اس سوال کے ساتھ کانگریس نے الزام عائد کیا کہ مودی سرکار اپنی مجوزہ حلقہ بندی قانون سازی کیلئے ضروری حمایت حاصل کرنے میں ناکامی کے بعد وہ اجلاس کوباقاعدہ ختم کرنے میں تاخیر کررہی ہے۔
EPAPER
Updated: October 13, 2026, 11:37 AM IST | Agency | New Delhi
اس سوال کے ساتھ کانگریس نے الزام عائد کیا کہ مودی سرکار اپنی مجوزہ حلقہ بندی قانون سازی کیلئے ضروری حمایت حاصل کرنے میں ناکامی کے بعد وہ اجلاس کوباقاعدہ ختم کرنے میں تاخیر کررہی ہے۔
کانگریس کے جنرل سیکریٹری انچارج مواصلات جے رام رمیش نے پیرکو نریندر مودی حکومت پر الزام لگایا کہ وہ اپنی مجوزہ حلقہ بندی قانون سازی کیلئے ضروری حمایت حاصل کرنے میں ناکام رہنے کے بعد پارلیمنٹ کے سیشن کو باقاعدہ طور پرملتوی کرنے میں تاخیر کر رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مانسون سیشن۱۳؍ اگست کو غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کیے جانے کے بعد سے اب تک۶۰؍ دن سے زیادہ ہوگئے لیکن اسے معطل نہیں کیا گیا ہے۔’ایکس‘ پر ایک پوسٹ میں جے رام رمیش نے کہا کہ پارلیمانی اجلاس کے ملتوی ہونے اور اس کے باقاعدہ التوا کے درمیان کا وقفہ’بہت پہلے ہی تمام ریکارڈ توڑ چکا ہے‘، جو۲۰۱۵ء کے مانسون سیشن کے بعد کے۲۸؍ دنوں کے سابقہ ریکارڈ سے بھی آگے نکل گیا ہے۔انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت اپنے مجوزہ حلقہ بندی بل کیلئے لوک سبھا میں ضروری دو تہائی اکثریت حاصل کرنے میں ناکام رہی ہے۔ انہوں نے لکھا کہ این ڈی اے کے کئی اتحادیوں نے بھی اس پر اپنی تحفظات کااظہار کیا ہے۔ ان تحفظات نے مودی حکومت کی کوششوں کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان میں سے کچھ اتحادی اب مجوزہ قانون سازی کی مخالفت میںکھل کر بولنے لگے ہیں۔
جے رام رمیش نے اس پارلیمانی تعطل کو ’گیانیش گیٹ‘ سے جوڑا، جو چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف اپوزیشن کی مہم اور الیکشن کمیشن آف انڈیا (ای سی آئی) کے کام کاج سے متعلق اس کے الزامات کا حوالہ ہے۔ انہوںنے کہا کہ ’’وزیراعظم اور وزیر داخلہ کے ناپاک ارادے اپوزیشن کے اتحاد اور یکجہتی کی وجہ سے۱۷؍ اپریل کو لوک سبھا میں بری طرح ناکام ہو گئے تھے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: دہلی اور اطراف میں تیز بارش، ہریانہ اور پنجاب کیلئے انتباہ
انہوں نے الزام لگایا کہ اپوزیشن نے وزیراعظم مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ کی جانب سے اپنے ایجنڈے کو آگے بڑھانے کی کوششوں کی سخت مزاحمت کی ہے۔ انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اپوزیشن کی کچھ اتحادی جماعتوں کو تقسیم کرنے کی کوششوں کے باوجود اُن کا اتحاد برقرار رہا۔انہوںنے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کوملتوی کرے اورحلقہ بندی پر ایک بامعنی کل جماعتی بات چیت کا آغاز کرے، جس میں انتخابی حلقوں کی ازسرنو حد بندی شامل ہے۔ انہوں نے دلیل دی کہ سیاسی نمائندگی پر دور رس اثرات مرتب کرنے والے اس عمل کو وسیع ترمشاورت اور جامع سیاسی تفہیم کے بغیر آگے نہیں بڑھایا جا سکتا۔
حلقہ بندی تنازع حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ایک اہم معاملہ بن کر ابھرا ہے، جس میں مجوزہ قانونی ڈھانچے، پارلیمانی نمائندگی کی تقسیم اور حلقوں کی حد بندی کے اثرات سے متعلق سوالات شامل ہیں۔ اس عمل کیلئے ضروری آئینی ترمیمات کو پارلیمانی اکثریت حاصل کرنا ہوگی، جس کی وجہ سے سیاسی اتفاقِ رائے اور حکومت کی حمایت حاصل کرنے کی صلاحیت اس کے قانون سازی کے منصوبوں کیلئے انتہائی اہم ہو گئی ہے،تاہم،جے رام رمیش نے اس بات پر زور دیا کہ حکومت کو پہلے الیکشن کمیشن اور انتخابی عمل کی ساکھ کے حوالے سے اپوزیشن کے خدشات کو دور کرنا چاہئے۔ کانگریس نے سی ای سی گیانیش کمار سے استعفیٰ، ووٹر فہرستوں کی خصوصی تفصیلی نظرثانی (ایس آئی آر) کے عمل کو ملتوی کرنے اور انتخابی نظام پر عوام کا اعتماد بحال کرنے کیلئے اصلاحی اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔
انتخابی نظام کو ’بہت بری طرح متاثر‘ کرنے کا الزام لگاتے ہوئے، انہوںنے سوال اٹھایا کہ جن پر اپوزیشن کی جانب سے اسے کمزور کرنے کا الزام لگایا گیا ہے، کیا ان سے خود اصلاحی کارروائی کی امید کی جا سکتی ہے۔ کانگریس نے الیکشن کمیشن کے ایس آئی آر اور متعلقہ فیصلوں پر بار بار تشویش ظاہر کی ہے اور یہ دلیل دی ہے کہ عدم شفافیت اور مناسب تحفظات کی کمی کی وجہ سے اہل ووٹروں کو فہرستوں سے خارج کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کانگریس کے اس موقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ ’’بالآخر آئین ہی غالب آئے گا اور عوام کا عزم فتح یاب ہوگا‘‘۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو مناسب مشاورت کے بغیر آگے بڑھنے کے بجائے اپوزیشن کے خدشات کا جواب دینا چاہیے۔