Inquilab Logo Happiest Places to Work

ایس آئی آر: سپریم کورٹ کے فیصلے پر تشویش

Updated: May 28, 2026, 11:15 AM IST | Agency | New Delhi

پرشانت بھوشن نے کمیشن کیلئے بلینک چیک بتایا، یوگیندر یادو نے کہا : اب بی جےپی طے کریگی کہ ووٹ کون دیگا، کانگریس نے کہا: کئی سوال کھڑے ہوئے۔

SIR Maharashtra.Photo:INN
ایس آئی آر مہاراشٹر۔ تصویر:آئی این این
ایس آئی آر پر سپریم کورٹ نے بدھ کو جو  فیصلہ سنایا اس  نے ملک میں   شہری حقوق  کے تحفظ اور دفاع کیلئے سرگرم رہنے والی شخصیات اور تنظیموں کو دم بخود کردیا ہے۔ سپریم کورٹ نے نہ صرف یہ کہ ووٹر لسٹ کو صاف کرنے کیلئے  ایس آئی آر کو جائز ٹھہرایا ہے بلکہ اس نے یہ بھی تسلیم کرلیا ہے کہ الیکشن کمیشن کو انتظامی حد تک  شہریت کی جانچ کا حق حاصل ہے۔ 
معروف سماجی کارکن یوگیندر یادو جو ایس آئی آر کے خلاف عرضی گزاروں میں شامل تھے، نے کہا ہے کہ اس فیصلے نے یہ طے کردیا ہے کہ اب بی جےپی یہ فیصلہ کریگی کہ ملک میں کسے ووٹ دینے کا حق ہوگا۔   انہوں نے فیصلے کو لاکھوں شہریوںکی حق رائے دہی سےمحرومی پر سپریم کورٹ  کی مہر قرار دیا۔ یادو  نے مایوسی کااظہار کرتے ہوئے کہا کہ سماعت کے دوران بہت پہلے واضح  ہو گیا تھا کہ یہی فیصلہ آئےگا کیوں کہ سپریم کورٹ  نے ایس آئی آر کے آئینی جواز کا جائزہ لینے سے ہی انکار کردیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ یہی وجہ ہے کہ وہ عرضی گزار ہونے کے باوجود بدھ کوفیصلے کے وقت سپریم کورٹ نہیں گئے تھے۔
 
 
معروف ماہر قانون ایڈوکیٹ پرشانت بھوشن  جو اس معاملےمیں کورٹ میں پیش  ہوئے نے سپریم  کورٹ کے فیصلے کو ’’الیکشن کمیشن  کی من مانی کیلئے  بلینک چیک‘‘ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس فیصلے نے الیکشن کمیشن کو یہ اختیار دے دیا ہے کہ وہ ووٹر لسٹ کے ساتھ جو چاہے کرے اور اس کیلئے اسے شفافیت کا خیال رکھنے کی بھی اب ضرورت نہیں رہ گئی۔  انہوں نے اس فیصلے کو جہاںجمہوریت کیلئے نقصاندہ قرار دیا وہیں اسے سپریم کورٹ کی تاریخ کا سیاہ دن بھی  بتایا۔
 
 
کانگریس کی جانب سے ابھیشیک منو سنگھوی  نے  فیصلے کے بعد پریس کانفرنس کی اورکہا کہ  اگرچہ کورٹ نے ایس آئی آر کی آئینی حیثیت کو تسلیم کر لیا ہے،لیکن فیصلے نے کئی نئے سوالات بھی کھڑے کر دیئے ہیں۔ کانگریس لیڈرنے کہا کہ فیصلے کے پیراگراف ۹۷؍ سے۱۰۱؍  تک غور سے پڑھنے پر واضح ہوتا ہے کہ انتخابی عمل میں کئی سنگین خامیاں تھیں، جن میں بہتری صرف اس لئے ممکن ہو سکی کہ سیاسی جماعتوں اور غیر سرکاری تنظیموں نے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا۔ انہوں  نے اس بات پر اطمینان کااظہار کیا کہ سپریم کورٹ نے یہ واضح کیا ہے کہ شہریت کے معاملے میں حتمی فیصلے کا اختیار الیکشن کمیشن کے پاس نہیں ہے اس پر فیصلہ کی مجاز اتھاریٹی وزارت داخلہ یا متعلقہ بااختیار ادارے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK