جیسے ہی ’’مرزاپور: دی فلم‘‘ ہندوستان کی مقبول ترین فرضی دنیاؤں میں سے ایک کو بڑے پردے پر لانے کی تیاری کر رہی ہے، اداکارہ شویتا ترپاٹھی نے اس فرنچائز کے غیر معمولی سفر پر اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے۔
EPAPER
Updated: July 26, 2026, 3:02 PM IST | Mumbai
جیسے ہی ’’مرزاپور: دی فلم‘‘ ہندوستان کی مقبول ترین فرضی دنیاؤں میں سے ایک کو بڑے پردے پر لانے کی تیاری کر رہی ہے، اداکارہ شویتا ترپاٹھی نے اس فرنچائز کے غیر معمولی سفر پر اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے۔
جیسے ہی ’’مرزاپور: دی فلم‘‘ ہندوستان کی مقبول ترین فرضی دنیاؤں میں سے ایک کو بڑے پردے پر لانے کی تیاری کر رہی ہے، اداکارہ شویتا ترپاٹھی نے اس فرنچائز کے غیر معمولی سفر پر اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے۔جو سیریز ایک سخت گیر کرائم ڈرامے کے طور پر اسٹریمنگ پلیٹ فارم پر شروع ہوئی تھی، وہ وقت کے ساتھ ایک ثقافتی مظہر بن گیا۔ اس کے کردار، مکالمے اور کئی یادگار مناظر عوامی ثقافت کا حصہ بن چکے ہیں۔ شویتا کے نزدیک یہ فلم صرف فرنچائز کا نیا باب نہیں بلکہ ہندوستانی کہانی سنانے کے انداز میں ایک اہم سنگِ میل بھی ہے کیونکہ اسٹریمنگ پلیٹ فارمز کی اصل تخلیقات اب ڈجیٹل دنیا سے نکل کر سینما گھروں تک پہنچ رہی ہیں۔
یہ بھی پڑھئے:راون صرف ایک ویلن نہیں بلکہ نہایت پیچیدہ کردار ہے: یش
اداکارہ نے کہا’’جب ہم نے تقریباً ۸؍ سال پہلے `مرزاپور کی شوٹنگ شروع کی تھی تو ہم میں سے کسی نے بھی یہ تصور نہیں کیا تھا کہ اس کا سفر اس مقام تک پہنچے گا۔ بطور اداکار ہم یہی امید رکھتے ہیں کہ ہمارا کام لوگوں سے جڑ جائے، لیکن بہت کم ایسا ہوتا ہے کہ کوئی شو روزمرہ کی گفتگو، میمز، تقریبات اور یہاں تک کہ لوگوں کی زبان کا حصہ بن جائے۔ ’’مرزاپور‘‘نے یہ مقام حاصل کیا۔ اس نے ہمیں لوگوں کا گڈو بھیا اور گولو دیدی بنا دیا۔ آج لوگ صرف یہ شو نہیں دیکھتے بلکہ اس کے کرداروں سے جذباتی وابستگی رکھتے ہیں اور ان کی کامیابی کے لیے دعاگو ہوتے ہیں۔
اسٹریمنگ سے سنیما تک کا تاریخی سفر
’’مرزاپور: دی فلم‘‘ کا اعلان ہندوستانی تفریحی صنعت کے لیے ایک اہم لمحہ قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ یہ ملک کی پہلی بڑی اسٹریمنگ فرنچائزز میں شامل ہے جسے فیچر فلم کی شکل دی جا رہی ہے۔ شویتا ترپاٹھی کے مطابق، یہ تبدیلی اس بات کا ثبوت ہے کہ گزشتہ برسوں کے دوران ناظرین نے اس سیریز سے کتنی محبت کی اور اس کے کرداروں کے ساتھ کتنی گہری جذباتی وابستگی قائم کی۔
انہوں نے کہا’’اسی لیے ’’مرزاپور‘‘ کا پہلی بڑی ہندوستانی اسٹریمنگ فرنچائزز میں شامل ہو کر بڑے پردے تک پہنچنا میرے لیے بہت خاص احساس ہے۔ یہ صرف ایک فلمی روپ نہیں بلکہ برسوں کی ناظرین کی محبت کا نتیجہ ہے۔ ہر سیزن کے اختتام پر لوگ مزید دیکھنا چاہتے تھے، دوبارہ شو دیکھتے تھے، مختلف نظریات پر گفتگو کرتے تھے اور ان کرداروں کو اپنے ساتھ لے کر چلتے تھے۔ ایک لحاظ سے یہ فلم جتنی ہماری ہے، اتنی ہی مداحوں کی بھی ہے۔‘‘
گولو گپتا کا سفر سب سے زیادہ جذباتی
شویتا ترپاٹھی کے لیے یہ فلم گولو گپتا کے کردار کے طویل اور پیچیدہ سفر کا تسلسل بھی ہے، ایک ایسا کردار جسے وہ تقریباً ایک دہائی سے نبھا رہی ہیں۔ایک نظریاتی اور معصوم نوجوان لڑکی سے لے کر ’’مرزاپور‘‘ کی دنیا کی طاقتور ترین کرداروں میں شامل ہونے تک، گولو کی تبدیلی نے ناظرین، خصوصاً نوجوان خواتین، پر گہرا اثر چھوڑا ہے، جنہوں نے اس کی ثابت قدمی، کمزوریوں اور مضبوط شخصیت میں اپنی جھلک دیکھی۔‘‘
یہ بھی پڑھئے:سری کانت نے محمد سمیع کو نظر انداز کرنے پر حیرانی کا اظہار کیا
شویتا نے کہا’’ جو چیز مجھے سب سے زیادہ جذباتی کرتی ہے، وہ گولو کا سفر ہے۔ میں برسوں سے اس کردار کے ساتھ جی رہی ہوں۔ اس نے ایک ایسی نوجوان لڑکی کے طور پر آغاز کیا تھا جو صحیح کام کرنے پر یقین رکھتی تھی، اور پھر آہستہ آہستہ وہ ایک ایسی شخصیت میں ڈھل گئی جو طاقت، غم، انتقام اور خواہشات کے درمیان اپنا راستہ تلاش کرتی ہے۔ ناظرین کو اس کے ساتھ ساتھ بڑھتے اور بدلتے دیکھنا میرے کیریئر کے سب سے یادگار تجربات میں سے ایک رہا ہے۔ آج بھی بہت سی نوجوان خواتین مجھ سے مل کر کہتی ہیں کہ وہ گولو کی ثابت قدمی، اس کی خامیوں اور سماجی توقعات کے سامنے نہ جھکنے والے رویے سے خود کو جوڑتی ہیں۔ یہ میرے لیے بے حد متاثر کن اور جذباتی لمحہ ہوتا ہے۔‘‘