کسی بھی قسم کے اجتماع، احتجاج یا مظاہرے پر پابندی ،شہریوں کو سڑکوں پرنکلنے سے منع کردیا گیا۔
نیپال میں کر فیو کےبعد خالی سڑک۔ تصویر: آئی این این
نیپال اور ہندوستان کی سرحد سے متصل شہر بیرگنج میں مسجد میں توڑ پھوڑ، لوٹ مار اور مسلمانوں کی املاک پر حملوں کے بعد حالات شدید کشیدہ ہو گئے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق شہر میں کسی بھی قسم کے اجتماع، احتجاج یا مظاہرے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے اور شہریوں کو سڑکوں پر نکلنے سے منع کردیا گیا ہے۔
مسجد کی بے حرمتی کےخلاف عوام سڑکوں پر نکل آئے اور احتجاج درج کرایا۔ اس دوران پولیس نےمظاہرین کو منتشر کرنے کے لئے آنسو گیس کی شیلنگ کردی جبکہ کئی مظاہرین کو حراست میں لے لیا۔
پولیس نے مقامی افراد کی مدد سے توہین آمیز ویڈیو بنانے والے ۲؍ نوجوانوں کو گرفتار کرکے معاملے پر قابو پانے کی کوشش کی ۔ اس کے باوجود ایک مسجد میں توڑ پھوڑ کی گئی۔
رپورٹس کے مطابق مسجد کی بے حرمتی کی خبر سامنے آتے ہی علاقے کی مسلم برادری میں شدید غم و غصے کی لہر دوڑ گئی اور احتجاج شروع ہوگیا۔ ہندو آبادی کے افراد بھی مسلمانوں کے احتجاج کے ردعمل میں سڑکوں پر نکل آئے جس کے بعد دونوں جانب سے مظاہروں کا آغاز ہوگیا۔ پولیس نے صورتحال کو قابو میں رکھنے کے لئے آنسو گیس کا استعمال کیا اور متعدد مظاہرین کو گرفتار کرلیا۔ رپورٹس کے مطابق جھڑپوں کے دوران چند پولیس اہلکاروں کے زخمی ہونے کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ کرفیو کے دوران کسی کو بھی گھروں سے باہر نکلنے کی اجازت نہیں ہوگی اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔واضح رہے کہ اتوار کو ہندو انتہاپسند عناصر نے مسجد پر دھاوا بولا اور لوٹ مار کی جس کے بعد مقامی مسلمان شدید غم و غصےمیں ہیں۔