امریکی پابندیوں کی وجہ سے نئی دہلی نے ۲۰۱۹ء سے ہی کراکس سے ایندھن کی درآمد اور تجارت کومحدود کرنا شروع کردیاتھا۔
وینزویلا پر امریکی حملے کے بعد فوج کو کراکس کی سڑک پر دیکھا جاسکتاہے، اس حملے نے عالمی معیشت کو تہہ و بالا کردیا ہے۔ تصویر: آئی این این
وینزویلا جہاں معدنی تیل کا سب سے بڑا ذخیرہ ہے، پر امریکی حملے، صدر مادورو کو اغوا کر لینے اور وہاں کے تیل پر کنٹرول قائم کرنے کے ٹرمپ کے اعلان کے بعد ایندھن سے متعلق عالمی سپلائی چین متاثر ہوگی جس کا چین سمیت کئی ممالک پر گہرا اثر پڑنے کا اندیشہ ہے تاہم ہندوستان نے اطمینان کا اظہار کیا ہے کہ یہاں اس کا اثر بہت معمولی ہوگا۔اعداد و شمار کے تجزیہ سے اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ وینزویلا پر امریکہ کے حملے کا نئی دہلی کی توانائی کی سپلائی اور سیکوریٹی پر براہِ راست اثر نہ کے برابر ہونے کا امکان ہے۔
وزارتِ تجارت و صنعت کے تازہ اعداد و شمار سے معلوم ہوتا ہے کہ موجودہ مالی سال میں نومبر۲۰۲۵ء تک ہندوستان نے وینزویلا سے ۳ء۲۵۵؍ ملین ڈالر مالیت کا تیل درآمد کیا جو اس عرصے کے دوران ملک کی مجموعی تیل درآمدات کا صرف ۰ء۳؍ فیصد ہے۔ امریکہ کی پابندیوں اور ممکنہ ثانوی پابندیوں کی دھمکیوں کے پیش نظر ہندوستان نے ۲۰۱۹ءکے بعد سے ہی وینزویلا سے تیل کی درآمدات اور تجارتی روابط میں کمی شروع کردی تھی۔گلوبل ٹریڈ ریسرچ انیشی ایٹو کے بانی اور ہندوستانی حکومت کے سابق ڈائریکٹر جنرل آف فارین ٹریڈ اجے سریواستو کے مطابق ’’کم تجارتی حجم، موجودہ پابندیوں کی رکاوٹوں اور جغرافیائی فاصلے کو دیکھتے ہوئے وینزویلا میں حالیہ تبدیلیوں اور اس کی موجودہ صورتحال سے ہندوستان کی معیشت یا توانائی کی سلامتی پر کسی بامعنی اثر کی توقع نہیں ہے۔‘‘
وینزویلا تیل برآمد کرنے والے ممالک کی تنظیم (اوپیک) کا رکن ہے، جو عالمی تیل منڈی پر بڑی حد تک غلبہ رکھنے والے ممالک کا گروپ ہے۔ تاہم دیگر تیل پیدا کرنے والے ممالک کے مقابلے میں وینزویلا اس وقت نسبتاً کم مقدار میں خام تیل پیدا کرتا ہے۔اوپیک کے اعداد و شمار کے مطابق وینزویلا اوپیک کی مجموعی تیل برآمدات کا تقریباً۳ء۵؍ فیصد اور عالمی تیل رسد کا لگ بھگ ایک فیصد فراہم کرتا ہے۔
تاہم، رسد کی یہ نسبتاً کم سطح وینزویلا پر عائد امریکی پابندیوں کی وجہ سے ہے۔ وینزویلا کی زیادہ تر تیل کی سپلائی چین کو جاتی ہے۔ وینزویلا میں امریکہ کی کارروائی کے بعد ٹرمپ نے اعلان کیا کہ امریکہ بنیادی طور پر وینزویلا کی تیل کی سپلائی کو اپنے کنٹرول میں لے لے گا۔حملے کے بعد اپنے خطاب میں ٹرمپ نے کہا ہے کہ ’’ہم تیل کے بنیادی ڈھانچے کی ازسر نو تشکیل دیں گے، جس پر اربوں ڈالر لاگت آئے گی اور اس کی ادائیگی براہِ راست تیل کمپنیاں کریں گی۔ اور ہم تیل کی پیداوار کو اس طرح جاری کریں گے جیسے اسے ہونا چاہیے۔‘‘ ٹرمپ یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ وینزویلا کے انتظامات اب امریکہ کی مرضی سے چلیں گے۔