Updated: August 28, 2026, 5:00 PM IST
| Mumbai
مرکزی وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن نے جمعرات کو کنیڈا کے مالیاتی اداروں سے ہندستان کے تیزی سے ترقی کرتے بنیادی ڈھانچے کے شعبے میں سرمایہ کاری کرنے کی اپیل کی۔ سیتا رمن نے یہاں اعلیٰ سطحی ہندوستان-کنیڈا بزنس گول میز کانفرنس سے خطاب کیا۔ اس موقع پر کنیڈا کے وزیر خزانہ و محصولات فرانسوا-فلپ شامپین بھی موجود تھے۔
نرملا سیتارمن۔ تصویر:آئی این این
مرکزی وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن نے جمعرات کو کینیڈا کے مالیاتی اداروں سے ہندستان کے تیزی سے ترقی کرتے بنیادی ڈھانچے کے شعبے میں سرمایہ کاری کرنے کی اپیل کی۔ سیتا رمن نے یہاں اعلیٰ سطحی ہندوستان-کنیڈا بزنس گول میز کانفرنس سے خطاب کیا۔ اس موقع پر کنیڈا کے وزیر خزانہ و محصولات فرانسوا-فلپ شامپین بھی موجود تھے۔
وزیر خزانہ نے کنیڈا کے مالیاتی اداروں کو گفٹ آئی ایف ایس سی میں دستیاب مواقع سے فائدہ اٹھانے کی دعوت دی۔ گفٹ آئی ایف ایس سی ہندوستان میں سرحد پار مالیاتی سرگرمیوں کے لیے ایک اہم دروازہ ہے۔ انہوں نے بینکنگ، فنڈ مینجمنٹ، ازسرنو بیمہ، پائیدار مالیات، عالمی صلاحیتی مراکز اور طیاروں و بحری جہازوں کی لیزنگ جیسے شعبوں میں بھی مواقع پر زور دیا۔ اجلاس میں کنیڈا اور ہندوستان کے پالیسی سازوں، مالیاتی اداروں، بینکنگ شعبے کے اعلیٰ عہدیداروں اور نجی شعبے کے نمائندوں نے شرکت کی۔
یہ بھی پڑھئے:آشا بھوسلے کی آواز میں ریکارڈ ہوا آخری فلمی نغمہ ۸؍ ستمبر کو ریلیز ہوگا
انہوں نے ہندوستان کے مالیاتی نظام میں جاری تبدیلیوں پر بھی روشنی ڈالی۔ سرمایہ بازاروں کی توسیع، بیمہ شعبے کی بڑھتی رسائی، فن ٹیک میں جدت اور یو پی آئی جیسے ڈجیٹل عوامی بنیادی ڈھانچے عالمی سرمایہ کاروں اور اداروں کے لیے نئے مواقع پیدا کر رہے ہیں۔مرکزی وزیر خزانہ نے کہا کہ ہندوستان میں بنیادی ڈھانچے کی تیزی سے توسیع ہو رہی ہے۔ نقل و حمل، توانائی، شہری اور ڈجیٹل بنیادی ڈھانچے میں طویل مدتی ادارہ جاتی سرمایہ کاری کے لیے بڑے پیمانے پر مواقع پیدا ہو رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے:ایران: باقر قالیباب کی اسکاٹ بیسنٹ پر تنقید، کہا اپنےعوام کی ضروریات پر توجہ دیں
وزیر خزانہ نے قومی سرمایہ کاری و بنیادی ڈھانچہ فنڈ (این آئی آئی ایف) کو ایک تجارتی نقطۂ نظر سے چلنے والا پلیٹ فارم قرار دیا، جو عالمی ادارہ جاتی سرمائے کو ہندوستان کے بنیادی ڈھانچے اور ترقی کے مواقع سے جوڑتا ہے۔ اس میں بنیادی ڈھانچہ فنڈ ۲؍ اور نجی بازار فنڈ۲؍ کے ذریعے سرمایہ کاری کے مواقع بھی شامل ہیں۔سیتا رمن نے گزشتہ ایک دہائی کے دوران ہندوستان میں ہونے والی اصلاحات پر مبنی تبدیلیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اثاثوں کے معیار کا جائزہ، دیوالیہ پن اور دیوالیہ پن سے متعلق ضابطہ، ۴؍آر حکمت عملی اور دیگر اصلاحات نے بینکنگ نظام کو مضبوط کیا ہے۔ درج شدہ تجارتی بینکوں کا مجموعی این پی اے تناسب مارچ ۲۰۱۸ء کے۱۸ء۱۱؍ فیصد سے کم ہوکر مارچ ۲۰۲۵ء میں ۳۱ء۲؍ فیصد رہ گیا ہے، جو گزشتہ ۲؍دہائیوں کی کم ترین سطح ہے۔ انہوں نے دونوں معیشتوں کی باہمی تکمیل پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان بڑے پیمانے، اقتصادی ترقی اور مواقع فراہم کرتا ہے، جبکہ کنیڈا طویل مدتی سرمایہ، ادارہ جاتی صلاحیت اور مہارت لے کر آتا ہے۔