Updated: May 19, 2026, 2:01 PM IST
| New delhi
۲۰۲۶ء کی کیو ایس ورلڈ یونیورسٹی رینکنگ نے ہندوستانی اعلیٰ تعلیم میں ایک واضح تقسیم کو نمایاں کیا ہے۔ جہاں آئی آئی ٹیز اور آئی آئی ایمز انجینئرنگ، ٹیکنالوجی اور مینجمنٹ میں عالمی سطح پر نمایاں کارکردگی دکھا رہے ہیں، وہیں دہلی یونیورسٹی، جے این یو اور دیگر ہیومینیٹیز ادارے عالمی درجہ بندی میں کافی پیچھے نظر آتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق اس فرق کی بنیادی وجوہات کم تحقیقی اثر، بین الاقوامی تعاون کی کمی، محدود فنڈنگ اور عالمی درجہ بندی کے ایسے پیمانے ہیں جو غیر مغربی اور مقامی زبانوں کی علمی پیداوار کو مناسب اہمیت نہیں دیتے۔
۲۰۲۶ء کی تازہ کیو ایس ورلڈ یونیورسٹی رینکنگ نے ہندوستانی اعلیٰ تعلیم کے نظام کے ایک اہم تضاد کو نمایاں کیا ہے۔ ایک طرف ملک کے تکنیکی اور مینجمنٹ ادارے عالمی سطح کے بہترین اداروں میں جگہ بنا رہے ہیں، جبکہ دوسری طرف ہندوستان کے تاریخی اور فکری طور پر اہم ہیومینیٹیز اور لبرل آرٹس ادارے عالمی منظرنامے میں نمایاں مقام حاصل کرنے میں ناکام دکھائی دے رہے ہیں۔ کیو ایس کے مطابق ’انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی‘ کے شعبے میں آئی آئی ٹی دہلی دنیا میں ۳۶؍ ویں، آئی آئی ٹی بامبے ۴۲؍ ویں جبکہ آئی آئی ٹی مدراس ۶۲؍ ویں نمبر پر ہے۔ اسی طرح آئی آئی ایم نے بھی بزنس اینڈ مینجمنٹ میں مضبوط عالمی موجودگی برقرار رکھی ہے، جہاں آئی آئی ایم احمد آباد ۲۱؍ ویں اور آئی آئی ایم بنگلور ۲۹؍ ویں نمبر پر رہے۔
یہ بھی پڑھئے : فلسطین کا مسجدِ اقصیٰ کے قریب املاک پر قبضے کے اسرائیلی منصوبے کی مذمت
لیکن جب توجہ ’آرٹس اینڈ ہیومینیٹیز‘ کی طرف جاتی ہے تو صورتحال یکسر بدل جاتی ہے۔ ہندوستان کی بہترین کارکردگی دکھانے والی یونیورسٹی، دہلی یونیورسٹی ۲۳۱؍ ویں نمبر پر ظاہر ہوتی ہے جبکہ جواہر لال نہرو یونیورسٹی ۲۶۰؍ ویں پوزیشن پر ہے۔ یہ فرق صرف درجہ بندی کا نہیں بلکہ عالمی علمی تاثر کا بھی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ دنیا ہندوستانی انجینئرنگ اور مینجمنٹ کی ڈگریوں کو عالمی معیار سمجھتی ہے، لیکن فلسفہ، تاریخ، ادب اور سماجی علوم کے شعبوں میں ہندوستانی اداروں کی موجودگی کمزور دکھائی دیتی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ بعض تکنیکی ادارے ہیومینیٹیز میں بھی لبرل آرٹس یونیورسٹیوں سے بہتر پوزیشن حاصل کر رہے ہیں۔ مثال کے طور پر آئی آئی ٹی بامبے آرٹس اینڈ ہیومینیٹیز میں ۳۴۵؍ ویں نمبر پر آیا، جبکہ بعض مخصوص لبرل آرٹس ادارے اس سے بھی پیچھے رہے۔
یہ بھی پڑھئے : کانز ۲۰۲۶ء: ہاویئر بارڈیم کی ٹرمپ، نیتن یاہو، پوتن پر شدید تنقید
تعلیمی ماہر اونتیکا تومر کے مطابق بنیادی مسئلہ عالمی تحقیقی اثرات کی کمی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کیو ایس اور دیگر عالمی رینکنگز میں حوالہ جات، ایچ انڈیکس ، بین الاقوامی تحقیقی شراکت داری اور عالمی شہرت کو بہت زیادہ اہمیت دی جاتی ہے، جبکہ ہندوستانی ہیومینیٹیز ادارے ان شعبوں میں پیچھے ہیں۔ ان کے مطابق بیشتر سرکاری یونیورسٹیوں میں محدود فنڈنگ، بھاری تدریسی بوجھ، بیوروکریسی، کمزور بین الاقوامی نیٹ ورکس اور غیر ملکی طلبہ و فیکلٹی کی کمی عالمی درجہ بندی کو متاثر کرتی ہے۔ دوسری طرف او پی جندال گلوبل یونیورسٹی جیسے نئے نجی ادارے عالمی درجہ بندی کی ’’زبان‘‘ بہتر انداز میں سمجھ رہے ہیں۔ یہ ادارہ آرٹس اینڈ ہیومینیٹیز میں ۳۲۳؍ ویں جبکہ سیاست کے مضمون میں دنیا بھر میں ۹۰؍ ویں نمبر پر آیا۔
یہ بھی پڑھئے : ایران پر ممکنہ نئے حملوں کی خبروں پر تشویش کی لہر
سابق یو جی سی چیئرمین ممیدالا جگدیش کمار نے اس پورے معاملے کو عالمی درجہ بندی کے ’’مغربی تعصب‘‘ سے جوڑا۔ ان کے مطابق غیر انگریزی زبانوں میں ہونے والی علمی تحقیق اور مقامی تہذیبی علوم کو عالمی رینکنگ سسٹمز مناسب اہمیت نہیں دیتے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کی فکری پیداوار اکثر کتابوں، تراجم، عوامی مباحث، ثقافتی مطالعات اور مقامی زبانوں میں ہوتی ہے، جبکہ عالمی درجہ بندی زیادہ تر انگریزی جرائد اور بین الاقوامی حوالہ جاتی ڈیٹا بیس پر انحصار کرتی ہے۔ تعلیمی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر ہندوستان واقعی عالمی ’’سافٹ پاور‘‘ بننا چاہتا ہے تو صرف آئی آئی ٹیز اور آئی آئی ایمز پر انحصار کافی نہیں ہوگا۔ ملک کو ایسے مورخین، فلسفیوں، مصنفین اور سماجی مفکرین بھی پیدا کرنے ہوں گے جو عالمی فکری مباحث کی قیادت کر سکیں۔ ماہرین کے مطابق ہندوستان STEM میں تیزی سے ترقی کر رہا ہے، لیکن اب چیلنج یہ ہے کہ فنون، تاریخ، فلسفہ اور سماجی علوم کو بھی اسی سطح پر عالمی شناخت دلائی جائے۔