بھیونڈی میں پینے کے پانی کی قلت، شہری بےحال

Updated: May 16, 2022, 11:03 AM IST | Khalid Abdulqauum Ansari | Mumbai

عوام کے اضطراب اور غصے کو دیکھتے ہوئےسیاسی جماعتوں نے بے قاعدگی سے پانی کی سپلائی پراحتجاج کاانتباہ دیا، میونسپل کمشنر کو میمورنڈم

Children and women are having difficulty accessing drinking water..Picture:INN
پینے کا پانی حاصل کرنے کےلئے بچوں اور خواتین کو دشواریوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔۔ تصویر: آئی این این

نااہل عوامی نمائندوں اورمیونسپل کارپوریشن کے محکمہ آب رسانی کے افسران کی لاپرواہی کے سبب موسم گرما کے آغاز سے ہی بے قاعدگی سے پانی کی سپلائی ہو رہی ہے۔ پانی کی عدم فراہمی سے شہریوں کو شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ عین میونسپل انتخاب سے قبل پانی کی سپلائی میں ہورہے خلل نے کارپوریٹروں کی نیند حرام کردی ہے۔عوام کے اضطراب اور غصے کو دیکھتے ہوئے سیاسی جماعتوں کے نمائندے میونسپل کمشنر کو میمورنڈم  دے کر جلد سے جلد پانی کی سپلائی بحال کروانے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔حیرت کی بات یہ ہے کہ کارپوریشن کے اقتدار میں شامل این سی پی اور بی جے پی دونوں میونسپل کمشنر کو میمورنڈم پیش کرکے متاثرہ علاقوں میں پانی کی سپلائی کا مطالبہ کیا ہے۔شہریوں نے الزام عائد کیا ہے کہ اقتدار میں شامل ہونے کے باوجود اگر یہ سیاسی جماعتیں پانی جیسی اہم بنیادی ضروریات کیلئے کمشنر پر دباؤ نہیں بنا سکتی ہیں اور وہ کمشنر کے دفتر کا چکر کاٹنے پر مجبور ہیں تو ان سے مزیدکیا توقع کی جاسکتی ہے؟
بی جے پی نے خبردار کیا
 میونسپل کمشنر کو دئیے گئے میمورنڈم میں بی جے پی کے کارپوریٹرنیلیش چودھری نے میونسپل انتظامیہ پر الزام لگایا ہے کہ شہر میں پانی کی فراہمی کیلئے محکمہ آب رسانی کی جانب سے کوئی منصوبہ بندی نہیں کی گئی ہے۔ شہر کے مختلف علاقوں میں پینے کے لئے وافر مقدار میں پانی کی عدم دستیابی کے باعث شہریوں کے سامنے شدید پریشانیوںکا سامنا ہے۔ میونسپل کمشنر کے ساتھ ساتھ محکمہ واٹر سپلائی کے افسران سے شکایت کرنے کے بعد بھی توجہ نہیں دی جارہی ہے۔بی جے پی نے خبردار کیاکہ بھاگیہ نگر، ہنومان نگر، حلوہ پاڑا، آدیواسی بستی، برہمانند نگر، سائی نگر، ٹڈالی انجورپھاٹااور راجیو گاندھی نگر سمیت دیگر علاقوں میں گزشتہ ۳؍ ماہ سے پانی کی باقاعدہ فراہمی نہیں کی جا رہی ہے۔ کئی علاقوں کے نلوں میں پانی کی عدم دستیابی کے باعث وہاں کے شہریوں کو پینے کے پانی کیلئے شدید پریشانی کا سامنا ہے۔ خواتین کو پانی کی ایک ایک بالٹی کے لئے بھٹکنا پڑتا ہے۔ کئی علاقوں میں پینے کا آلودہ پانی فراہم کیا جا رہا ہے۔ جس کی وجہ سے وہاں کے شہریوں کو مختلف بیماریوں کا سامنا ہے۔ میئر پرتیبھا پاٹل اور میونسپل کمشنر سدھاکر دیشمکھ کو بھیجے گئے خط میں انہوں نے انتباہ دیا ہے کہ اگر شہر میں جلد از جلد پانی کی فراہمی کا باقاعدہ اور مناسب بندوبست نہیں کیا گیا تو ۲۰؍ مئی کو مورچہ نکال کر احتجاج کیا جائے گا۔
این سی پی پہلے ہی وارننگ دے چکی ہے
 شہر میں پینے کے پانی کے مسئلہ  سے متعلق این سی پی کے ضلع صدرشعیب خان گڈو نے میئر اور میونسپل کمشنر کو دئیے گئے ایک میمورنڈم میں کہا ہے کہ شہر کے بیشتر علاقوں بالخصوص شانتی نگر، غیبی نگر،اسلام پورہ، کنیری اور دیگر علاقوں میں پینے کے پانی کا سنگین مسئلہ ہے۔جبکہ ۲۷؍اپریل کو منعقدہ جنرل باڈی میٹنگ میں شہر کے ترقیاتی کاموں کے موضوع کے علاوہ پینے کے پانی پر ۲؍ گھنٹے بحث ہوئی اور پانی کی باقاعدہ فراہمی کی ہدایات دی گئیں۔ اس کے باوجود محکمہ واٹر سپلائی کی جانب سے پانی کی باقاعدہ اور مناسب فراہمی نہیں کی جا رہی ہے۔ عوامی نمائندے محکمہ واٹر سپلائی کے حکام سے رابطہ کر کے پانی کی فراہمی کا مطالبہ کر رہے ہیں لیکن کوئی توجہ نہیں دی جا رہی۔ شعیب خان گڈونے خبردار کیا ہے کہ اگر ۲؍ دن میں متاثرہ علاقوں میں پانی کی باقاعدہ فراہمی نہ کی گئی تو عوامی تحریک چلائی جائے گی۔ این سی پی کے ضلعی صدر شعیب خان کی غیر موجودگی میں، سابق ڈپٹی میئر احمد حسین صدیقی، اسٹینڈنگ کمیٹی کے سابق چیئرمین حلیم انصاری سمیت ۱۹؍ کارپوریٹروں نے ڈپٹی میئر عمران خان کی قیادت میں میونسپل کمشنر کو ایک میمورنڈم پیش کیا۔ میونسپل کمشنر سدھاکر دیشمکھ نے بتایا کہ محکمہ آب رسانی کو ایک ہفتے کے اندر پانی کی سپلائی معمول کے مطابق کرنے کی ہدایات دی گئی ہیں۔

bhiwandi Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK