Updated: May 04, 2026, 7:18 PM IST
| New Delhi
حکام کی جانب سے صفائی کے باوجود، مقامی افراد نے کارروائی کے وقت اور دائرہ کار پر سوالات اٹھائے ہیں۔ کئی رہائشیوں کا کہنا ہے کہ اگرچہ حالیہ ہنگامہ آرائی میں ملوث افراد کے خلاف قانونی اقدامات جائز ہوسکتے ہیں، لیکن دکانوں اور جائیدادوں کے خلاف کارروائی نے لوگوں کے درمیان خوف پیدا کر دیا ہے۔
مغربی دہلی کے اتم نگر میں بلدیاتی حکام نے ایک ہی علاقے کی تقریباً ۱۸ دکانوں کو سیل کر دیا ہے جس کے بعد علاقے میں ایک بار پھر تناؤ بڑھ گیا ہے۔ پولیس کی کارروائی کے بعد مقامی رہائشیوں اور تاجروں میں روزگار اور قانون کے نفاذ کے طریقے کے حوالے سے خدشات پیدا ہوگئے ہیں۔
اس کارروائی نے خاص طور پر چھوٹے کاروباروں کو متاثر کیا ہے۔ کئی دکانداروں کا کہنا ہے کہ ان دکانوں کو سیل کئے جانے کے بعد ان کی آمدنی کا واحد ذریعہ ختم ہوگیا ہے۔ اپنی دکان سیل ہونے پر ایک تاجر نے بتایا کہ ”یہ میری کمائی کا واحد ذریعہ ہے۔ مجھے نہیں معلوم کہ اب میں اپنے خاندان کے اخراجات کیسے پورے کروں گا۔“
مقامی رہائشیوں نے دعویٰ کیا کہ متاثرہ دکانوں کے مالکین کی اکثریت مسلم برادری سے تعلق رکھتی ہے۔ دوسری طرف، حکام کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی مکمل طور پر بلدیاتی قوانین اور طریقہ کار کے مطابق کی گئی ہے۔ ایک عہدیدار نے بتایا کہ ”کارروائی خلاف ورزیوں اور قانونی عمل پر مبنی ہے۔ اس کا کسی مذہب سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ کوئی بھی قدم اٹھانے سے پہلے نوٹس جاری کئے جاتے ہیں۔“
یہ بھی پڑھئے: دہلی: رہائشی عمارت میں آتشزدگی، ۹؍ افراد ہلاک
حکام کی جانب سے صفائی کے باوجود، مقامی افراد نے کارروائی کے وقت اور دائرہ کار پر سوالات اٹھائے ہیں۔ کئی رہائشیوں کا کہنا ہے کہ اگرچہ حالیہ ہنگامہ آرائی میں ملوث افراد کے خلاف قانونی اقدامات جائز ہوسکتے ہیں، لیکن دکانوں اور جائیدادوں کے خلاف کارروائی نے ان لوگوں میں خوف پیدا کر دیا ہے جو براہِ راست واقعے سے جڑے ہوئے نہیں ہیں۔
علاقے میں عام طور پر پائے جانے والے خدشات کا اظہار کرتے ہوئے ایک اور تاجر نے سوال کیا کہ ”اگر خلاف ورزیاں کی جا رہی تھیں تو یہ کارروائی پہلے کیوں نہیں کی گئی؟ صرف اب ہی کیوں؟“ کچھ مقامی افراد نے اس بات کی طرف بھی توجہ دلائی کی کہ غیر مسلموں کی بھی چند دکانیں سیل کی گئی ہیں، لیکن ان کا الزام ہے کہ مجموعی اثرات نے غیر متناسب طور پر مسلم تاجروں کو متاثر کیا ہے۔
دکانوں کو سیل کئے جانے کی وجہ سے محلے کی روزمرہ زندگی بھی متاثر ہوئی ہے، کیونکہ سیل کی گئی دکانوں میں اشیائے خوردونوش، مرمتی خدمات اور دیگر ضروری کاروبار شامل ہیں۔ ایک رہائشی نے بتایا کہ ”یہ دکانیں یہاں کے ہر فرد کیلئے اہم ہیں۔ ان کو بند کئے جانے سے پورا علاقہ متاثر ہوا ہے۔“
یہ بھی پڑھئے: دہلی: ۴۸۲۰۴؍کروڑ روپے کے منصوبے کے تحت ۹۷؍ کلو میٹر میٹرو، ۶۵؍ اسٹیشن
متاثرہ جائیدادوں سے منسلک خاندانوں نے عدم تحفظ کے بڑھتے ہوئے احساس کا ذکر کیا۔ ایسی ہی ایک فیملی سے تعلق رکھنے والی خاتون نے کہا کہ ”ہم پہلے ہی فکر مند تھے اور اب اس کارروائی نے ہمارے خوف میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ ہم لوگ غیر یقینی صورتحال کا شکار ہیں کہ آگے کیا ہوگا۔“
قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ حکام کے پاس خلاف ورزیوں کے خلاف کارروائی کا اختیار ہے، لیکن عوامی اعتماد برقرار رکھنے کیلئے ایسے اقدامات شفاف اور یکساں ہونے چاہئیں۔ مسلم برادری کے نمائندوں نے امن برقرار رکھنے کی اپیل کی ہے اور حکام سے مکالمے کا مطالبہ کرتے ہوئے رہائشیوں کے خدشات دور کرنے کا کہا ہے۔ فی الحال کئی دکانیں بند ہیں اور متاثرہ خاندانوں میں غیر یقینی چھائی ہوئی ہے کیونکہ وہ اگلے لائحہ عمل کے حوالے سے وضاحت کے منتظر ہیں۔