صدیق کپن کو پھر ضمانت نہیں  ملی مگر وکیل سے ملنے کی اجازت

Updated: November 21, 2020, 6:16 AM IST | New Delhi

کورٹ میڈیا کی رپورٹنگ سے نالاں ، یوپی سرکار نے گرفتاری کادفاع کیا،  دعویٰ کیا کہ کپن صحافت کی آڑ میں  ذات پات کی بنیاد پر تفریق پھیلانا چاہتے تھے۔

Journalist Siddique Kapan. Photo: INN
صحافی صدیق کپن۔تصویر: آئی این این

ہاتھرس جاتے ہوئے متھرا کے ٹول پلازا پر گرفتار کئے گئے صحافی صدیق کپن کی ضمانت کا معاملہ جمعہ کو مزید ایک ہفتوں  کیلئے ٹل گیا۔ اس دوران عدالت نے انہیں  اپنے وکیل سے ملنے اور وکالت نامہ پر دستخط کرنے کی اجازت دیدی ہے۔ دریں  اثناءسابقہ سماعت میں  کپن کی درخواست ضمانت پر شنوائی کے التواء کے تعلق سے میڈیا کی رپورٹوں پر چیف جسٹس ایس اے بوبڈے نے اپنی ناراضگی کااظہار بھی کیا۔ 
وکیل سے ملنے سے کبھی نہیں  روکا: یوپی سرکار کا دعویٰ
  اس حقیقت کے برخلاف کہ گرفتاری کے ۴۹؍ دنوں   بعد تک کپن کا ان کے وکیلوں   کے ساتھ کوئی رابطہ نہیں  ہوسکا اوران سے ملنے کیلئے وکیلوں  کی جانب سے کی گئی کوششیں  ناکام ہوئیں ، یوپی سرکار کی پیروی کرتےہوئے سالیسٹرجنرل تشار مہتا نے جمعہ کو عدالت میں دعویٰ کیا کہ کپن کو کبھی بھی ان کے وکیل سے ملنے سے نہیں  روکا گیا۔ انہوں  نے کہا کہ ریاستی حکومت کو جیل میں  کپن سے وکیلوں  کی ملاقات اور وکالت نامہ پردستخط لینے پر نہ پہلے کوئی اعتراض تھا نہ اب  ہے۔ ا س سے قبل کپل سبل نے چیف جسٹس ایس اے بوبڈے، جسٹس اے ایس بوپنا اور جسٹس وی رام سبرامنیم پر مشتمل بنچ کو بتایا کہ ملزم کو وکیل سے ملنے نہیں  دیا جارہاہے۔
صدیق کپن سے ملاقات کی دردر کی ٹھوکریں  
 ا نہوں نے بتایا کہ ’’ہم مجسٹریٹ کے پاس بھی گئے اور اپیل کی کہ ہمیں ملزم سے ملنے دیں  تاکہ ہم اپنی پٹیشن میں  ضروری ترمیم کرسکیں ۔مجسٹریٹ نے جیل حکام سے ملنے کیلئے کہا اور جیل حکام نے ہمیں  پھر مجسٹریٹ کے پاس بھیج دیا۔‘‘ ا س کی تردید کرتے ہوئے تشار مہتا نے دعویٰ کیا کہ ملزم اوراس کے ساتھی ملزمین کی درخواست ضمانت پر ۹؍ دنوں  تک شنوائی ہوئی ہے۔ ا س پر سبل نے جواب دیا کہ صدیق کپن نے کسی اور عدالت سے رجوع نہیں  کیا ہے، ذیلی عدالت ان کے ساتھی ملزمین کی درخواست ضمانت پر شنوائی کررہی ہے۔   بہرحال سپریم کورٹ نےکپل سبل کو سالیسٹر جنرل کے جواب کا جائزہ لے کر اپنا جواب داخل کرنے کا حکم دیتے ہوئے شنوائی ایک ہفتے کیلئے ملتوی کردی۔
چیف جسٹس میڈیا سے نالاں 
 چونکہ ارنب گوسوامی کو جس سرعت کےساتھ ضمانت ملی تھی اس کے مقابلے میں  صدیق کپن کا معاملہ التواء کا شکار ہے،اس لئے میڈیا میں  اس پر بحث چھڑ گئی ہے۔    جمعہ کو شنوائی کے دوران چیف جسٹس نے میڈیا کی رپورٹنگ پر بھی ناراضگی کااظہار کیا۔ وہ خبر کو اس طرح پیش کئے جانے سے ناراض تھے کہ کورٹ نے صدیق کپن کو راحت نہیں  دی۔ انہوں نے کہا کہ ’’گزشتہ شنوائی میں  ہم آرٹیکل ۳۲؍ کے تحت داخل کی جانے والی پٹیشنوں  کی حوصلہ شکنی کی کوشش کررہے تھے۔‘‘ آرٹیکل ۳۲؍ کے تحت سپریم کورٹ سے رجوع کی مخالفت کرتے ہوئے یوپی سرکار نے دعویٰ کیا کہ انہیں  اس کا اختیار ہی نہیں  ہے کیوں  کہ وہ غیر قانونی حراست میں  نہیں  ہیں بلکہ عدالتی تحویل میں  ہیں ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ارنب گوسوامی کو سپریم کورٹ سے جب راحت ملی تھی تب وہ بھی عدالتی تحویل میں  تلوجہ جیل میں تھے۔ 
 اس کےساتھ ہی یوگی آدتیہ ناتھ کی سرکار نے عدالت میں  کپن پر الزام لگایا کہ وہ صحافت کی آڑ میں  ذات پات کی بنیاد پر تفریق پھیلانے کیلئے ہاتھرس جارہے تھے۔ یوپی سرکار نے سپریم کورٹ سے صدیق کپن کی پٹیشن کو خارج کرتے ہوئے انہیں   الہ آباد ہائی کورٹ بھیجنے کی اپیل کی ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK