یاترا کے ۱۲؍ ویں دن تاریخی ضلع چمپارن میں تیجسوی یادو کے ساتھ راہل گاندھی کی ریلی ، ہماچل کے وزیر اعلیٰ سکھوندر سنگھ بھی شامل ہوئے
EPAPER
Updated: August 28, 2025, 11:25 PM IST | Patna
یاترا کے ۱۲؍ ویں دن تاریخی ضلع چمپارن میں تیجسوی یادو کے ساتھ راہل گاندھی کی ریلی ، ہماچل کے وزیر اعلیٰ سکھوندر سنگھ بھی شامل ہوئے
راہل گاندھی کی ووٹر ادھیکار یاترا جو ہر گزرتے دن کے ساتھ عوام میں مقبولیت کی نئی حدوں کو چھورہی ہے،اب اپنے آخری پڑائو میں پہنچ رہی ہے۔ ۱۶؍ دن کی اس یاترا کو ۱۲؍ دن مکمل ہوچکے ہیں لیکن اس دوران ملک کے طول و عرض سے اہم اپوزیشن لیڈران کی شرکت کا سلسلہ جاری ہے جو اس یاترا کی عوامی مقبولیت کی دلیل ہے۔ گزشتہ روز جہاں تمل ناڈو کے وزیر اعلیٰ ایم کے اسٹالن اس یاترا میں شریک ہوئے تھے وہیں آج کرناٹک کے وزیر اعلیٰ سدا رمیا یاترا میںشریک ہوں گے ۔ ان کے نائب ڈی کے شیو کمار بھی اس یاترا میں شریک ہونے والے ہیں لیکن وہ سنیچر یا اتوار کو کسی وقت شامل ہوں گے ۔بہر حال سدا رمیا کی شرکت نے کانگریس پارٹی اور دیگر اپوزیشن پارٹیوں کو کافی تقویت پہنچائی ہے کیوں کہ بہار کے ہزاروں افراد کرناٹک میں برسرروزگار ہیں۔ ان میں بڑی تعداد بنگلور اور اطراف میں یومیہ مزدور کے طور پر کام کرتی ہے۔ ایسے میں اس ریاست کے وزیر اعلیٰ کی یاترا میں شرکت سے کافی فرق پڑنے کا امکان ظاہر کیا جارہا ہے۔
دریں اثناء ووٹرادھیکاریاتراکے تحت جمعرات کو مشرقی چمپارن پہنچے راہل گاندھی نے پھلوریا سے موتیہاری کے دوران مختلف مقامات پر خطاب کرتے ہوئے وزیر داخلہ اور مرکزی حکومت کو نشانہ بنایا اور کہا کہ گجرات ماڈل کوئی معاشی ترقی نہیں بلکہ ووٹ چوری کا ماڈل ہے۔ ملک کا ہر شخص یہ سمجھ چکا ہے کہ بی جے پی ووٹ چوری کر کے ہی حکومت بنا سکتی ہے۔ راہل گاندھی نے نشاندہی کی کہ الیکشن کمیشن کا بنیادی کام درست ووٹر لسٹ بنانا ہے لیکن کرناٹک، مہاراشٹر اور ہریانہ میں الیکشن کمیشن نے نہ صرف حکومت بنانے میں بی جے پی کا ساتھ دیا بلکہ ووٹ چوری کرکے عوام کے اعتماد کو بھی کھودیا۔
راہل گاندھی نے کہا کہ اب ملک کے عوام بیدار ہو چکے ہیں۔ اس مرتبہ بہار میں ہم ووٹ چو ری نہیں ہونے دیں گےبلکہ ہر گھر تک بی جے پی کی غلط پالیسیوں کو پہنچا کر عوام کے حقوق بتائیں گے اور ووٹر ادھیکار یاترا کے ذریعے عوام کو بیدارکریں گے۔انہوں نے کہا کہ آج جو یہ بھیڑ دیکھ رہے ہیں وہ ہم نے نہیں بلائی بلکہ عوام اپنے حقوق کے لئے خود بیدار ہو چکےہیں اور یہ بھیڑ اس بات کی علامت ہے کہ بہار کے لاکھوں کروڑوں لوگوں نے اس بات کو تسلیم کیا ہے کہ ان کے ووٹوں کی چوری کی جا رہی ہے۔
اس موقع پر ریلی میں ’’ہم جمہوریت کی حفاظت آخری سانس تک کریں گے‘‘ اور’’ بہار کے عوام جاگ اٹھے ہیں‘‘ جیسے فلک شگاف نعروں سے چمپارن کی فضا گونج اٹھی۔ راہل گاندھی نے کہا کہ مہاراشٹر کا انتخاب اس لئےچوری کیا گیا تاکہ اڈانی کو دھاراوی دیا جا سکے۔ اب بہار میں ووٹ چوری اس لئے کی جا رہی ہے تاکہ یہاں کا سرمایہ بھی اڈانی اور امبانی کے سپرد کیا جا سکے