Inquilab Logo Happiest Places to Work

سنگاپور کی حکمران پیپلز ایکشن پارٹی نے عام انتخابات میں کامیابی حاصل کی

Updated: May 04, 2025, 6:04 PM IST | Singapore

سنگاپور کی حکمران پیپلز ایکشن پارٹی (پی اے پی) کو ہفتہ ہونے والے عام انتخابات میں ایک مضبوط مینڈیٹ ملا ہے۔

Prime Minister Lawrence Wong`s, from People`s Action Party (PAP) thanks his supporters. Photo: PTI
پیپلز ایکشن پارٹی (پی اے پی) کے وزیر اعظم لارنس وونگ اپنے حامیوں کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔ تصویر: پی ٹی آئی

 سنگاپور کی حکمران پیپلز ایکشن پارٹی (پی اے پی) کو ہفتہ  ہونے والے عام انتخابات میں ایک مضبوط مینڈیٹ ملا ہے۔پارٹی کو ۵۷ء۶۵؍ فیصد ووٹ ملے ، جو ۲۰۲۰ءکے ۲۴ء۶۱؍فیصد سے زیادہ ہے۔ یہ معلومات اتوار کو جاری ہونے والے سرکاری نتائج سے  موصول ہوئی ہے۔پی اے پی نے پارلیمنٹ کی منتخب کردہ ۹۷؍ نشستوں میں سے ۸۷؍ میں کامیابی حاصل کی ہے اور وہ شہر-ریاست کے ۳۳؍ حلقوں میں سے ۳۰؍ پر حکمرانی کرے گی۔اپوزیشن ورکرز پارٹی (ڈبلیو پی) نے مشرقی سنگاپور میں تین  نشستوں  پر قبضہ کرتے ہوئے ۱۰؍ نشستیں  برقرار رکھیں۔ اپوزیشن کی کسی دوسری جماعت کو کوئی نشست نہیں ملی۔حکمران  جماعت پی اے پی کو ۱۹۶۵ء میں سنگاپور کی آزادی کے بعد سے دوبارہ جیتنے کی وسیع امید تھی۔ زیادہ تر توجہ جیت کے فرق پرتھی ، کیونکہ ۲۰۱۵ء میں پی اے پی کے ووٹ شیئر میں  ۸۶ء۶۹ء فیصد  سے  گذشتہ انتخابات میں گراوٹ آئی تھی۔

یہ بھی پڑھئے: آسٹریلیا میں البانیز دوبارہ وزیراعظم بنیں گے

انتخابات نے اس  بات پر توجہ مبذول کی کہ یہ پہلا موقع تھا جب وزیر اعظم لارنس وانگ نے  مئی ۲۰۲۴ء میں لی سیان لونگ کے جانشین بننے کے بعد  پی اے پی کی سربراہی میں ایک  عام انتخابات میں حصہ لیا، جن کی دو دہائیوں کی مدت  کار رہی ہے۔  تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ  کئی ہائی پروفائل انتخابات میں جیت اور چند وارڈز میں ۸۰؍ فیصد سے زیادہ کی شاندار جیت سمیت پی اے پی کی کارکردگی ایک مضبوط مینڈیٹ کی عکاسی کرتی ہے ، خاص طور پر ایک وسیع امریکی ٹیرف کے بعد عالمی سطح پر غیر یقینی صورتحال میں اضافہ کے درمیان۔ وانگ اور لی دونوں نے متنبہ کیا  تھا کہ بیرونی جھٹکے سنگاپور کی کھلی معیشت پر مستقل اثر ڈال سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: واشنگٹن: امریکی فوج کی ۲۵۰؍ ویں سالگرہ کی مناسبت سے ۶۵۰۰؍ فوجی ٹکڑیوں کی پریڈ

دریں اثنا ، اگرچہ وی پی نے خود کو وسعت نہیں دی ، لیکن ایسا لگتا ہے کہ اس کی رفتار بڑھ رہی ہے۔ پارٹی نے  ۲۰۱۵ء میں  چھ سیٹوں سے ۲۰۲۰ء میں اپنی نمائندگی کو بڑھا کر ۱۰؍ کرلیا ۔ اس سال ، اس نے ہوگنگ اور الجونڈ میں اپنے مضبوط گڑھ کو برقرار رکھا اور سنگ کانگ میں ۳۱ء۵۶؍فیصد ووٹ حاصل کیے ، جو ۲۰۲۰ء میں ۱۲ء۵۲ء فیصد سے زیادہ ہے ، جب اس نے قریبی  مقابلے  میں حلقہ جیت لیا تھا۔ بہت سے دوسرے حلقوں میں  اس نے  الیکشن لڑا، وی پی اور پی اے پی کے مابین فرق بہت کم تھا۔
سنگاپور الیکشن ڈپارٹمنٹ نے اتوار کی صبح ایک بیان میں کہا ہے کہ ہفتہ کے عام انتخابات میں ، ۴۷ء۹۲؍ فیصد ووٹنگ  ہوئی، جس میں ۲۴۲۹۲۸۱؍ ووٹ  ڈالے گئے، جن میں سے ۴۲۸۲۹؍ ووٹ مسترد کردیئے گئے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK