مہلوکین میں ایک ہی خاندان کے ۵؍ افراد اور ان میںایک ڈیڑھ سالہ بچہ بھی شامل ،اے سی میںدھماکہ آتشزدگی کی ممکنہ وجہ ۔
EPAPER
Updated: May 04, 2026, 9:46 AM IST | New Delhi
مہلوکین میں ایک ہی خاندان کے ۵؍ افراد اور ان میںایک ڈیڑھ سالہ بچہ بھی شامل ،اے سی میںدھماکہ آتشزدگی کی ممکنہ وجہ ۔
مشرقی دہلی کے شاہدرہ ضلع کے وویک ویہار علاقے میں اتوار کی علی الصباح ایک ۴؍ منزلہ عمارت میں بھیانک آگ لگ گئی جس سے بڑے پیمانے پر خوف و ہراس پھیل گیا۔ اس حادثے میں ۹؍ افرادکی موت ہوگئی جن میںایک ہی خاندان کے ۵؍ افراد شامل ہیں۔ جب کہ درجنوں کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔ فائر کنٹرول روم کو صبح ۳؍ بجکر۴۸؍ منٹ پر آگ لگنے کا کال موصول ہوا جس نے فوری طور پر راحت اور بچاؤ کی کارروائیاں شروع کر دیں۔ آگ کی شدت کو دیکھتے ہوئے فائر بریگیڈ کی ۱۴؍گاڑیاں جائے وقوع پر بھیجی گئی ہیں۔ کافی کوششوں کے بعد صبح ۶؍ بجکر۲۵؍ منٹ پر آگ پر قابو پالیا گیا تاہم سرچ آپریشن مسلسل جاری ہے۔فائر فائٹرز اور مقامی پولیس ٹیموں نے مشترکہ طور پر عمارت میں پھنسے افراد کو نکالنے کیلئے آپریشن شروع کیا ۔ اب تک تقریباً ۱۰؍ سے زائد افراد کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے جنہیں قریبی اسپتالوں میں داخل کرایا گیا ہے۔ زخمیوں میں سے بعض کی حالت نازک بتائی گئی ہے ۔ملبے سے اب تک ۴؍ لاشیں نکالی جا چکی ہیں تاہم ان کی شناخت نہیں ہو سکی ہے۔
شاہدرہ کے ڈی سی پی آر پی مینا نے بتایا کہ آگ لگنے کی اطلاع ملتے ہی پولیس اور دیگر ایجنسیاں فوراً حرکت میں آگئیں۔ انہوں نے کہا کہ ہماری اولین ترجیح ہے کہ پھنسے ہوئے افراد کو بحفاظت نکالا جائے اور زخمیوں کو فوری طبی امداد فراہم کی جائے۔
یہ بھی پڑھئے: ملک میں پانی کا بحران شدید،۱۶۶؍ آبی ذخائر کی سطح میں گراوٹ
آس پاس کے علاقے احتیاطاً خالی کرائے گئے
خبر لکھے جانے تک تحقیقاتی ادارے جائے وقوع پر موجود تھے اورتفتیش جاری تھی ۔ مقامی باشندوں کے مطابق آگ تیزی سے پھیلی جس سے لوگوں کو سنبھلنے کا وقت نہیں ملا۔ انتظامیہ نے احتیاط کے طور پر آس پاس کے علاقے کو خالی کرا لیا ہے اور لوگوں کو جائے وقوع سے دور رہنے کی اپیل کی ہے۔خبرلکھے جانے تک راحت اور بچاؤ کی کارروائیاں جاری تھیں ۔
پولیس اور فائر ڈپارٹمنٹ نے ابتدائی طور پر آگ لگنے کی وجہ اے سی دھماکے کو قراردیا ہے ۔ آگ عمارت کی دوسری، تیسری اور چوتھی منزل پر تیزی سے پھیل گئی۔ فائر فائٹرز نے آگ بجھانے اور امدادی کارروائیوں کے دوران ۱۰؍سے۱۵؍ افراد کو بچا لیا۔ ان میں سے دو افراد زخمی ہوئے ہیں جنہیں اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ترنمول یا کنول کا پھول؟ آج فیصلہ، سخت سیکوریٹی
ایک دھماکہ کی آواز اور فون منقطع
وویک ویہار میں لگی آگ کے حوالے سے نئی معلومات سامنے آئی ہیں۔ اروند جین کے چھوٹے بیٹے نشانت جین نے آگ لگنے کے وقت اپنے بڑے بھائی دیپک کو فون کیا۔ اس نے اسے آگ کی اطلاع دی اور مدد کی التجا کی لیکن دیپک مانیسرگروگرام میں تھا۔ اس وقت ایک دھماکے کی آواز سنی گئی اور فون منقطع ہو گیا۔حادثے میں جان گنوانے والے اروند جین کے بہنوئی سنجے جین نے بتایا کہ یہ خاندان تقریباً ۱۰؍ سال قبل سیلم پور کے گوتم پوری سے وویک ویہار منتقل ہوا تھا۔ اروند جین کا بڑا بیٹا دیپک اپنے بیٹے کی سالگرہ منانے مانیسر گیا ہوا تھا۔ انہوں نے نشانت سے رات۱۲؍ بجے ویڈیو کال پر بات کی تھی۔اتوار کو پورا خاندان سالگرہ کا جشن منانے جانے والا تھا ۔ نشانت پیشے سے سی اے ایس تھے اور دیپک سی اے ہے۔ دیپک کا کناٹ پلیس میں دفتر ہے۔ نشانت جین کے دفاتر کناٹ پلیس، دبئی اور لکشمی نگر میں واقع ہیں۔سنجے نے بتایا کہ حادثےمیں انہوں نے اپنے جیجا،بہن ، بھانجے(اور اس کی بیوی) اور نشانت کے ڈیڑھ سالہ بیٹے آرو کو اس حادثے میں کھو دیا۔ لاشیں مکمل طور پر جھلس چکی تھیں۔ اس ایک ہی خاندا ن کے جو ۵؍ افراد میںحادثہ میں جاں بحق ہوئے ہیں ان میںایک ڈیڑھ سالہ بچہ ،اروند(۶۰)، ان کی اہلیہ انیتا جین (۵۸)،بیٹا نشانت جین (۳۵) اور اروند کی بہوآنچل جین (۳۳)شامل ہیں۔نشانت کے ایک رشتے دارامیت جین نے بتایاکہ نشانت نے رات میں اپنے کئی رشتے داروں کو فون لگایاتھا اوراس نے سب سے انہیںبچانے کی درخواست کی تھی۔