنگ نہیں کی۔ حملے کے وقت قریب ہی ایک اور واقعے میں ایک مالی پر بھی گولی چلائی گئی، تاہم وہ محفوظ رہا کیونکہ اس نے ہیلمٹ پہن رکھا تھا جو ممکنہ طور پر گولی کو روکنے میں مددگار ثابت ہوا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ یہ دونوں واقعات آپس میں منسلک ہو سکتے ہیں۔
پانچ گھنٹے بعد بھی پولیس اس بات کی تحقیقات کر رہی تھی کہ حملے کی اصل وجہ کیا تھی اور یہ کیسے پیش آیا۔اسلامک سینٹر سان ڈیاگو کاؤنٹی کی سب سے بڑی مسجد ہے اور اس کے اندر ایک اسکول بھی قائم ہے۔اگرچہ امریکہ میں عوامی مقامات پر فائرنگ کے واقعات عام ہو چکے ہیں، مگر مسلم اور یہودی کمیونٹیز میں خدشات بڑھ گئے ہیں، خاص طور پر مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور ایران، اسرائیل اور دیگر ممالک کے درمیان حالیہ حملوں کے بعد۔ 

یہ بھی پڑھئے:سرخیوں میں رہنے کے لیے اداکارکچھ بھی کر رہے ہیں ، کام سے پہچان بنائیں: میناکشی


چیف وال نے بتایا کہ پولیس اہلکار فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچے اور چار منٹ کے اندر مسجد کے علاقے میں پہنچ گئے۔مقامی ٹی وی فوٹیج میں پولیس کی بڑی تعداد، مسلح اہلکار اور ہیلی کاپٹرز کو علاقے میں دکھایا گیا۔پولیس کے مطابق اس دوران قانون نافذ کرنے والے اداروں نے کوئی فائرنگ نہیں کی۔ حملے کے وقت قریب ہی ایک اور واقعے میں ایک مالی پر بھی گولی چلائی گئی، تاہم وہ محفوظ رہا کیونکہ اس نے ہیلمٹ پہن رکھا تھا جو ممکنہ طور پر گولی کو روکنے میں مددگار ثابت ہوا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ یہ دونوں واقعات آپس میں منسلک ہو سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے:کیو ایس رینکنگ ۲۰۲۶ء: آئی آئی ٹی بہترین یونیورسٹیوں میں شامل


پانچ گھنٹے بعد بھی پولیس اس بات کی تحقیقات کر رہی تھی کہ حملے کی اصل وجہ کیا تھی اور یہ کیسے پیش آیا۔اسلامک سینٹر سان ڈیاگو کاؤنٹی کی سب سے بڑی مسجد ہے اور اس کے اندر ایک اسکول بھی قائم ہے۔اگرچہ امریکہ میں عوامی مقامات پر فائرنگ کے واقعات عام ہو چکے ہیں، مگر مسلم اور یہودی کمیونٹیز میں خدشات بڑھ گئے ہیں، خاص طور پر مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور ایران، اسرائیل اور دیگر ممالک کے درمیان حالیہ حملوں کے بعد۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK