وانکھیڈے اسٹیڈیم میں ایک عظیم اجتماع نظر آنے گا۔ موقع ہے ہندوستان اور انگلینڈ کے درمیان آئی سی سی مینز ٹی۲۰؍ ورلڈ کپ کے سیمی فائنل کا۔ فضا میں امید بھی ہے، بے چینی بھی اور ہلکی سی مسابقتی تپش بھی۔
EPAPER
Updated: March 04, 2026, 3:03 PM IST | Mumbai
وانکھیڈے اسٹیڈیم میں ایک عظیم اجتماع نظر آنے گا۔ موقع ہے ہندوستان اور انگلینڈ کے درمیان آئی سی سی مینز ٹی۲۰؍ ورلڈ کپ کے سیمی فائنل کا۔ فضا میں امید بھی ہے، بے چینی بھی اور ہلکی سی مسابقتی تپش بھی۔
جمعرات کی شام وانکھیڈے اسٹیڈیم میں ایک عظیم اجتماع نظر آنے گا۔ موقع ہے ہندوستان اور انگلینڈ کے درمیان آئی سی سی مینز ٹی۲۰؍ ورلڈ کپ کے سیمی فائنل کا۔ فضا میں امید بھی ہے، بے چینی بھی اور ہلکی سی مسابقتی تپش بھی۔ ۲۰۲۲ء میں انہوں نے سیمی فائنل میں ہندوستان کو اس مہارت سے زیر کیا کہ وہ ایک سرکاری کارروائی جیسا محسوس ہوا۔ ۲۰۲۴ء میں ہندوستان نے اسی وقار کے ساتھ حساب برابر کر دیا۔ اب مقابلہ ایک، ایک سے برابر ہے اور دونوں ٹیمیں اس کہانی کا آخری باب جلی حروف میں لکھنا چاہتی ہیں۔
ہندوستان کی طاقت صرف اس کے ستاروں میں نہیں بلکہ اس کے تنوع میں ہے۔ سنجو سیمسن، اپنی ناقابلِ شکست ۹۷؍ رنز کی اننگز کے بعد، ناقدین اور سلیکٹرز دونوں کو یاد دلا چکے ہیں کہ نفاست اور جرأت ساتھ ساتھ چل سکتی ہیں۔ وہ اب محض جھلک دکھانے والے فنکار نہیں، بلکہ کہانی کے مرکزی کردار بن چکے ہیں۔ کپتان سوریہ کمار یادو ایک ایسے ہنرمند بلے باز ہیں جن کے شاٹس تربیت سے زیادہ تخیل کا نتیجہ لگتے ہیں۔ جب وہ ردھم میں ہوں تو عمدہ بولنگ بھی عوامی شکایت بن جاتی ہے۔
ہاردک پانڈیا اپنی مخصوص شان و شوکت کے ساتھ موجود ہیں - ایسے کھلاڑی جو لمبے چھکے بھی لگا سکتے ہیں اور اسی سانس میں وزنی اوورز بھی کرا سکتے ہیں۔ ان کا کردار اعداد و شمار سے زیادہ موجودگی کا ہے۔ پھر تلک ورما ہیں، کم عمر مگر پُراعتماد، جو ایسے بیٹنگ کرتے ہیں جیسے مستقبل کی بریفنگ پہلے ہی لے چکے ہوں۔ ایشان کشن اوپننگ میں بے تابی لاتے ہیں - کبھی بے احتیاط، اکثر سنسنی خیز۔ شیوَم دوبے، ممبئی کے اپنے سپوت، ان باؤنڈریز سے پرانے دوستوں جیسا تعلق رکھتے ہیں؛ مختصر گیندوں سے وہ خاص رعایت کی توقع نہ رکھیں۔
ہندوستان کی بولنگ متضاد رنگوں کا مجموعہ ہے۔ جسپریت بمراہ درستگی کی جیتی جاگتی مثال ہیں، جو ہنگامے کو حساب میں بدل دیتے ہیں۔ عرشدیپ سنگھ اپنے بائیں ہاتھ کے زاویے سے ابتدائی سوئنگ اور آخری لمحات میں حیرتیں سمیٹ لاتے ہیں۔ ورون چکرورتی ایک معمّہ ہے؛ بلے باز انہیں سمجھنے کی کوشش میں اکثر ان کے وکٹوں میں اضافہ کر دیتے ہیں۔ اکشر پٹیل خاموشی سے ذہانت کا مظاہرہ کرتے ہیں اور خاص طور پر دائیں ہاتھ کے بلے بازوں کو الجھانے میں مہارت رکھتے ہیں۔
انگلینڈ بھی کوئی معمولی مہمان نہیں۔ کپتان جوز بٹلر جوئے باز کی سی جرات رکھتے ہیں - کامیاب ہوں تو بے خوف، ناکام ہوں تو بے معذرت۔ فل سالٹ پاور پلے کو اس سے پہلے دھماکے سے بدل سکتے ہیں کہ تماشائی اپنی نشست سنبھالیں۔ ہیری بروک نوجوانی کے اعتماد سے کھیلتے ہیں، گویا شک نام کی شے سے واقف ہی نہ ہوں۔ ٹام بینٹن کھیل کی غیر متوقع مگر دلکش شخصیت ہیں - دل موہ لینے والے اور کبھی کبھار تباہ کن۔ ول جیکس اور سیم کرن انگلینڈ کو لچک عطا کرتے ہیں؛ خاص طور پر کرن کو اس وقت نمودار ہونے کی عادت ہے جب مخالف خود کو سب سے زیادہ مطمئن سمجھتا ہو۔ بولنگ میں عادل رشید تماشے سے زیادہ باریکی پر یقین رکھتے ہیں، بلے بازوں کو لالچ میں لا کر قابو کرتے ہیں۔ جوفرا آرچر جب رفتار پکڑتے ہیں تو یوں لگتا ہے جیسے کسی جلدی میں ہوں - تیز، بے رحم۔ لیام ڈاسن اور جیمی اوورٹن کنٹرول اور طاقت کا متوازن امتزاج پیش کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے:ریڈ کارپٹ انکشاف؟ زینڈایا اور ٹام ہالینڈ کی خفیہ شادی کی افواہ
وانکھیڈے کی پچ عموماً مددگار مگر کبھی کبھار شرارتی ثابت ہوتی ہے اور رنز کی فراوانی کا وعدہ کرتی ہے۔ یہاں ۲۰۰؍رن کے قریب اسکور کا ذکر ایسے ہوتا ہے جیسے موسم کی بات ہو۔ مگر سیمی فائنل عجیب مخلوق ہوتے ہیں؛ یہ پیش گوئیوں کا مذاق اڑاتے اور اعصاب کی مضبوطی کو انعام دیتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے:ٹرمپ کی ایران کو وارننگ: ایک شدت پسند کی جگہ دوسرا قابلِ قبول نہیں
ہندوستان گھریلو میدان میں ورلڈ کپ جیت کر تاریخ رقم کرنا چاہتا ہے۔ انگلینڈ اپنی سفید گیند کی کرکٹ میں انقلاب کی توثیق کے درپے ہے۔ ان دونوں کے درمیان صرف ۲۲؍ گز کی بھوری پٹی حائل ہے، جہاں ساکھ یا تو نکھرے گی یا مجروح ہوگی۔ اور ہم، حسبِ معمول، دیکھیں گے، بحث کریں گے اور آخر میں دعویٰ کریں گے کہ ہمیں انجام پہلے ہی معلوم تھا۔